logo logo
AI Search

کیا عید پر گلے ملنا سنت ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا عید پر گلے ملنا سنت ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا عید پر گلے ملنا سنت ہے؟ اگر ہاں تو جو اسے ناجائز کہے اس پر شریعت کا کیا حکم لگے گا؟

جواب

عید کے موقع پر معانقہ کرنا یعنی گلے ملنا، جیسا کہ مسلمانوں میں رائج ہے، شرعاً جائز و مستحسن ہے کہ یہ مسلمانوں میں باہمی الفت و انسیت کا سبب اور اظہارِ مسرت کا ایک طریقہ ہے، بلکہ معانقہ کی اصل خود احادیث طیبہ سے ثابت ہے، لہذا اپنی اصل کے اعتبار سے یہ سنت اور خاص عید پر رائج انداز کے اعتبار سے مباح ہے، اور اچھی نیت کے ساتھ مستحب و کارِ ثواب ہے۔ تاہم اگر کسی خاص صورت میں گلے ملنا محل فتنہ ہو، مثلاً خوبصورت امرد لڑکوں سے معانقہ کرنا کہ اس میں اندیشہ شہوت ہے تو اس مخصوص حالت میں ممنوع ہوگا، ورنہ عام معانقہ کے جواز پر علمائے کرام و فقہائے عظام کا اتفاق ہے۔

جو شخص عید پر معانقہ کرنے کو مطلقاً ناجائز ٹھہراتا اور اس سے منع کرتا ہے، وہ شریعت پر افترا کرنے والا ہے اور اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جائز کردہ فعل کو ناجائز بتا کر قرآن و حدیث کی سخت و عیدات کا مستحق ٹھہرتا ہے، ایسے شخص پر توبہ واجب ہے۔

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتےہیں: ما لقيته قط إلا صافحني وبعث إلي ذات يوم و لم أكن في أهلي فلما جئت أخبرت أنه أرسل لي فأتيته و هو على سريره فالتزمني فكانت تلك أجود و أجود“ ترجمہ: حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ ہمیشہ مجھ سے مصافحہ فرماتے۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (مجھے بلانے کے لیے) کسی کو بھیجا، میں اپنے گھر میں نہیں تھا، پھر جب میں آیا مجھے خبر دی گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یاد فرمایا تھا تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا درحالیکہ آپ اپنے تخت پر جلوہ فرما تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے گلے سے لگا لیا، اور یہ زیادہ عمدہ اور (ہر شے سے) زیادہ خوش گوار تھا۔ (سنن أبي داود، جلد 4، صفحہ 354، حدیث 5214 ، المكتبة العصريہ، بيروت)

تاریخ دمشق میں ہے: خرج رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم فلما رآه عثمان عانقه فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قد عانقت أخي عثمان فمن كان له أخ فليعانقه“ ترجمہ: (ایک روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے، جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ سے معانقہ فرمایا۔ تو رسول محتشم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے بھائی عثمان سے معانقہ کیا ہے، پس جس کا کوئی بھائی ہو اسے چاہیے کہ اپنے بھائی سے معانقہ کرے۔ (تاريخ دمشق لابن عساكر، جلد 39، صفحہ 103، حدیث 7880، دار الفكر، بيروت)

الاخوان لابن ابی الدنیا اور کنز العمال میں ہے: عن تميم الداري قال: سئل النبي صلى اللہ عليه وسلم عن معانقة الرجل الرجل إذا هو لقيه فقال: كانت تحية الأمم وخالص ودهم وأول من عانق إبراهيم عليه السلام“ ترجمہ: حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک آدمی کے دوسرے آدمی کے ساتھ جب وہ اس سے ملے تو معانقہ کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: یہ پچھلی امتوں کی تحیت اور ان کی اچھی دوستی (کا طریقۂ اظہار) تھا، اور سب سے پہلے معانقہ کرنے والے حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ (الإخوان لابن أبي الدنيا، صفحہ 180 - 181، حدیث 125، دار الكتب العلمية، بيروت) (کنز العمال، كتاب الصحبة، جلد 9، صفحہ 133، حدیث 25360، مؤسسة الرسالة)

