logo logo
AI Search

غوث پاک کے نام کا جانور قربان کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غوث پاک کے نام کا بکرا ذبح کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کہتا ہے کہ کسی جانور کو اس لیے رکھا جائے کہ اس کو داتا صاحب یا غوث اعظم رحمہما اللہ تعالی کے لیے ایصال ثواب کی نیت سے ذبح کرنا ہے، تو جائز ہے، مگر بکر کہتا ہے: یوں کسی بزرگ کے نام سے جانور رکھنا جائز نہیں، یہ ناجائز و حرام بلکہ شرک ہے اگرچہ وقت ذبح اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے، ان دونوں میں سے کون صحیح ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

زید کی بات درست ہے، جبکہ بکر کی بات سراسر جہالت اور قرآن و حدیث کے خلاف ہے، کیونکہ کسی بزرگ کے نام پر جانور رکھنا، ان کی طرف منسوب کر کے پکارنا اور ان کے ایصال ثواب کے لیے ذبح کرنا شرعا بھی جائز ہے اور عقلا بھی درست ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے چند باتیں پیش نظر رہیں :

(1) مسلمان اللہ تعالیٰ کے نام پر جس جانور کو ذبح کرے وہ حلال ہے۔ البتہ اگر ذبح کرنے والا جانور کو ذبح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نام کی بجائے کسی اور کا نام لے، تو وہ جانور حرام ہوجائے گا، اور عام طور پر کسی مسلمان سے ایسا ہونا بہت بعید ہے۔

(2) اگر بوقت ذبح جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے، لیکن اس کو ذبح کرنے سے مقصود کچھ اور ہو، تو اس سے جانور حرام نہیں ہو جاتا۔ جیسے قصاب کا جانور ذبح کرنے سے مقصود مال کمانا ہوتا ہے اور شادی بیاہ کرنے والے کا مقصود لوگوں کو کھانا کھلانا ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو بعض صورتوں میں باعث ثواب ہوتا ہے۔ جیسے حدیث پاک میں ارشاد ہوا کہ جس نے مہمان کے لیے جانور ذبح کیا، تویہ جانور اس کی طرف سے جہنم کا فدیہ ہوجائے گا۔ اسی طرح کسی بزرگ کو ایصال ثواب کے لیے جانور ذبح کرنا بھی مستحب و مستحسن عمل ہے۔

(3) رہی یہ بات کہ اس جانور کو بزرگوں کی طرف نسبت کرکے اس طرح پکارنا کہ غوث پا ک کا بکرا، داتا صاحب کی گائے وغیرہ ۔تو یہ بھی درست ہے اور اس سے مراد ہوتا ہے وہ جانور جو فلاں بزرگ کے ایصال ثواب کے لیے ہے، کیونکہ ایک چیز کو دوسری کی طرف منسوب کرنے کے لیے ان کے درمیان ادنی سا تعلق بھی کافی ہوتا ہے اوراضافت سے ہر جگہ عبادت مراد نہیں ہوتی۔ جیسے احادیث میں صوم داؤد (حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے) اور صلوۃ داؤد (حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز) کا تذکرہ ہے اورجیسے کہتے ہیں مسافر کی نماز، اونٹوں کی زکوۃ وغیرہ۔ اس سے کوئی بھی یہ مراد نہیں لیتا کہ معاذ اللہ! یہ روزے حضرت داؤد علیہ السلام کی عبادت کے لیے ہیں یا یہ نماز مسافر کی عبادت کے لیے ہے بلکہ ایک تعلق کی بنا پر اضافت کی گئی ہے اسی طرح یہاں بھی ایک تعلق (یعنی ان بزرگوں کے ایصال ثواب کے لیے ہونے) کی وجہ سے نسبت کی جاتی ہے، لہٰذا اوپر مذکور حکم بالکل واضح ہوگیا۔ اس کے جزئیات درج ذیل ہیں: قرآن مجید میں اللہ جل مجدہ ارشاد فرماتا ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: ’’تم پر حرام ہے مردار اورخون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیرِ خدا کانام پکارا جائے۔‘‘ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ ، آیت 3)

