والدین اور استاد کا بچوں کو مارنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
والدین اور اساتذہ بچوں کو کس حد تک مار سکتے ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ والد اولاد کو اور استاد شاگرد کو جو مار سکتا ہے اس میں کم از کم بچے کی عمر، یونہی مار کی حد کیا ہے؟
جواب
اولاً یہ بات ذہن نشین رہے کہ بچہ اگر کوئی غلطی کرے، تو حتی الامکان اسے پیار، محبت اور نرمی کے ساتھ سمجھایا جائے اور مارنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ اصل مقصد اصلاح اور تربیت ہے اور اس کے لئے سمجھانا زیادہ مفید ہے۔ اس کے برخلاف بات بات پہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور مارنا انہیں ضدی اور سخت مزاج بنا دیتا ہے اور پھر اصلاح کے بجائے الٹا نقصان ہوتا ہے، لہذا اس سے گریز ہی کرنا چاہئے۔ البتہ اگر کبھی واقعی مارنے کی ضرورت پیش آجائے، تو والدین اور استاد کو چند شرائط کے ساتھ اس کی اجازت ہے، جو درج ذیل ہیں:
(1) بچہ تادیب کا اہل ہو، یعنی اتنا سمجھ دار ہو کہ اسے معلوم ہوجائے کہ کس وجہ سے مار پڑی ہے، کیونکہ ناسمجھ بچہ تادیب کو سمجھتا ہی نہیں، تو وہ اس کا اہل بھی نہیں۔ شریعتِ مطہرہ نے عمومی طور پر سات سال کی عمر کو سمجھ آنے کی عمر قرار دیا ہے، کیونکہ عموماً اس عمر میں بچہ سمجھ بوجھ حاصل کر لیتا ہے۔
(2) مارنے والا اگر استاد ہے، تو اسے بچے کے والد کی جانب سے صراحتاً، یعنی واضح لفظوں میں اجازت ہویا دلالتاً، یعنی جہاں معروف ہو کہ بوقتِ ضرورت بچے کو مارا جاتا ہے، تو وہاں والد کی طرف سے مارنے کی دلالتاً اجازت سمجھی جائے گی۔ جہاں معروف نہیں یا باقاعدہ منع کردیا گیا ہو، تو وہاں محض تعلیم کے لیے سپرد کر دینے سے مارنے کی اجازت نہیں سمجھی جائے گی ۔
(3) مارنا غصہ اتارنے کے لئے نہیں، بلکہ تنبیہ، تعلیم وتادیب، تربیت و تہذیب اور اصلاح و نصیحت کے لئے ہو۔
(4) ہاتھ سے ماراجائے، لکڑی، ڈنڈے، بیلٹ وغیرہ یا اچانک اس طرح کی کوئی چیز اٹھا کر مارنے کی اجازت نہیں۔
(5) سر، چہرے اور نازک اعضا، جیسے شرمگاہ والے حصے پر نہ ماراجائے۔
(6) تین ضربوں سے زیادہ نہ لگائی جائیں۔
(7) اس انداز سے نہ مارا جائے جس سے ہڈی ٹوٹنے، کھال پھٹنے یا جسم پر سیاہ و سرخ داغ پڑجانے کا اندیشہ ہو (ہاں! معمولی سا نشان جو ہاتھ کی درمیانی ضرب سے بھی پڑجاتا ہے، بالخصوص جب رنگ سفید ہو، تو وہ معاف ہے)۔
(8) وہ مار بچے کی اپنی جسمانی طبیعت کے اعتبار سے برداشت کے قابل ہو، کیونکہ بچوں کی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں، کوئی کمزور ہوتا ہے اور کوئی طاقتور، تو ممکن ہے کہ جو مار ایک بچے کے لیے نقصان دہ نہیں، وہ دوسرے کے لیے نقصان دہ ہو۔
(9) مار کے ساتھ گالی نہ ہو، کہ بلاوجہِ شرعی کسی بھی مسلمان کو گالی دینا، جائز نہیں۔
(10) مار نے کے متعلق ملکی قوانین کا بھی خیال رکھا جائے۔
ضروری تنبیہ: مذکورہ قیودات کی رعایت انتہائی ضروری ہے۔ اس کے برخلاف آج کل بعض لوگ غصہ میں آکر چہرے پر مارتے ہیں، مکوں، گھونسوں اور لاتوں وغیرہ سے پیٹتے ہیں، ڈنڈا یا جو کچھ ہاتھ میں آئے اسی سے مارنا شروع کر دیتے ہیں اور جب تک غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا، مارتے رہتے ہیں، وہ سخت گناہگار اور عذابِ نار کے حقدار ہوتے ہیں، خصوصاً نابالغ کا معاملہ تو اور بھی سخت تر ہے، کہ وہ معاف بھی نہیں کر سکتا۔
مذکورہ احکام سے متعلق احادیث:
