logo logo
AI Search

کھٹی چیز پر فاتحہ پڑھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کھٹی چیز پر فاتحہ دینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کھٹی چیز پر فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

ہر جائز و حلال چیز پر فاتحہ پڑھنا اور اس کا ثواب ایصال کرنا، جائز ہے، چاہے وہ کھٹی ہو یا میٹھی، اس میں کسی قسم کی تخصیص نہیں۔ لہٰذا کھٹی حلال و طیب، چیز پر فاتحہ پڑھنا اور اس کا ثواب ایصال کرنا بھی شرعاً جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔

 سیدی اعلی حضرت امامِ اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”فاتحہ جائز ہے، روٹی ، شیرینی، شربت جس چیز پر ہو۔“ (ملخصا از فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ: 498، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی امجدیہ میں ہے: ”ہر چیز پر فاتحہ ہو سکتی ہے، پلاؤ وغیرہ روٹی گوشت، چاول ان سب پر فاتحہ ہو سکتی ہے، اور اگر میٹھی ہی چیز چاہیں تو بلا تکلف ہر شخص کے یہاں حلوا تیار ہو سکتا ہے اس پر نیاز دلائیں یا چھوہارا کھجور اور دیگر پھلوں پر فاتحہ دے کر تقسیم کریں۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ: 28، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتوی نمبر: Har-7618
تاریخ اجراء: 22 ربیع الاول 1448ھ / 05 ستمبر 2026ء