اس آیت میں ﴿ما ا ھل بہ لغیر اللّٰہ﴾ (یعنی وہ جانورجس کے ذبح میں غیرِ خدا کانام پکارا جائے) سے مراد وہ جانور ہے جس پر ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کا نام لیا گیا ہو۔ بزرگو ں کے نام پر رکھے ہوئے یا ان کے ایصال ثواب کے لیے ذبح کیے جانے والے جانور اس سے مراد نہیں ہیں۔ چنانچہ متعدد تفاسیر قرآن مثلا ً تفسیر کبیر، احکام القرآن للجصاص، حاشیہ صاوی علی جلالین، حاشیہ جمل علی جلالین، تفسیر مدارک، تفسیر خازن اورتفسیر روح المعانی وغیرہ میں اس آیت کریمہ کے تحت مذکور ہے: (و النظم ھذا للرازی ) ’’و الاھلال رفع الصوت ۔ ۔ ۔ و کانوا یقولون عند الذبح باسم اللات و العزی فحرم اللہ تعالیٰ ذلک‘‘ ترجمہ: اہلال سے مراد آواز کو بلند کرنا اور کفارِ عرب ذبح کے وقت لات عُزی کا نام لیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام فرما دیا۔‘‘ (تفسیرِ کبیر، جلد 4، صفحہ 283، لاھور)

اور احکام القرآن کے الفاظ یہ ہیں: ’’و لا خلاف بین المسلمین أن المراد بہ الذبیحۃ اذا أھل بھا لغیر اللہ عند الذبح‘‘ ترجمہ: مسلمانوں میں اس بات پرکوئی اختلاف نہیں ہے کہ آیت میں مراد وہ جانور ہے جس کے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کا نام لیا گیا ہو۔‘‘ (احکام القرآن للجصاص، جلد 1، صفحہ 176، مطبوعہ کراچی)

حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’من ذبح لضیف، ذبیحۃ کانت فداء ہ من النار‘‘ ترجمہ: جو اپنے مہمان کے لئے جانور ذبح کرے وہ ذبیحہ دوزخ کی آگ سے اس کا فدیہ ہوگا۔ (کنز العمال، کتاب الضیافۃ، الفصل الاول، جلد 9، صفحہ 245، حدیث 25852، مؤسسۃ الرسالہ)

درمختارمیں ہے: ’’لو ذبح للضیف لایحرم لانہ سنۃ الخلیل و اکرام الضیف اکرام ﷲ تعالی‘‘ ترجمہ: جس نے مہمان کے لیے ذبح کیا تو وہ حرام نہیں ہوگا کیونکہ یہ خلیل علیہ السلام کی سنت اور مہمان کا اکرام ہے اور مہمان کا اکرام اللہ تعالیٰ کا اکرام ہے۔

