logo logo
AI Search

آیت کریمہ کے بعد آمین کہنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

آیت کریمہ بطوردعاپڑھنے پر آمین کہنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

آیتِ کریمہ کو بطور  دُعا پڑھنا اور اس پر سننے والے حضرات کا آمین کہنا بالکل جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ احادیثِ مبارکہ میں آیتِ کریمہ کو بھی دُعا قرار دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ دعا مانگنے کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز آیتِ کریمہ ذکرِ الٰہی ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ ہر ذکر دعا ہے، لہٰذا جب آیت کریمہ بطورِ دعا پڑھنا جائز ہے تو اس پر سامعین حضرات کا ”آمین“ کہنا بھی جائز ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں آیت کریمہ کو بھی دعا قرار دیا گیا ہے، چنانچہ سُنن ترمذی شریف میں حضرت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:دعوة ذي النُّونِ إذ دعا و هو في بطنِ الحوت: (لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ) فإنه لم يدع بها رجل مسلم في شيء قط إلااستجاب اللّٰه له ترجمہ: حضرت یونس کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی، یہ تھی لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ تو جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی بھی مقصد کے لئے کبھی بھی دعا مانگے تو اللہ اسے قبول فرماتا ہے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث 3505، ص 1281،دار ابن کثیر)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ علیہ مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: یہ دعا حضرت یونس علیہ السلام کو رب تعالیٰ کی طرف سے القاء ہوئی، اسی دعا کی برکت سے آئی آفتیں ٹل جاتی ہیں، اڑی مشکلیں حل ہوجاتی ہیں ۔ ۔ ۔ رب تعالٰی کا وعدہ ہے کہ فرمایا: فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَ نَجَّیْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذٰلِکَ نُـنـجِی الْمُؤْمِنِیْنَ یعنی اس دعا کی برکت سے ہم نے انہیں بھی غم سےنجات دی اور تاقیامت مسلمانوں کو بھی اس کی برکت سے نجات دیا کریں گے۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 03، صفحہ 334، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

آیتِ کریمہ کے ساتھ دعا کرنے کی ترغیب کے متعلق، امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر کبیر میں لکھتےہیں: عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم انہ قال: ما من مکروب یدعو بھذا الدعاء الا استجیب لہ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت ہے کہ آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی مصیبت زدہ شخص اس دعا کے ساتھ دعا مانگے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔ (التفسیر الکبیر، سورۃ الانبیاء، تحت الآیۃ 87، ج 22، ص 181، دار احیاء التراث العربی)

آیت کریمہ ذکر  الٰہی ہے اور ہر ذکر دعا ہے، چنانچہ علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: فان کل دعاء ذکر و کل ذکر دعاء ترجمہ:بیشک ہر دعا ذکر ہے اور ہر ذکر دعا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الدعوات، جلد 05، صفحہ 218، مطبوعہ کوئٹہ)

ہردعا کے بعد آمین کہنے کے متعلق، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں: سنت یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کے بعد تلاوت کرنے والا اور سننے والا آمین کہہ لیا کرے، اسی طرح ہر دعا کے بعد آمین کہنا سنت ہے۔ (تفسیر نعیمی، جلد 01، صفحہ 105، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

آیتِ کریمہ پڑھ کر آمین کہنے کے متعلق، امام  اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوٰی رضویہ میں نماز  غوثیہ کے بعد کی جانے والی دعا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: و لیبدأ بیاارحم الراحمین ثلثا فان من قالہ ناداہ ملک موکل بہ ان ارحم الراحمین قد اقبل علیک و بیا بدیع السمٰوٰت و الارض یاذالجلال و الاکرام فانہ اسم  اللہ لاعظم علٰی قول و کذا تسبیح سیدنا ذی النون علی نبینا الکریم و علیہ الصلٰوۃ و التسلیم و لیختمہ باٰمین ثلثا فانہ خاتم الدعاء و مما خص اللہ تعالٰی بہ ھذہ الامۃ المرحومۃ ترجمہ: اور دعا کی ابتداء میں یا ارحم الراحمین تین مرتبہ کہے، کیونکہ جو شخص یہ کہتاہے تو اس کو مقرر فرشتہ جواب میں کہتا ہے کہ بیشک ارحم الراحمین تیری طرف متوجہ ہے اور یابدیع السمٰوٰت و الارض یاذالجلال والاکرام بھی ابتداء میں پڑھے کیونکہ ایک قول کے مطابق یہ اسم اعظم ہے، ایسے ہی حضرت سیدنا یونس علی نبینا الکریم و علیہ الصلاۃ والتسلیم کی تسبیح پڑھے اور دعا کے آخر میں تین مرتبہ آمین کہے کیونکہ یہ دعا کی مہر ہے اور یہ وہ عطیہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے خاص اس امت مرحومہ کو عطا فرمایا ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 07، ص 648، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5229
تاریخ اجراء: 16 صفر المظفر 1448ھ / 31 جولائی 2026ء