logo logo
AI Search

علماء اور پیر صاحبان کے ہاتھ پاؤں چومنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عالم دین اور پیر صاحب کے ہاتھ پاؤں چومنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا امام و خطیب، علماء و مشائخ اور پیر صاحبان کے ہاتھ اور پاؤں چومنا درست ہے؟ اس حوالے سے تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

علماء و مشائخ اہل سنت اور باعمل و باشرع امام و خطیب اور پیر صاحبان کے ہاتھ اور پاؤں چومنا شرعاً جائز ہے، بلکہ اچھی و محمود نیت سے یہ مستحب و مندوب اور مسنون و محبوب عمل ہے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے نبی پاک علیہ السلام کے مبارک ہاتھ اور پاؤں چومنا ثابت ہے، اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا باہم کسی کے ہاتھ چومنا، تابعین کرام کا صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ہاتھ چومنا ثابت ہے اور آج تک دنیا بھر میں مشائخ و علماء کے ہاتھ چومنا مسلمانوں میں رائج ہے۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں، چومنے کے حوالے سے الادب المفرد للبخاری، سنن ابی داود، مشکاۃ المصابیح، شعب الایمان، السنن الکبری للبیہقی میں حدیث پاک ہے کہ حضرت زارع بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وفد عبد القیس رضی اللہ عنہم بارگارہ رسالت مآب، حضور سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم میں پہنچا، اور ان کی نگاہیں دورسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے جمال جہاں آراء پر پڑیں تووہ بے تاب ہو کر اپنی اپنی سواریوں سے جلدی جلدی اترے اور دوڑ کر بارگاہ رسالت میں پہنچے اور پھر کیا عمل کیا چنانچہ سنن ابی داود میں ہے: فنقبل ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و رجلہ‘‘ ترجمہ: پھر ہم سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے ہاتھ اور پاؤں چومنے لگے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب في قبلۃ الرجل الخ، جلد 7، صفحہ 512، دار الرسالة العالمية)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھوں کو بوسہ دیتیں اس کے متعلق سنن ابو داؤد میں ہے: حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”و كان إذا دخل عليها قامت إليه، فأخذت بيده فقبلته، و أجلسته في مجلسها“ ترجمہ: اور جب حضور انور علیہ الصلو ۃ و السلا م سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پا س تشریف لا تے تو وہ آپ علیہ السلام کے لئے کھڑی ہوجاتیں آپ کا ہا تھ پکڑتیں، اسے بوسہ دیتیں اور آپ کو اپنی جگہ بٹھا لیتیں۔ (سنن أبي داود، باب ما جاء في القيام، جلد 4، صفحہ 355، المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)

سنن ابن ماجہ، مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبہ و غیرہم کتب حدیث میں ہے: عن ابن عمر، قال: قبلنا ید النبي صلی اللہ علیہ و سلم۔ ترجمہ: حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔ (سنن ابن ماجہ، بباب الرجل يقبل يد الرجل، جلد 02، صفحہ 1221،: دار إحياء الكتب العربية)

احیاء علوم الدین میں ہے: قبل ابوعبیده بن الجراح رضی اللہ عنہ ید علی کرم اللہ وجھہ لما ان لقیہ بالشام فلم ینکر علیہ“ ترجمہ: حضرت ابوعبیده بن جراح رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین علی المرتضی کرم اللہ وجھہ الکریم کے ہاتھوں کو بوسہ دیا جب ملک شام میں ان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الحلال و الحرام، جلد 2، صفحہ 144، دار المعرفۃ، بیروت)

حضرت علامہ ابو المعالی برهان الدين محمود بن احمد بخاری حنفی (سال وفات: 616ھ) تحریر فرماتے ہیں: أن عبد اللہ بن عباس رضي اللہ عنهما أخذ بركاب زيد بن ثابت رضي اللہ عنه، فقال زيد: مهلاً يا ابن عم رسول اللہ، فقال عبد اللہ: هكذا كنا نصنع بعلمائنا من أكابر أصحاب رسول اللہ، فلما استوى زيد بن ثابت على بغلته، فقال لابن عباس: ناولني يدك فناوله، فقبل زيد يده، و قال: هكذا نصنع بأهل بيت رسول اللہ عليه السلام، فهذا يدلك على أنه لا بأس بتقبيل يد غيره لعلمه أو شرفه، و قد حكي عن سفيان أنه سمى تقبيل يد العالم، و السلطان العادل سنة

