برائٹ نائٹ میں عشاء کی نماز کا حکم کیا ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جن علاقوں میں عشاء کا وقت نہیں آتا وہاں نماز کیسے ادا کی جائے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ
(۱) یورپ میں آج کل برائٹ نائٹ (Bright Night) کا سلسلہ ہے جسے بی نائٹ بھی کہتے ہیں اور اس میں حنفی عشا کا وقت نہیں آتا، تو ایسی صورت میں کیا عشا معاف ہو جائے گی؟
(۲) نیز یہاں بعض علاقوں میں عشا کا وقت تو آتا ہے، لیکن رات میں لیٹ، مثلاً کہیں گیارہ، کہیں بارہ، کہیں ایک بجے کے بعد اور وہاں لوگ شافعی وقت پر عشا پڑھ لیتے ہیں، کیا یہ درست ہے اور ہم ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ اتنی لیٹ تک جاگنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر جب صبح فجر کا وقت بھی جلدی ہو اور کام پر بھی جانا ہو؟ اور اسی طرح بی نائٹ کے آنے سے کچھ دن پہلے اور بعد ان علاقوں میں بھی حنفی عشا کا وقت بہت لیٹ آتا ہے، کیا ان راتوں میں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے؟
جواب
(۱) یورپ کے وہ علاقے جہاں سال کی بعض راتیں ایسی آتی ہیں کہ جن میں امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول کے مطابق نماز عشا کا وقت داخل ہی نہیں ہوتا، ایسی راتوں میں بھی عشا معاف نہیں، بلکہ صاحبین یعنی امام اعظم کے شاگردانِ رشید امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کے قول پر عمل کرتے ہوئے نماز عشا پڑھیں۔ صاحبین کے قول پر وقت عشا وہی ہے جو امام شافعی اور دیگر ائمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے نزدیک ہے۔
(۲) نیز ایسے علاقے یا راتیں جن میں امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول کے مطابق نماز عشا کا وقت تو شروع ہوتا ہے، مگر کافی تاخیر سے کہ اس وقت تک جاگنا عموماً حرج و مشقت کا موجب بنتا ہے، تو وہاں والوں کے لیے ان راتوں میں صاحبین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کے قول کے مطابق نماز عشا پڑھ لینے کی اجازت ہے، البتہ جب یہ مشقت والے ایام گزر جائیں تو دوبارہ امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول کی طرف لوٹ آیا جائے۔
اس مسئلے کی تفصیل کچھ یوں ہے:
نماز عشا کا وقت با اتفاقِ ائمہ کرام شفق (Twilight) غائب ہونے پر شروع ہوتا ہے، مگر شفق کی مراد میں دو آرا ہیں: (۱) امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک اس شفق سے مراد شفق ابیض ہے، اور (۲) امام اعظم کی ایک روایت، ائمہ ثلاثہ اور صاحبین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے مطابق اس شفق سے مراد شفق احمر ہے۔
اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ جب سورج مکمل ڈوب جائے یعنی اس کا اوپر والا کنارہ مغرب کی جانب کے دائرۂ افق حقیقی (Horizon Circle)
سے ملے تو اسے غروب آفتاب شرعی کہتے ہیں۔ جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو اس کے دیر بعد تک آسمان پر سرخ روشنی (Red Light) پھیلی ہوتی ہے، اسی سرخ روشنی کو شفق احمر (Nautical Twilight) کہتے ہیں۔ یہ سرخ روشنی سورج کے بارہ درجے (12 Degrees) زیر افق جانے پر ختم ہوتی ہے۔ اس سرخ روشنی کے غائب ہونے کے بعد مغرب کی جانب کچھ سفید روشنی (White Light) جنوباً شمالاً موجود رہتی ہے جسے شفق ابیض (Astronomical Twilight) کہتے ہیں۔ یہ سفید روشنی سورج کے اٹھارہ درجے (18 Degrees) زیر افق جانے پر ختم ہوتی ہے، یہی جدید تحقیق اور ماہرین فن توقیت و ہیئت کی رائے ہے۔
احناف کے ہاں سیدنا امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قول یعنی غروبِ شفقِ ابیض پر وقت عشا کا شروع ہونا مختار و راجح ہے اور اسی پر اعتماد ہے، لہذا عام حالات میں اس قول سے عدول ہرگز جائز نہیں۔ اگرچہ قولِ صاحبین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما یعنی غروبِ شفقِ احمر پر ابتدائے وقت عشا ہونے کو بھی مفتیٰ بہ قرار دیا گیا ہے، مگر جہاں نہ ضرورت ہواور نہ ہی اس قول پر تعاملِ ناس، مثلاً پاک و ہند وغیرہ وہاں فتوی امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی کے قول پر ہے اور اسی کی پابندی لازم ہے۔
