logo logo
AI Search

تصویروں اور کفار کی مشابہت والے لباس خرید و فروخت کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جاندار کی تصاویر والا اور کفار و فساق کی مشابہت والا لباس خریدنے، بیچنے کا حکم؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جاندار کی تصاویر والا اور کفار و فساق کی مشابہت والا لباس خریدنے، بیچنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

سوال دو امور (جاندار کی تصاویر اور کفار و فساق کی مشابہت والے لباس کی خرید و فروخت) کے متعلق ہے، لہذا ان کا جواب جاننے سے قبل ایک اصول سمجھ لیجئے تاکہ حکم سمجھنے میں آسانی ہو:

شریعتِ مطہرہ کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ جو چیز گناہ کے لئے متعین ہو یا اس کا مقصدِ اعظم معصیت (یعنی گناہ) میں استعمال ہونا ہو، تو اسے بنانا، خریدنا، بیچنا اور خیرات کرنا گناہ پر تعاون کی وجہ سے ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔ اب لباس کہ اس کا مقصدِ اعظم لُبس یعنی پہننا ہے، تو جس لباس کا پہننا حرام و گناہ ہو، اسے بنانا اور بیچنا تعاون علی المعصیت (یعنی اسے پہننے کے گناہ میں دوسرے کی مدد کرنے) کی وجہ سے ناجائز و گناہ ہے۔ البتہ اگر کسی طرح ممانعت کی وجہ ختم کر دی جائے، تو پھر یہ امور جائز ہو جائیں گے۔ اس تمہید کے بعد:

جاندار کی تصویر پر مشتمل لباس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگر کپڑوں پر جاندار کی چہرے سمیت تصویر اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل نظر آئے، ایسا لباس پہننا، پہنانا، خریدنا، بیچنا اور خیرات کرنا سب حرام ہے۔ البتہ اگر کسی بھی طرح مکمل تصویر یا کم از کم چہرہ محو کر دیا جائے، تو وجہ ممانعت ختم ہو جانے کی وجہ سے پہننا، خریدنا، بیچنا جائز ہو جائے گا۔

نیز کفار اور فساق کی مشابہت والے کپڑوں کی تفصیل یہ ہے کہ ایسا لباس جسے پہننا غیر مسلم یا فاسق مردوں، عورتوں کا طریقہ ہو اور انہی کے ساتھ خاص ہو، وہ لباس غیر مسلموں اور فساق کی مشابہت (یعنی ان جیسی شکل و صورت اور حُلیہ بنانے) کی وجہ سے ممنوع و ناجائز ہے۔ نیز کفار و فساق کے بعض کپڑے بے پردگی پر بھی مشتمل ہوتے ہیں، جیسے عورتوں کی ٹائٹس یعنی تنگ و چست پاجامے وغیرہ (کہ ان کی وجہ سے اعضائے ستر کی بناوٹ و ہیئت دکھائی دیتی ہے)، ایسے کپڑوں کا پہننا دوہری وجہ سے ناجائز ہو گا۔ البتہ ان کپڑوں سے کسی طرح مشابہت و بے پردگی وغیرہ ممانعت کا عنصر ختم کر دیا جائے، تو خرید و فروخت کی ممانعت بھی باقی نہ رہے گی۔

اصولی جزئیات:

گناہ پر تعاون کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾ ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 2)

جو چیز گناہ کے لئے متعین ہو یا اس کا مقصدِ اعظم گناہ کا حصول ہو، اسے بیچنے کے متعلق جد الممتار میں ہے: فاعلم ان معنى ما تقوم المعصية بعينه ان يكون في اصل وضعه موضوعاً للمعصية او تكون هي المقصودة العظمى منه، فانه اذا كان كك يغلب على الظن ان المشتري انما يشتريه لاتيان المعصية، لان الاشياء انما تقصد للاستمتاع بها، فما كان مقصوده الاعظم تحصيل معصية معاذ الله تعالى كان شراؤه دليلاً واضحاً على ذلك القصد، فيكون بيعه اعانة على المعصية‘‘ ترجمہ: پس جان لو کہ بعینہ کسی چیز کے ساتھ معصیت قائم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اصل وضع ہی معصیت کے لئے ہو یا اس چیز سے مقصدِ اعظم گناہ کا حصول ہو، تو ایسی صورت میں خریدار کے متعلق یہ گمان غالب ہو گا کہ وہ اسے گناہ میں استعمال کے لئے خرید رہا ہے، کیونکہ چیزوں سے نفع حاصل کرنے کا ہی قصد ہوتا ہے،تو جس چیز کا مقصدِ اعظم معصیت کا حصول ہو، تو اس کا خریدنا گناہ کے قصد پر واضح دلیل ہے، تو اس شے کا بیچنا گناہ پر مدد کرنا ہے۔ (جد الممتار، فصل فی البیع، جلد 7، صفحہ 75 تا 77، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ناجائز کام پر مدد کرنے والی چیزیں بنانے اور فروخت کرنے کے ناجائز ہونے کے بارے میں در مختار میں ہے ”فاذا ثبت کراھۃ لبسھا للتختم ثبت کراھۃ بیعھا وصیغھا لما فیہ من الاعانۃ علی ما لایجوز، و کل ماأدی الی ما لا یجوز لا یجوز“ ترجمہ: جب ان (مرد کے لیے سونے، پیتل اور تانبےکی) چیزوں کی انگوٹھیاں پہننے کی ممانعت ثابت ہوگئی، تو اس کے بیچنے اور بنانے کی کراہت بھی ثابت ہوگئی، کیونکہ اس میں ناجائز کام پر مدد کرنا ہے اور ہر وہ کام جو ناجائز کام کی طرف لے جائے، وہ بھی ناجائز ہوتا ہے۔ (در مختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی اللبس، جلد 9، صفحہ 595، مطبوعہ کوئٹہ)