 ترجمہ: ایک موقع پر حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سواری کے جانور کی رکاب تھامی، تو حضرت سیِّدُنا زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: اے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلَّم کے چچا زاد بھائی! اسے چھوڑ دیں۔ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: ہمیں رسول اکرم صلی علیہ و سلم کے اکابر اصحاب میں سے علماء کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر جب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے خچر پر سوار ہو گئے تو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔ اپنا ہاتھ مجھے عطا فرمائیں !!! انہوں نے ہاتھ بڑھایا تو حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ہاتھوں کا بوسہ لیا اور کہا: ہمیں اپنے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلَّم کے اہل بیت سے اسی طرح پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ تیرے لیے دلیل ہے کہ اپنے علاوہ کسی کے ہاتھ کو اس کے علم و شرف کے سبب چومنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور حضرت سفیان رحمۃ اللہ علیہ سے حکایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے عالم اور عادل بادشاہ کے ہاتھ کے بوسہ کو سنت قرار دیا ہے۔ (المحيط البرهاني في الفقه النعماني، جلد 5، صفحہ 396،دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان)

تنویر الابصار و در مختار میں ہے: (و لا بأس بتقبيل يد) الرجل (العالم) و المتورع على سبيل التبرك درر و نقل المصنف عن الجامع أنه لا بأس بتقبيل يد الحاكم و المتدين (السلطان العادل) و قيل سنة مجتبى“ ترجمہ: کسی عالم اور پارسا شخص کے بطور تبرک ہاتھ چومنے میں کوئی حرج نہیں۔ (درر)۔ مصنف نے الجامع سے نقل فرمایا: کہ دیندار حاکم اور عادل بادشاہ کے ہاتھوں کو بھی بوسہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں، اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ سنت ہے، (مجتبیٰ)۔ (حاشیۃ ابن عابدین، کتاب الحظر و الاباحۃ، باب الاستبراء، جلد 6، صفحہ 383، دار الفكر - بيروت)

کسی عالم یا بزرگ کا ہاتھ چومنے سے متعلق شیخ الاسلام و المسلمین، امام اہل سنت، مجدد دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن تحریر فرما تے ہیں: ہاں جائز ہے، بلکہ مستحب و مندوب و مسنون و محبوب ہے، جبکہ بہ نیت صالحہ محمودہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 330، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: قدم بوسی جائز بلکہ مسنون ہے تو اسکے لئے جھکنا بھی مباح بلکہ سنت ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 550، رضا فاونڈیشن لاہور)

شہزادہ اعلی حضرت، مفتی اعظم ہند الشاہ مصطفی رضاخان رحمۃا للّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: قدم بوسیِ علماو اولیا، جائز ہے اوربزرگوں کی معمول، بلکہ سنت ہے۔ جو پیر قدم بوسی کے لائق ہو، اس کی قدم بوسی میں حرج نہیں۔ (فتاوی مفتی اعظم، جلد 5، صفحہ 205، شبیر برادرز، لاہور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ و سلَّم کی دونوں آنکھوں کے درمیان کو بوسہ دیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین سے بھی بوسہ دینا ثابت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ عالمِ دین اور بادشاہ عادل کے ہاتھ کو بوسہ دینا جائز ہے، بلکہ اس کے قدم چومنا بھی جائز ہے۔ بلکہ اگر کسی نے عالمِ دین سے یہ خواہش کی کہ آپ اپنا ہاتھ یا قدم مجھے دیجیے کہ میں بوسہ دوں تو اس کے کہنے کے مطابق وہ عالم اپنا ہاتھ پاؤں بوسہ کے لیے اس کی طرف بڑھا سکتا ہے۔ (بھار شریعت، جلد 3، صفحہ 472، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-0244
تاریخ اجراء: 02 جمادی الاخری 1443ھ / 06 جنوری 2022ء