تاہم زمین کی شمالی جانب تقریباً ساڑھے اڑتالیس درجہ(48º33’44) عرض بلد سے آگے ایسے ممالک / علاقے ہیں، جہاں سال کی کچھ راتوں (تحویل سرطان Summer / Solstice اور اس کے آس پاس کی راتوں) میں قول امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر عشا کا وقت نہیں آتا؛ کیونکہ ان راتوں میں وہاں شفق ابیض غروب نہیں ہوتی کہ سورج زیر افق 18 ڈگری تک نہیں پہنچتا اور طلوع کی طرف بڑھ جاتا ہے، مثلاً ہالینڈ، سویڈن، یوکے اور شمالی فرانس وغیرہ۔ لہٰذا ایسی راتوں میں نماز عشا کے حوالے سے اصل حکم تو یہی ہے کہ ان راتوں کی عشا بطور قضا پڑھی جائے، جیسا کہ بہار شریعت وغیرہ میں ہے، لیکن علمائے کرام نے بر بنائے ضرورت احناف کے دوسرے قول یعنی قول صاحبین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما پر نماز عشا ادا کرنے کا فتوی دیا ہے؛ کیونکہ وہ بھی قوی اور مفتیٰ بہ ہے۔
نیز مذکورہ عرض بلد سے نیچے وہ ممالک / علاقے کہ جہاں امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول پر عشا کا وقت تو سارا سال آتا ہے، مگر موسم گرما کی بعض راتوں یا ہفتوں میں اتنی تاخیر سے ہوتا ہے کہ اس وقت تک جاگنا عام آدمی کے دینی و دنیوی مشاغل کے لیے حرج و مشقت کا باعث ہے، مثلاً فرانس کے جنوبی اور اٹلی و اسپین کے شمالی علاقے وغیرہ، تو یہاں کے رہنے والوں کے لیے علمائے کرام نے دفع حرج کے پیش نظر ان راتوں میں بھی صاحبین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کے قول کے مطابق نماز عشا پڑھ لینے کی رخصت دی ہے، مگر جب یہ مشقت والے ایام گزر جائیں تو دوبارہ امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے راجح قول کی طرف لوٹ آیا جائے؛ کیونکہ وہی احوط اور اقوی ہے، نیز جن راتوں میں قول صاحبین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما پر عمل ہو تو مغرب کے حوالے سے بھی اسی کی پابندی ضروری ہے۔ یہی حکم بی نائٹ والے علاقوں میں ان راتوں سے پہلے اور بعد کی راتوں میں عشا کے متعلق ہوگا۔ واضح رہے! اگر کوئی اس حکم رخصت پر عمل کی بجائے عزیمت پر عمل کرتے ہوئے ان راتوں میں بھی امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قول پر عشا پڑھے تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں، بلکہ بہتر ہے لیکن اس پر دوسروں کو مجبور نہ کرے۔
جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، مسند احمد، مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ کی حدیث پاک میں نماز عشا کا وقت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا: صلى العشاء حين غاب الشفق“ ترجمہ: اور جبریل امین (علیہ السلام) نے عشا کی نماز اس وقت ادا کی جب شفق غائب ہو چکی تھی۔ (جامع ترمذی، أبواب الصلاة، باب ما جاء في مواقيت الصلاة، جلد 1، صفحہ 187، حدیث 149، دار الرسالة العالمية)
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں: الشفق هو البياض عند الإمام و هو مذهب أبي بكر الصديق و عمر و معاذ و عائشة رضي اللہ عنهم و عندهما و هو رواية عنه هو الحمرة و هو قول ابن عباس و ابن عمر“ ترجمہ: امام اعظم کے نزدیک شفق سفید روشنی ہے اور یہی سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا معاذ، سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا مذہب ہے، اور صاحبین کے نزدیک شفق سرخ روشنی ہے، یہ امام اعظم سے بھی ایک روایت ہے اور یہی سیدنا ابن عباس و سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا قول ہے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 258، دار الكتاب الإسلامي)
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مغرب کا وقت سپیدی ڈوبنے تک ہے، یعنی چوڑی سپیدی کہ جنوباً شمالاً پھیلی ہوتی اور بعد سرخی غائب ہونے کے تا دیر باقی رہتی ہے، جب وہ نہ رہی وقت مغرب گیا اور عشا آئی دراز سپیدی کہ صبح کاذب کی طرح شرقاً غرباً ہوتی ہے، معتبر نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 153، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نصاب توقیت میں ہے: غروب آفتاب کے بعد آسمان پر شفق احمر (Red Light) پھیلی ہوتی ہے۔ شفق احمر کے ڈوبنے (The end of Nautical Twilight) پر ائمہ ثلاثہ و صاحبین رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک ابتدائے عشا ہوتی ہے۔ علمائے ہند کے فتوے کے مطابق غروب شفق احمر 12 درجات انحطاط شمس یا 102 درجہ بُعد سمتی پر ہوتی ہے۔ غروب آفتاب کے بعد آسمان پر شفق احمر (Red Light) پھیلی ہوتی ہے، شفق احمر کے ڈوبنے کے بعد باقی رہ جانے والی سفیدی کے ڈوبنے (The end of Astronomical Twilight) پر عشا حنفی کی ابتدا ہوتی ہے۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے لیے بھی صبح صادق کی طرح انحطاط شمس (Depression of Sun) کے 18 درجے ارشاد فرمائے۔ (نصاب توقیت، حصہ 1، صفحہ 104 - 105، مکتبة المدینہ، کراچی)