رد المحتارمیں ہے: ’’قال البزازی و من ظن انہ لایحل لانہ ذبح لاکرام ابن اٰدم فیکون اھل بہ لغیر ﷲ تعالی فقد خالف القراٰن و الحدیث و العقل فانہ لاریب ان القصاب یذبح للربح و لو علم انہ نجس لایذبح فیلزم ھذا الجاھل ان لایاکل ماذبح القصاب و ما ذبح للولائم و الاعراس و العقیقۃ‘‘ ترجمہ: بزازی نے کہا: اور جس نے گمان کیا کہ وہ اس لئے حلا ل نہیں کہ اس کو بنی آدم کے اکرام کے لیے ذبح کیا گیا ہے تو یہ غیر اللہ کے نام سے ذبح ہوا، تو اس نے قرآن وحدیث اور عقل کے خلاف بات کی، کیونکہ بلا شبہہ قصاب نفع کے لئے ذبح کرتاہے اوراگر اسے معلوم ہو کہ یہ نجس ہے تو وہ ذبح نہ کرے، تو ایسے جاہل کو چاہیے کہ وہ قصاب کے ذبح کردہ کونہ کھائے اور ولیمہ اور شادی اور عقیقہ کے لئے ذبح کردہ بھی نہ کھائے۔ (رد المحتار علی در مختار، جلد 9، صفحہ 515، مطبوعہ کوئٹہ)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ’’حق اس مسئلہ میں ہے کہ حلت و حرمت ذبیحہ میں حال و قول و نیت ذابح کا اعتبار نہ کہ مالک کا۔ ۔ پھر مسلمان ذابح کی نیت بھی وقت ذبح کی معتبر ہے اس سے قبل و بعد کا اعتبار نہیں ۔ ۔ پھر اضافت معنی عبادت میں منحصر نہیں کہ خواہی نخواہی مدار کے مرغ یا چہل تن کی گائے کے معنی ٹھہرالیے جائیں کہ وہ مرغ و گاؤ جس سے ان حضرات کی عبادت کی جائے گی، جس کی جان ان کے لئے دی جائے گی، اضافت کو ادنی علاقہ کافی ہوتاہے، ظہر کی نماز، جنازہ کی نماز، مسافر کی نماز، امام کی نماز، مقتدی کی نماز، بیمار کی نماز، پیرکار وزہ۔ اونٹوں کی زکوٰۃ، کعبہ کا حج، جب ان اضافتوں سے نما زوغیرہ میں کفر وحرمت درکنار نام کو بھی کراہت نہیں آتی، تو حضرت مدار کے مرغ، حضرت احمد کبیر کی گائے، فلاں کی بکری کہنے سے یہ خدا کے حلال کیے ہوئے جانور کیوں جیتے جی مردار اور سور ہوگئے کہ اب کسی صورت حلال نہیں ہوسکتے؟ یہ شرع مطہر پر سخت جرأت ہے۔ ۔ ۔ کیا ذبح نماز روزے سے بڑھ کر عبادت خدا ہے یا اس میں شرکت حرام، ان میں روا ہے ۔ ۔ ۔ مطلقا نیت غیر کو موجب حرمت جاننے والا سخت جاہل اور قرآن و حدیث وعقل کا مخالف ہے ۔ ۔ ۔ دیکھو علمائے کرام صراحۃً ارشاد فرماتے ہیں کہ مطلقا نیت و نسبت غیر کو موجب حرمت جاننا اور ما اُہل بہ لغیر ﷲ میں داخل ماننا نہ صرف جہالت بلکہ جنون و دیوانگی اور شرع وعقل دونوں سے بیگانگی ہے، جب نفع دنیا کی نیت مخل نہ ہوئی تو فاتحہ اور ایصال ثواب میں کیا زہر مل گیا اور اکرام مہمان عین اکرام خدا ٹھہرا تو اکرام اولیاء بدرجہ اولیٰ، ہاں اگر کوئی جاہل اجہل یہ نسبت واضافت بقصد عبادت غیر ہی کرتا ہے تو اس کے کفر میں شک نہیں۔ پھر اگر ذابح اس نیت سے بَری ہے تو جانور حلال ہوجائے گا کہ نیت غیر اس پر اثر نہیں ڈالتی کما حققناہ اٰنفا مگر جب کہ حدیثا و فقہاً دلائل قاہرہ سے ثابت کر چکے ہیں کہ اضافت معنی عبادت ہی میں منحصر نہیں، تو صرف اس بناء پرحکم کفر محض جہالت وجرأت وحرام قطعی اور مسلمانوں پر ناحق بدگمانی ہے، تم سے کس نے کہہ دیا کہ وہ آدمیوں کا جانور کہنے سے عبادت آدمیان کا ارادہ کرتے ہیں اور انھیں اپنا معبود و خدا بنانا چاہتے ہیں؟‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 269، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-7405-1
تاریخ اجراء: 17 رجب المرجب 1439ھ / 04 اپریل 2018ء