logo logo
AI Search

جمعرات کو بزرگوں کی نیاز کرنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جمعرات کو بزرگوں کی نیاز کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہر جمعرات بزرگوں کی نیاز کرنا کیسا ؟

جواب

بزرگوں کی نیاز درحقیقت ایصالِ ثواب ہے اور ایصالِ ثواب کے متعلق اصول یہ ہے کہ بدنی عبادات مثلا نماز، روزہ، حج، تلاوتِ قرآن یا اوراد و وظائف وغیرہ اور مالی عبادات جیسے زکوۃ، صدقہ و خیرات وغیرہ کا ثواب مسلمانوں کو ایصال یعنی پہنچایا جاسکتا ہے خواہ وہ زندہ ہوں یا وفات پاچکے ہوں، اور یہ ثواب ان تک پہنچتا ہے اس کا ثبوت قرآن و حدیث اور اقوالِ علماء سے ہے، اور مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایصالِ ثواب کرنے والے اور جس کو ایصالِ ثواب کیا گیا دونوں کو اس کا نفع حاصل ہوتا ہے، نیز ایصالِ ثواب در حقیقت مسلمانوں کے لیے دعا کرنا ہے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کرنے کی ترغیب قرآن و حدیث میں موجود ہے نیز ایصالِ ثواب کے لیے کوئی دن مخصوص نہیں جب چاہیں ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے، اور کوئی دن مخصوص کرنے میں بھی حرج نہیں، لہذا ہر جمعرات کو بزرگوں کو ایصالِ ثواب کرنا، جائز ہے۔

ایصالِ ثواب کے متعلق اصول بیان کرتے ہوئے علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”الأصل أنّ کل من أتی بعادۃ ما لہ جعل ثوابھا لغیرہ وإن نواھا عند الفعل لنفسہ لظاھر الأدلۃ“ یعنی اصول یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو کوئی بھی عبادت بجا لائے اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کا ثواب اپنے علاوہ کسی دوسرے کو بخش دے اگرچہ اس فعل کے وقت اس نے خاص اپنے لئے نیت کی ہو، اس لئے کہ اس پر واضح دلائل موجود ہیں۔

مذکورہ عبارت کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”(بعبادۃ ما) أي: سواء کانت صلاۃ أو صوما أو صدقۃ أو قراءۃ أو ذکرا أو طوافا أو حجا أو عمرۃ أو غیر ذلك من زیارۃ قبور الأنبیاء علیھم الصلاۃ والسلام والشھداء والأولیاء والصالحین، وجمیع أنواع البر“ یعنی کوئی بھی عبادت ہو خواہ نماز، روزہ، صدقہ، قراءت، ذکر، طواف، حج، یا عمرہ یا اس کے علاوہ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام، اولیائے کرام اور صالحین رحمہم اللہ تعالی کے مزارات کی زیارت، اور تمام نیک کام۔ (رد المحتار، جلد 4، صفحہ 12، دار المعرفۃ، بیروت)

اپنی نیکیوں کا ایصالِ ثواب زندہ اور مردہ دونوں کو کرسکتے ہیں جیسا کہ علامہ قاری حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”وقال علماؤنا: الأصل في الحج عن الغير أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره من الأموات والأحياء حجاً أو صلاة أو صوماً أو صدقة أو غيرها، كتلاوة القرآن والأذكار فإذا فعل شيئاً من هذا وجعل ثوابه لغيره جاز ويصل إليه عند أهل السنة والجماعة“ یعنی ہمارے علمائے کرام فرماتے ہیں کسی دوسرے شخص کی طرف سے حج کرنے کے متعلق اصول یہ ہے کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے عمل جیسے حج، نماز، روزہ، صدقہ وغیرہ کا ثواب تلاوتِ قرآن اور ذکر و اذکار کی طرح کسی دوسرے شخص کو دے دے خواہ وہ مردہ ہو یا زندہ، تو جب وہ ان (نماز، روزہ، حج وغیرہ) میں سے کوئی عمل بجالائے اور اس کا ثواب کسی دوسرے کی ملک کردے تو ایسا کرنا، جائز ہے، اور یہ ثواب اس تک پہنچتا ہے، اہل سنت وجماعت کا یہی مؤقف ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 10، صفحہ 69، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے ایصالِ ثواب کرنے والے اور جس کو ایصالِ ثواب کیا گیا دونوں کو نفع پہنچتا ہے جیسا کہ امام ابو زکریا یحیی بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”وفي ھذا الحدیث: جواز الصدقۃ عن المیت، واستحبابھا، وأن ثوابھا یصلہ وینفعہ وینفع المتصدق أیضا، وھذا کلہ أجمع علیہ المسلمین“ یعنی اس حدیثِ پاک میں یہ ثبوت ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کرنا، جائز و مستحب ہے اور اُس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اور اِس کا فائدہ میت اور خود صدقہ کرنے والے کو بھی ہوتا ہے اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ (المنھاج، جلد 5، صفحہ 492، مؤسسۃ الرسالۃ الناشرون)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر: FatwaQA-043

تاریخ اجراء: 12 ربیع الثانی 1448ھ/25 ستمبر 2026ء