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: اس پر تمام ائمہ کا اجماع ہے کہ مغرب کا وقت غروب شفق تک ہے، اختلاف اس میں ہے کہ شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے ساتھ ساتھ پیدا ہوتی ہے اور تھوڑی دیر کے بعد ختم ہو جاتی ہے، یا وہ سفیدی ہے جو سرخی کے بعد مغرب میں جنوبا و شمالا پھیلی رہتی ہے۔ . . . سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب یہ ہے کہ شفق سے مراد وہ سفیدی ہے جو سرخی کے بعد فوراً پیدا ہوتی ہے وہ جنوبا و شمالا افق کی جڑ تک رہتی ہے، یہ سفیدی صبح صادق کے مقابل ہے اور یہی قول امام، مفتی بہ اور راجح اور مختار ہے۔ (فتاوی جامع اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 137 - 138، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، یوپی)
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں: لا يفتى و يعمل إلا بقول الإمام الأعظم و لا يعدل عنه إلى قولهما أو قول أحدهما أو غيرهما إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل بخلافه كالمزارعة“ ترجمہ: فتوی اور عمل امام اعظم کے قول پر ہی ہوگا اور امام اعظم کے قول سے صاحبین یا کسی ایک صاحب یا ان کے علاوہ کسی اور کے قول کی طرف عدول نہیں کیا جاتا، ماسوائے ضرورت کے، جیسے کہ دلیل کا ضعیف ہونا یا اس کے خلاف تعامل ہو جانا، جیسے مزارعت (کے معاملہ میں ہوا)۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 259، دار الكتاب الإسلامي)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: علما تصریح فرماتے ہیں کہ مفتی مطلقاً قول امام پر فتوی دے اور قاضی عموماً مذہب امام پر فیصلہ کرے یعنی جب کوئی ضرورت، مثل تعامل المسلمین یا اجماع المرجحین علی الخلاف کے داعی ترک نہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 109، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: صحیح و راجح اور مختار اور مفتٰی بہ قولِ امام ہی ہے کہ شفق اس سفیدی کا نام ہے جو سرخی کے بعد پیدا ہوتی ہے، اس لیے کہ یہی قول امام ہے اور قول امام سے عدول بلا عذر شرعی جائز نہیں۔ (فتاوی جامع اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 145، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، یو پی)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) در مختار اور رد المحتار کے حوالے سے لکھتے ہیں: جن شہروں میں عشا کا وقت ہی نہ آئے کہ شفق ڈوبتے ہی یا ڈوبنے سے پہلے فجر طلوع کر آئے (جیسے بلغار و لندن کہ ان جگہوں میں ہر سال چالیس راتیں ایسی ہوتی ہیں کہ عشا کا وقت آتا ہی نہیں اور بعض دنوں میں سیکنڈوں اور منٹوں کے لیے ہوتا ہے) تو وہاں والوں کو چاہیے کہ ان دنوں کی عشا و وتر کی قضا پڑھیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 451، مکتبة المدینہ، کراچی)
مفتی نظام الدین رضوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: ہالینڈ میں مذہب امام اعظم پر وقت عشا نہ پایا جائے تو کیا کیا جائے؟ اس بارے میں اصل مذہب تو یہی ہے کہ ان دنوں کی نماز عشا قضا کی جائے . . . اور بر بنائے حاجت اس کی بھی گنجائش ہے کہ مذہب صاحبین کے مطابق نماز عشا پڑھ لی جائے۔ (حاشیہ فتاوی جامع اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 146، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، یو پی)
علامہ محدث محمد عابد بن احمد سندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1257ھ / 1841ء) لکھتے ہیں: و في الجوهرة و قولهما اوسع للناس و قوله احوط و في الغاية قوله اوثق و قولهما ارفق“ ترجمہ: اور جوہرۃ میں ہے کہ صاحبین کا قول لوگوں کے لیے زیادہ وسعت والا ہے اور امام اعظم کا قول زیادہ احتیاط والا ہے، اور الغایۃ میں ہے کہ امام اعظم کا قول زیادہ وثوق والا ہے اور صاحبین کا قول زیادہ نرمی والا ہے۔ (طوالع الأنوار شرح الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 452، مخطوطه)
علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1231ھ / 1815ء) لکھتے ہیں: و صحح كل من القولين وأفتى به“ ترجمہ: اور ان دونوں قولوں میں سے ہر ایک کی تصحیح کی گئی ہے اور اس کے مطابق فتوی دیا گیا ہے۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، کتاب الصلاة، صفحہ 177، دار الکتب العلمیة، بیروت)
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ / 2000ء) لکھتے ہیں: جہاں کچھ دنوں میں شفق ابیض کے غروب اور صبح صادق کے طلوع میں اتنا وقت نہ رہتا ہو کہ عشا کی نماز اور وتر پڑھی جا سکے، ان دنوں میں صاحبین کے مذہب کے مطابق شفق احمر کے غروب ہوتے ہی عشا اور وتر پڑھی جا سکتی ہے، اگر چہ مذہب امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر عشا کا وقت شفق ابیض کے غروب کے بعد شروع ہوتا ہے، (یہ) ہر اعتبار سے قوی اور مختار للفتوی ہے ، مگر صاحبین کا مذہب بھی ضعیف اور ساقط الاعتبار نہیں، بلکہ باقوت ہے، حتی کہ اس کے بارے میں بھی علیہ الفتوی وارد ہے، جو ترجیح کا سب سے قوی لفظ ہے۔ . . . جب یہ اجلہ فقہا صاحبین کے اصل مذہب کو علیہ الفتوی سے مؤکد فرما رہے ہیں تو مذکورہ بالا بلاد کے مذکورہ اوقات میں اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“ (فتاوی جامع اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 148، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، یو پی)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: جب صاحبین کا قول بھی ہمارے بہت سے علمائے احناف نے اختیار فرمایا، حتی کہ سب سے زیادہ قوی لفظ ترجیح عليه الفتوی تک فرمایا اور صورت مذکورہ بالا میں (یعنی جب قول امام پر وقت عشا نہیں آتا) ضرورت بھی ہے تو اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ دفع فتنہ کے لیے اس پر عمل ضروری ہے۔ (فتاوی جامع اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 158، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، یو پی)
علامہ محمد عابد بن احمد سندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1257ھ / 1841ء) لکھتے ہیں: وفي التجنيس ينبغي ان يؤخذ بقولهما في الصيف و بقوله في الشتاء“ ترجمہ: اور تجنیس میں ہے کہ موسم گرما میں صاحبین کے قول پر عمل کیا جانا چاہیے اور موسم سرما میں امام اعظم کے قول پر۔ (طوالع الأنوار شرح الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 452، مخطوطه)
علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں: وقيل يؤخذ بقولهما في الصيف لقصر الليل و يقال البياض إلى ثلث الليل أو نصفه و في الشتاء لقوله بطولها وعدم بقاء البياض البتة“ ترجمہ: اور ایک قول یہ ہے کہ گرمیوں میں رات کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے صاحبین کے قول پر عمل کیا جائے اور کہا جاتا ہے کہ (اس لیے کہ گرمیوں میں) سفیدی ایک تہائی یا آدھی رات تک رہتی ہے (یعنی یہ حرج و مشقت کا باعث ہے)، اور سردیوں میں رات کے لمبے ہونے اور سفیدی کے بالکل باقی نہ رہنے کی وجہ سے امام اعظم کے قول پر عمل کیا جائے۔ (البنایة شرح الهدایة، کتاب الصلاة، باب المواقیت، جلد 2، صفحہ 28، المطبعة الخيرية)
مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے: (جہاں بعض ایام میں مذہب حنفی پر عشا کا وقت آتا ہے، مگر بہت تاخیر سے آتا ہے، اس وقت تک لوگوں کا جاگنا حرج و مشقت کا سبب ہوتا ہے، وہاں) ایسے ایام میں جو لوگ مشقت برداشت کر کے مذہب حنفی پر عمل کرتے ہیں، ان سے تعرض نہ کیا جائے، اس لیے کہ وہ اصل مذہب اور عزیمت پر کار بند ہیں۔ جو لوگ یہ مشقت اٹھانا نہیں چاہتے وہ مذہب صاحبین پر عمل کر کے فرض عشا سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں، یہ مذہب بھی قوی اور مفتی بہ ہے۔ (مجلس شرعی کے فیصلے، جلد 2، صفحہ 352 - 353، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، یوپی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر:FAM-1200
تاریخ اجراء: 28 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 16 مئی 2026ء