پیار و محبت کے ساتھ سمجھانے کو ترجیح دینی چاہئے۔ چنانچہ حضرت معاویہ بن حکم السلمی رضی اللہ تعالی عنہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: فبابی هو و امی! ما رايت معلما قبله و لا بعده احسن تعليما منه، فوالله ما كهرنی و لا ضربنی و لا شتمنی‘‘ ترجمہ: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر قربان ہوں۔ میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر کوئی معلم (سکھانے والا) نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! نہ تو آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مارا اور نہ ہی مجھے برا بھلا کہا۔ (صحیح مسلم، ج 1، ص 381، مطبوعہ دار احیاء التراث، بیروت)
اور نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويعرف حق كبيرنا‘‘ ترجمہ: وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کے حق کو نہ پہچانے۔ (مسندِ احمد، ج 11، ص 345، مطبوعہ، مؤسسۃ الرسالہ)
چہرے پر مارنے کی ممانعت ہے۔ چنانچہ حضرتِ جابر رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں: نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم عن الضرب في الوجه و عن الوسم في الوجه‘‘ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چہرے پر مارنے اور چہرے پر داغنے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم، ج 3، ص 1673، مطبوعہ دار احیاء التراث، بیروت)
مسلمان کو گالی دینا جائز نہیں۔ چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سباب المسلم فسوق و قتاله كفر‘‘ ترجمہ: مسلمان کو گالی دینا فسق اور (اس کے قتل کو حلال جان کر) اسے قتل کرنا کفر ہے۔ (صحیح بخاری، ج 1، ص 19، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بيروت)
مذکورہ احکام کے فقہی جزئیات:
مار کے لئے بچے کا سمجھدار ہونا ضروری ہے اور مار بھی اصلاح و تربیت کے لئے ہو گی۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: الصبی العاقل فانه يعزر تاديبا لا عقوبة، لانه من اهل التاديب، الا ترى الى ما روی عنه عليه الصلاة والسلام انه قال: مروا صبيانكم بالصلاة اذا بلغوا سبعا و اضربوهم عليها اذا بلغوا عشرا و ذلك بطريق التاديب و التهذيب لا بطريق العقوبة، لانها تستدعی الجناية و فعل الصبی لا يوصف بكونه جناية، بخلاف المجنون والصبی الذي لا يعقل، لانهما ليسا من اهل العقوبة و لا من اهل التاديب‘‘ ترجمہ: سمجھداربچہ تو اسے بطورِ تادیب تعزیر کی جائے گی، نہ کہ بطورِ سزا، کیونکہ وہ تادیب کا اہل ہے (نہ کہ سزا کا)۔ کیا تم نہیں دیکھتے اس روایت کو جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہو جائیں اور جب دس سال کے ہو جائیں، تو نماز پر انہیں مارو۔ یہ مار، تادیب اور تہذیب کے طور پر ہے، نہ کہ سزا کے طور پر، کیونکہ سزا جرم کا تقاضا کرتی ہے اور (نابالغ) بچے کا فعل جرم نہیں کہلاتا۔ اس کے برخلاف مجنون اور وہ بچہ جو عقل نہ رکھتا ہو (انہیں تادیباً بھی نہیں مارا جائے گا)، کیونکہ وہ نہ سزا کے اہل ہیں اور نہ ہی تادیب کے۔ (بدائع الصنائع، ج 7، ص 64، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)
سات سال کا بچہ شرعاً سمجھدار کہلاتا ہے۔ چنانچہ شرح ابو داؤد للعینی میں ہے: و انما عین السنۃ السابعۃ، لانھا سنۃ التمییز، الا یری ان الحضانۃ تسقط عند انتهاء الصبی الى سبع سنين‘‘ ترجمہ: حدیث پاک میں (نماز کے حکم کیلئے) ساتویں سال کو معین کیا، کیونکہ یہی تمییز کا سال ہوتا ہے، کیا دیکھا نہیں کہ ماں کا حقِ پرورش بچے کے سات سال پورے ہونے پر ختم ہوجاتا ہے۔ (شرح ابو داؤد للعینی، ج 2، ص 414، مطبوعہ الرياض)
