پچھلی شریعتوں کے احکامات پر عمل کرنے کے اصول کیا ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پچھلی شریعتوں پرعمل کرنے کے متعلق اصول
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا ہم پہلے نبیوں علی نبیناوعلیہم الصلوۃ و السلام کی شریعت پر عمل کرسکتے ہیں؟
جواب
سابقہ شریعتوں کے وہ احکام جو ہماری شریعت میں منسوخ نہ کیے گئے ہوں، ان پر عمل کیا جائے گا۔ البتہ! سابقہ شریعتوں کے وہ احکام جو ہماری شریعت میں منسوخ ہوچکے ہوں، ان پر عمل نہیں کیا جاسکتا، جیسے بیت المقدس کاقبلہ ہونا، پچھلی کئی شریعتوں میں تھا، لیکن ہماری شریعت میں منسوخ ہوچکا، اب اس پرعمل نہیں ہوسکتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ﴿وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ- وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا اور جو تم سے پہلے نازل کیا گیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (القرآن، پارہ 1، سورۃ البقرۃ، آیت: 4)
اس آیتِ مبارکہ کے تحت صراط الجنان میں ہے یاد رکھیں کہ جس طرح قرآن پاک پر ایمان لانا ہر مکلف پر فرض ہے اسی طرح پہلی کتابوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جو گزشتہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام پر نازل ہوئیں، البتہ ان کے جو احکام ہماری شریعت میں منسوخ ہو گئے، ان پر عمل درست نہیں مگر پھر بھی ایمان ضروری ہے مثلاً پچھلی کئی شریعتوں میں بیت المقدس قبلہ تھا، لہٰذا اس پر ایمان لانا تو ہمارے لیے ضروری ہے مگر عمل یعنی نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں، یہ حکم منسوخ ہوچکا۔ (صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 73، 74، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: شرائع سابقہ قطعا حجت ہیں جب تک اللہ و رسول انکار نہ فرمائیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 518، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: شرائع سابقہ کا ہم پر حجت ہونا ہی قطعی نہیں ائمہ اہلسنت کا مختلف فیہ ظنی مسئلہ ہے بعض کے نزدیک وہ اصلا حجت نہیں، نہ ان پر عمل جائز جب تک ہماری شرع سے کوئی دلیل قائم نہ ہو اور یہی مذہب اکثر متکلمین اور ایک گروہ حنفیہ و شافعیہ کا ہے۔ اور اسی پر امام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی اور امام فخرالدین رازی و یوسف آمدی ہیں۔ بعض کے نزدیک حجت ہیں جب تک نسخ پر دلیل قائم نہ ہو، اکثر حنفیہ اسی پر ہیں۔ ( فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 531، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صراط الجنان میں ہے گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے جو شرعی احکام قرآن یا حدیث میں تردید کے بغیر منقول ہوئے وہ ہمارے لئے بھی لائق عمل ہیں اور جوممانعت کے ساتھ نقل ہوئے ان پر ہمیں عمل جائز نہیں۔ (صراط الجنان، جلد 2، صفحہ 201، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5097
تاریخ اجراء: 24 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 10 جون 2026ء