اسی بارے میں فتاوی رضویہ میں ہے: یہ اصل کلی یاد رکھنے کی ہے کہ بہت جگہ کام دے گی۔ جس چیز کا بنانا ، ناجائز ہو گا، اسے خریدنا، کام میں لانا بھی ممنوع ہو گا اور جس کا خریدنا، کام میں لانا منع نہ ہو گا، اس کا بنانا بھی ناجائز نہ ہو گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 464، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

جاندار کی تصاویر والے کپڑوں کے متعلق جزئیات:

صحیح بخاری میں حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ان اشد الناس عذابا عند اللہ يوم القيامة المصورون‘‘ ترجمہ: بیشک کل بروز قیامت اللہ تعالی کے ہاں لوگوں میں سے سب سے زیادہ عذاب تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔ (صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب عذاب المصورون یوم القیامۃ، ج 2، ص 880، مطبوعہ کراچی)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کا چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے سے دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل ظاہر ہو، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پر ہو اس کا پہننا، پہنانا یا بیچنا، خیرات کرنا سب ناجائز ہے اور اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ۔ ۔ ایسے کپڑے پر سے تصویر مٹادی جائے یا اس کا سر یا چہرہ بالکل محو کردیا جائے، اس کے بعد اس کا پہننا، پہنانا، بیچنا، خیرات کرنا، اس سے نماز، سب جائز ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسے پکے رنگ کی ہو کہ مٹ نہ سکے دھل نہ سکے تو ایسے ہی پکے رنگ کی سیاہی اس کے سر یا چہرے پر اس طرح لگادی جائے کہ تصویر کا اتنا عضو محو ہوجائے صرف یہ نہ ہو کہ اتنے عضو کا رنگ سیاہ معلوم ہو کہ یہ محو ومنافی صورت نہ ہوگا‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 567، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

کفار و فساق سے مشابہت کے متعلق جزئیات:

جو شخص جن لوگوں سے مشابہت کرے یا ان جیسا لباس پہنے، اس کا شمار انہی میں ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: من تشبہ بقوم فھو منھم“ ترجمہ: جو کسی قوم سے مشابہت کرے ، تو وہ اُنہی میں سے ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، ج 2، ص 203، الحدیث 4031، مطبوعہ لاھور)

اس حدیثِ پاک کے تحت صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ حدیث ایک اصلِ کلی ہے۔ لباس و عادات و اطوار میں کن لوگوں سے مشابہت کرنی چاہیے اور کن سے نہیں کرنی چاہیے، کفار و فساق و فجار سے مشابہت بری ہے اور اہلِ صَلاح و تقوٰی کی مشابہت اچھی ہے۔ پھر اس تشبہ کے بھی درجات ہیں اور اُنہِیں کے اعتبار سے احکام بھی مختلف ہیں۔ کفار و فساق سے تشبہ کا ادنٰی مرتبہ کراہت ہے۔ (بھارِ شریعت، ج 3، حصہ 16، ص 407، مطبوعہ کراچی)

سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کسی مباح کام کےمتعلق فرماتے ہیں: مگر اس حالت میں کہ یہ کسی شہر میں آوارہ و فساق لوگوں کی وضع ہو، تو اس عارض کے سبب اس سے احتراز (کرنا) ہو گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 200، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فاسقین کی طرز کا لباس بنانا، ناجائز و گناہ ہے۔ فتاوی قاضی خان میں ہے: الاسکاف او الخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیء من زیّ الفساق و یعطی لہ فی ذلک کثیر اجر لا یستحب لہ ان یعمل، لانہ اعانۃ علی المعصیۃ“ ترجمہ: موچی اور درزی کے لیے بہتر نہیں کہ وہ فاسق لوگوں کی طرز کے جوتے یا کپڑے سلائی کریں، اگرچہ بہت زیادہ رقم کے بدلے میں کیونکہ یہ گناہ کے کام پر دوسرے کی مدد کرنا ہے‘‘۔ (فتاوی قاضیخان، جلد 3، صفحہ 306، مطبوعہ بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے: کپڑے کی بناوٹ میں ۔ ۔ بد وضع آوارہ فاسقوں کی مشابہت نہ پیدا ہو، مثلا مرد کو چولی دامن میں گوٹا پٹھا ٹانکنا مکروہ ہو گا، اگرچہ چار انگل سے زیادہ نہ ہو کہ وضع خاص فساق بلکہ زنانوں (عورتوں) کی ہے ۔ ۔۔ فاسقانہ تراش کے کپڑے یا جوتے پہننا گناہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 137، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7148
تاریخ اجراء: 23 جمادی الثانی 1444ھ / 16 جنوری 2023ء