مزید اسی میں ہے: و يختلف ذلك باختلاف ذكاوة الصبي و بلادته، فكم من صبی عمره خمس سنين او اكثر من ذلك بقليل يعرف ذلك و كم من صبی عمره عشر سنين اواقل من ذلك بقليل لا يَعرف ذلك و لكن الغالب فی ذلك سبع سنين‘‘ ترجمہ: یہ (یعنی سیدھے اور الٹے کی پہچان کا معاملہ) بچے کی ذہانت اور کم فہمی کے اختلاف سے بدل جاتا ہے۔ کتنے ہی بچے ایسے ہوتے ہیں جو پانچ سال یا اس سے کچھ زیادہ عمر میں ہی یہ بات سمجھنے لگتے ہیں اور کتنے ہی بچے ایسے ہوتے ہیں جو دس سال یا اس سے کچھ کم عمر میں بھی یہ بات نہیں سمجھتے، لیکن عام طور پر سمجھدار ہونا سات سال کی عمر میں ہوتا ہے۔ (شرح ابو داؤد للعینی، جلد 2، صفحہ 418، مطبوعہ، الرياض)
اسی بارے میں حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: اقل سن يعتبر فيه التمييز سبع سنين‘‘ ترجمہ: سب سے کم عمرجس میں تمییز کا اعتبار ہوتا ہے، وہ سات سال کی ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 600، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
استاد والد کی اجازت کے ساتھ ہی مار سکتا ہے۔ چنانچہ البحر الرائق میں ہے: و المعلم و الاستاذ لیس لھما ضرب الصغیر الا باذن الاب او الوصی“ ترجمہ: معلم اور استاد کا بچے کو باپ یا وصی کی اجازت کے بغیر مارنا جائز نہیں۔ (البحر الرائق، ج 7، ص 309، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
اسی بارے میں فتاوی شامی میں ہے: المعلم فله ضربه، لان المامور يضربه نيابة عن الاب لمصلحته و المعلم يضربه بحكم الملك بتمليك ابيه لمصلحة التعليم و قيده الطرسوسی بان يكون بغير آلة جارحة‘‘ ترجمہ: معلّم کے لیے بچے کو مارنا جائز ہے، کیونکہ جسے اجازت دی گئی ہو وہ بچے کی مصلحت کے لئے اس کے باپ کی جانب سے نائب ہونے کی حیثیت سے مارتا ہے اور معلّم باپ کی طرف سے دیے گئے اختیار کی بنا پر تعلیم کی مصلحت کے لیے مارتا ہے۔ اور طرسوسی نے اس کو اس شرط کے ساتھ مقید کیا ہے کہ مارنا کسی زخم لگانے والے آلے سے نہ ہو۔ (فتاوی شامی، ج 6، ص 430، مطبوعہ، دار الفکر، بیروت)
سر، چہرے اور شرمگاہ والے حصہ پر مارنا جائز نہیں۔ چنانچہ فتاوی شامی میں امام زیلعی کے حوالہ سے ہے: و يتقی المواضع التی تتقى فی الحدود ای كالراس و المذاكير‘‘ ترجمہ: (تعزیر میں) ایسے مقامات (پر مارنے) سے بچا جائے جن سے حدود میں بچا جاتا ہے، یعنی سر اور مردانہ اعضاء۔ (فتاوی شامی، ج 4، ص 61، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
تین ضربوں سے زیادہ مارنا جائز نہیں۔ چنانچہ فتاوی شامی میں ہے: و لا يجاوز الثلاث و كذلك المعلم ليس له ان يجاوزها، قال عليه الصلاة و السلام لمرداس المعلم: اياك ان تضرب فوق الثلاث، فانك اذا ضربت فوق الثلاث اقتص اللہ منك، اسماعيل عن احكام الصغار للاستروشنی و ظاهره انه لا يضرب بالعصا فی غير الصلاة ايضا‘‘ ترجمہ: اور تین ضربوں سے تجاوز نہ کرے۔ اسی طرح معلم کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ تین سے زیادہ مارے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے معلم مرداس سے فرمایا: تم تین سے زیادہ مارنے سے بچو، کیونکہ اگر تم نے تین سے زیادہ مارا تو اللہ تعالیٰ تم سے بدلہ لے گا۔ (یہ) اسماعیل نے کتاب احکام الصغار از استروشنی سے نقل کیا ہے۔ اور اس کا ظاہر یہ ہے کہ نماز کے علاوہ دیگر امور میں بھی لاٹھی سے مارنا جائز نہیں۔ (فتاوی شامی، ج 1، ص 352، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
