پندرہ دن سے زیادہ رکنے والا کب مقیم شمار ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اقامت کی نیت کے بغیرکسی جگہ پندرہ دن سے زیادہ رکنا ہو، تو کیاپوری نماز پڑھیں گے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مسافر کو معلوم ہے کہ میں نے 15 دن سے زیادہ رکنا ہے؟ لیکن وہ قیام کی نیت نہیں کرتا، تو کیا وہ مقیم ہوگا یا مقیم ہونے کے لئے نیت کرنا شرط ہے؟
جواب
نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، اس کے لئے زبان سے بولنا ضروری نہیں، اور جس شخص کو معلوم ہے کہ اس نے فلاں جگہ پندرہ دن قیام کرنا ہے، تو اس علم کے ضمن میں اس کی نیت بھی لا محالہ پائی جا رہی ہے، لہذا جس شخص نے یوں پندرہ دن سے زائد کسی جگہ قیام کرنا ہو اور اسے یقینی طور پر معلوم ہو کہ میں نے پندرہ دن رکنا ہی ہے، تو یہ شخص مقیم شمار ہوگا، اگرچہ قیام کی نیت نہ کرے۔ خلاصۃ الفتاوی میں ہے "فی الاصل النیۃ أن يقصد بقلبه فإن قصد بقلبه و ذكر بلسانه كان أفضل" ترجمہ: دراصل نیت دل میں ارادہ کرنے کا نام ہے، پس اگر کسی نے اپنے دل میں ارادہ کیا اور زبان سے تلفظ بھی کیا، تو یہ افضل ہے۔ (خلاصة الفتاوي، ج 1، ص 79، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی عالمگیری میں ہے ”الحجاج إذا وصلوا بغداد ولم ينووا الإقامة و عزموا أن لا يخرجوا إلا مع القافلة و يعلمون أن بين هذا الوقت و بين خروج القافلة خمسة عشر يوما فصاعدا يتمون أربعا“ ترجمہ: حاجی جب بغداد پہنچ جائیں اور اقامت کی نیت نہ کریں، لیکن ان کا یہ ارادہ ہو کہ وہ قافلے کے ساتھ ہی جائیں گے اورانہیں معلوم ہو کہ اس وقت سے قافلے کے نکلنے تک پندرہ دن یا اس سے زیادہ وقت ہے، تو وہ مکمل چار رکعات پڑھیں گے ۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 139، 140، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے جو شخص کہیں گیا اوروہاں پندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ نہیں مگر قافلہ کیساتھ جانے کا ارادہ ہے اور یہ معلوم ہے کہ قافلہ پندرہ دن کے بعد جائے گا تو وہ مقیم ہے اگرچہ اقامت کی نیت نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 747، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5128
تاریخ اجراء: 06 محرم الحرام 1448ھ / 22 جون 2026ء