شیخ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1052ھ / 1642ء) اول الذکر حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: و علم من هذا الحديث جواز المعانقة في غير حالة القدوم إظهارا لشدة المحبة و العناية“ ترجمہ: اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حالت آمد (سفر سے واپسی کے موقع) کے علاوہ بھی، شدتِ محبت و شفقت کے اظہار کے لیے معانقہ (گلے ملنا) جائز ہے۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، جلد 8، صفحہ 48، دار النوادر، دمشق)

علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں: الخلاف فيما إذا اعتنق الرجلان عاريين عما عدا الإزار أما إذا كان على كل منهما قميص فلا كراهة بالإجماع“ ترجمہ: اختلاف اس صورت میں ہے جب دو برہنہ آدمی یعنی جو ازار کے بغیر ہوں ایک دوسرے کو گلے لگائیں، لیکن اگر ان دونوں میں سے ہر ایک پر قمیص ہو تو بالاجماع کوئی کراہت نہیں۔ (نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار، جلد 13، صفحہ 447، مطبوعہ قطر)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: کپڑوں کے اوپر سے معانقہ بطور بر و کرامت و اظہار محبت بے فساد نیت و مواد شہوت بالاجماع جائز، جس کے جواز پر احادیث کثیرہ و روایات شہیرہ ناطق، اور تخصیص سفر کا دعوی محض بے دلیل، احادیث نبویہ و تصریحاتِ فقہیہ اس بارے میں بر وجہ اطلاق وارد اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا واجب اور بے مدرک شرعی تقیید و تخصیص مردود و باطل ، ورنہ نصوصِ شرعیہ سے امان اٹھ جائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 603، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کچھ آگے فرماتے ہیں: بحمد اللہ تعالیٰ ہماری تحقیقات رائقہ سے آفتاب روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ معانقۂ عید کو بدعت مذمومہ سے کچھ علاقہ نہیں، بلکہ وہ سنت و مباح کے اندر دائر ہے، یعنی من حیث الاصل سنت اور من حیث الخصوص مباح، اور بقصد حسن محمود و مستحسن۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 638، رضا فاؤنڈیشن، لاور)

سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ہر مباح نیتِ حسن سے مستحب ہو جاتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 452، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: معانقہ کرنا بھی جائز ہے جبکہ خوف فتنہ اور اندیشۂ شہوت نہ ہو۔ چاہیے کہ جس سے معانقہ کیا جائے وہ صرف تہبند یا فقط پاجامہ پہنے ہوئے نہ ہو، بلکہ کرتا یا اچکن بھی پہنے ہو یا چادر اوڑھے ہو یعنی کپڑا حائل ہو، حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے معانقہ کیا۔ بعد نماز عیدین مسلمانوں میں معانقہ کا رواج ہے اور یہ بھی اظہار خوشی کا ایک طریقہ ہے۔ یہ معانقہ بھی جائز ہے، جبکہ محل فتنہ نہ ہو، مثلاً امرد خوبصورت سے معانقہ کرنا کہ یہ محل فتنہ ہے۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 471، مکتبة المدینہ، کراچی)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اس میں شک نہیں کہ بے منع خدا و رسول منع کرنے والا شریعت مطہرہ پر افتراء کرتا ہے اور اللہ عزوجل پر بہتان اٹھاتا ہے اور اس کا ادنی درجہ فسق شدید و کبیرہ و خبیثہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 175، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

نوٹ: امام اہل سنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عید کے موقع پر معانقہ کرنے موضوع کی نفیس تحقیق اپنے رسالے وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید میں فرمائی ہے جس میں کثیر احادیث اور عبارات فقہا جمع فرمائیں اور اعتراضات کے جوابات بھی دئیے ہیں۔ اس کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1213
تاریخ اجراء: 13 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 30 مئی 2026ء