اتنا مارنا جائز نہیں کہ جس سے ہڈی ٹوٹ جائے یا جلد پھٹ جائے یا جسم پر سیاہ داغ پڑ جائیں۔ چنانچہ تنویر الابصار ،درمختار اور رد المحتار میں ہے: بین القوسین مزیدا من رد المحتار: ادعت على زوجها ضربا فاحشا و ثبت ذلك عليه عزر، كمالو ضرب المعلم الصبی ضربا فاحشا، فانه يعزره و يضمنه لو مات (قوله ضربا فاحشا قيد به، لانه ليس له ان يضربها فی التاديب ضربا فاحشا و هو الذی يكسر العظم او يخرق الجلد او يسوده، كما فی التتارخانية قال فی البحر: و صرحوا بانه اذا ضربها بغير حق وجب عليه التعزير ای و ان لم يكن فاحشا) ترجمہ: عورت نے مرد کے خلاف ضربِ فاحش کا دعویٰ کیا اور مرد کے خلاف یہ دعویٰ ثابت ہو گیا، تو اسے تعزیر کی جائے گی، جیسا کہ اگر معلّم بچے کو ضربِ فاحش کے ساتھ مارے، تو اسے بھی تعزیر کی جائے گی اور اگر اس مار پیٹ کی وجہ سے بچہ مر جائے، تو معلّم اس کا ضامن ہوگا۔ ماتن کا قول ضربِ فاحش یہ قید اس لئے لگائی گئی، کیونکہ معلّم کو تادیب کے سلسلے میں ضربِ فاحش کے ساتھ مارنا جائز نہیں اور وہ اتنی مار ہے کہ جو ہڈی توڑدے یا جلد پھاڑ دے یا اسے سیاہ کر دے، جیسا کہ تتارخانیہ میں ہے۔ بحر میں فرمایا کہ فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ اگر اس نے ناحق مارا ہو، تو اس پر تعزیر واجب ہوگی، یعنی اگرچہ وہ ضربِ فاحش نہ بھی ہو۔ (تنویر الابصار مع در مختار و رد المحتار، ج 4، ص 79، مطبوعہ، دار الفکر، بیروت)
بچے کی برداشت کے مطابق ہی مار سکتے ہیں۔ چنانچہ مراقی الفلاح اور حاشیۃ الطحطاوی میں ہے: بین القوسین مزیدا من الطحطاوی: و تضرب عليها لعشر بيد لا بخشبة، ای عصا كجريدة رفقا به و زجرا بحسب طاقته و لا يزيد على ثلاث (قوله "رفقا به" علة لقوله لا بخشبة و قوله "و زجرا بحسب طاقته" علة لقوله و تضرب عليها لعشر بيد) ترجمہ: اور دس سال کے بچوں کو نماز کے لئے ان کی طاقت کے مطابق زجراً ہاتھ سے مارا جائے گا۔ ان پر نرمی کرتے ہوئے لکڑی، یعنی لاٹھی جیسے ٹہنی شاخ وغیرہ سے نہیں مارا جائے گا اور مارنے والا تین ضربوں سے زیادہ نہ لگائے۔ "رفقا به" یہ "لا بخشبة" کی علت ہے اور "و زجرا بحسب طاقته" یہ "و تضرب عليها لعشر بيد" کی علت ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 173 تا 174، مطبوعہ، دار الكتب العلمية، بيروت)
بچے کو مارنے میں کن قیودات کو مدِ نظر رکھا جائے، اس بارے میں موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے: للمعلم ضرب الصبی الذی يتعلم عنده للتاديب و بتتبع عبارات الفقهاء يتبين انهم يقيدون حق المعلم فی ضرب الصبی المتعلم بقيود منها:
أ - ان يكون الضرب معتادا للتعليم، كما و كيفا و محلا، يعلم المعلم الامن منه و يكون ضربه باليد لا بالعصا و ليس له ان يجاوز الثلاث روی ان النبی عليه الصلاة و السلام قال لمرداس المعلم رضی اللہ عنه: اياك ان تضرب فوق الثلاث، فانك اذا ضربت فوق الثلاث اقتص اللہ منك۔
ب - ان يكون الضرب باذن الولی، لان الضرب عند التعليم غير متعارف و انما الضرب عند سوء الادب، فلا يكون ذلك من التعليم فی شیء و تسليم الولی صبيه الى المعلم لتعليمه لا يثبت الاذن فی الضرب، فلهذا ليس له الضرب، الا ان ياذن له فيه نصا۔
ج - ان يكون الصبی يعقل التاديب، فليس للمعلم ضرب من لا يعقل التاديب من الصبيان‘‘ ترجمہ: معلم کیلئے اس بچے کو جو اس کے پاس پڑھتا ہو، تادیب کے لیے مارنے کی اجازت ہے۔ فقہاء کی عبارات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پڑھنے والے بچے کو معلم کے مارنے کے حق کو چند چیزوں سے مقید کیا ہے:
