logo logo
AI Search

چار رکعت نفل نماز توڑنے پر قضا کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

چار رکعات نفل نماز شروع کر کے توڑ دی تو قضا کا حکم ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی نے نفل نماز شروع کی، تو کیا اسے توڑ دینے سے قضا واجب ہو گی؟ اور اگر کسی نے چار رکعت کی نیت سے نفل شروع کئے، پھر پہلی یا دوسری رکعت میں ہی توڑ دی، تو اب کتنی رکعتیں ادا کرے گا؟ سائل: سرمد لطیف ( اسلام آباد)

جواب

فقہ حنفی کی رُو سے نفل نماز قصداً شروع کرنے سے واجب ہو جاتی ہے، لہذا اسے پورا کرنا واجب اور بلا عذرِ شرعی توڑ دینا گناہ ہے اور اگر کسی نے توڑ دی، تو اس پر دو رکعت کی قضا لازم ہو گی، اگرچہ چار کی نیت سے شروع کی ہو، کیونکہ نفل کا ہر شفع (یعنی دو رکعت) علیحدہ علیحدہ نماز ہے۔

اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ﴾ ترجمہ کنز الایمان: ”اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے عمل باطل نہ کرو۔“ (پارہ 26، سورۃ محمد، آیت 33)

اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: ’’اس آیت میں عمل کو باطل کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے، لہٰذا آدمی جو عمل شروع کرے خواہ وہ نفلی نماز یا روزہ یا کوئی اور ہی عمل ہو، اس پر لازم ہے کہ اس کو باطل نہ کرے، بلکہ اسے پورا کرے۔“ (تفسیرِ صراط الجنان، جلد 9، صفحہ 325 تا 326، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

تنویر الابصار اور در مختار میں ہے: ’’لزم نفل شرع فیہ قصداً ولو عند غروب و طلوع واستواء فان افسدہ حرم الا بعذر ووجب قضاؤہ و قضی رکعتین لو نوی اربعاً‘‘ ترجمہ: نفل نماز قصداً شروع کرنے سے لازم ہو جاتی ہے، اگرچہ (مکروہ اوقات یعنی) سورج طلوع یا غروب ہونے یا استوا کے وقت شروع کی ہو، پس اسے توڑنا حرام ہے، مگر کسی (شرعی) عذر کی وجہ سے اور توڑنے سے اس کی قضا واجب ہو گی اور دو رکعتین قضا کرے گا اگرچہ چار کی نیت (سے شروع کی) ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الصلوۃ، جلد 2، صفحہ 574 تا 578، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی فیض الرسول میں ہے: ’’اگر نفل نماز قصداً شروع کر دے، تو اس کا پورا کرنا ضروری ہے اور قصداً شروع کر کے توڑ دے، تو اس کا دوبارہ پڑھنا ضروری ہے۔“ (فتاوی فیض الرسول، جلد 1، صفحہ 376، شبیر برادرز، لاہور)

بہار شریعت میں ہے: ’’نفل نماز قصداً شروع کرنے سے واجب ہو جاتی ہے کہ اگر توڑ دے گا قضا پڑھنی ہو گی،۔۔۔نفل نماز شروع کی اگرچہ چار کی نیت باندھی، جب بھی دو ہی رکعت شروع کرنے والا قرار دیا جائے گا کہ نفل کا ہر شفع (یعنی دو رکعت) علیحدہ علیحدہ نماز ہے۔“ (بھار شریعت، حصہ 4، صفحہ 669، 668، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7045
تاریخ اجراء: 25 صفر المظفر 1444ھ/22 ستمبر 2022ء