(1) یہ مار، مقدار، طریقے اور جگہ کے اعتبار سے تعلیم کے عرف کے مطابق ہو۔ معلم کو اس سے نقصان نہ ہونے کا اطمینان ہو۔ اور مارنا ہاتھ سے ہو، ڈنڈے سے نہ ہو، اور تین ضربوں سے زیادہ نہ ہو۔ روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلم مرداس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تین سے زیادہ نہ مارنا، کیونکہ اگر تین سے زیادہ مارا تو اللہ تم سے بدلہ لے گا۔
(2) یہ مار ولی کی اجازت سے ہو، کیونکہ تعلیم پر مارنا معروف نہیں، بلکہ مارنا بے ادبی پر ہوتا ہے، پس مارنا تعلیم میں سے نہیں اور ولی کا محض تعلیم کے لیے بچے کو معلم کے سپرد کر دینا مارنے کی اجازت ثابت نہیں کرتا۔ لہذا معلم کو مارنے کا حق اسی وقت ہوگا جب ولی صراحتاً اس کی اجازت دے۔
(3) بچہ تادیب کو سمجھنے والا ہو، کیونکہ جو بچہ تادیب نہیں سمجھتا اسے معلم کے لیے مارنا جائز نہیں۔ (موسوعہ فقہیہ کویتیہ، ج 13، ص 13 تا 14، مطبوعہ كويت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے فتاوی رضویہ میں فارسی زبان میں سوا ل ہو اجس کا اردو ترجمہ یہ ہے: کیا استاد اپنے شاگرد بچوں کو بغیر کسی قید و شرط کے بدنی سزادے سکتا ہے یا نہیں؟ کیا بچوں کو اجرت لے کر پڑھانے یا بلا اجرت پڑھانے والے کے لئے الگ الگ ضابطہ ہے؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فارسی زبان میں ہی جواب ارشاد فرمایا جس کا اردو میں ترجمہ یہ ہے: ضرورت پیش آنے پر بقدرِ حاجت تنبیہ، اصلاح اور نصیحت کے لئے بلاتفریقِ اجرت وعدمِ اجرت، استاد کا بدنی سزا دینا اور سرزنش سے کام لینا جائز ہے، مگریہ سزا لکڑی، ڈنڈے وغیرہ سے نہیں، بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائے۔ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 652، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں: چھوٹے بچہ کو بھی تعزیر کر سکتے ہیں اور اس کو سزا اس کا باپ یا دادا یا ان کا وصی یا معلم دے گا اور ماں کو بھی سزا دینے کا اختیار ہے۔ قرآن پڑھنے اور ادب حاصل کرنے اور علم سیکھنے کے لیے بچہ کو اس کے باپ، ماں مجبور کر سکتے ہیں۔ یتیم بچہ جو اس کی پرورش میں ہے اسے بھی ان باتوں پر مار سکتا ہے جن پر اپنے لڑکے کو مارتا۔ (بھار شریعت، ج 2، حصہ 9، ص 411، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مزید ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: اساتذہ بھی بچوں کو نہ پڑھنے یا شرارت کرنے پر سزائیں دے سکتے ہیں، مگر وہ کلیہ ان کے پیش نظر بھی ہونا چاہیے کہ اپنا بچہ ہوتا تو اسے بھی اتنی ہی سزا دیتے۔ بلکہ ظاہر تو یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے بچے کی تربیت و تعلیم کا جتنا خیال ہوتا ہے، دوسرے کا اتنا خیال نہیں ہوتا، تو اگر اس کام پر اپنے بچے کو نہ مارا یا کم مارا اور دوسرے بچہ کو زیادہ مارا، تو معلوم ہوا کہ یہ مارنا محض غصہ اتارنے کے لیے ہے، سُدھارنا مقصود نہیں ہے، ورنہ اپنے بچہ کے سُدھارنے کا زیادہ خیال ہوتا ۔ ۔ بچوں کو زیادہ نہ مارے، مارنے میں حد سے تجاوز کرے گا، تو قیامت کے روز محاسبہ دینا پڑے گا۔ (بھار شریعت، ج 3، حصہ 16، ص 626 / 629، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: GUJ-0086
تاریخ اجراء: 03 رجب المرجب 1447ھ / 24 دسمبر 2025ء