logo logo
AI Search

تصویر والے سونے کے سکوں کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جن سونے کے سکوں پر تصویر بنی ہو، ان کی خرید و فروخت کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایسے سونے کے سکے کی خرید و فروخت کرنا کیسا، جس پر تصویر بنی ہو؟

جواب

ایسے سکے، جن پر بت وغیرہ کسی جاندار کی تصویر و نقش بنا ہوا ہو، ان کی خرید و فروخت جائز ہے، کہ یہاں سکوں کی خریدوفروخت ہے، نہ کہ تصویر کی۔ شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفى: 483ھ) شرح السیر الکبیر میں تحریر فرماتے ہیں: فأما الدراهم والدنانير فلا بأس بقسمتها وبيعها قبل أن تكسر. لأن هذا مما لا يلبس، ولكنه يبتذل في المعاملات.ألا ترى أن المسلمين يتبايعون بدراهم الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، ولا يمتنع أحد عن المعاملة بذلك. وإنما يكره هذا فيما يلبس أو يعبد من دون اللہ من الصليب و نحوها. ترجمہ: البتہ دراہم و دنانیر کو تقسیم کرنے اور توڑنے سے پہلے بیچنے میں حرج نہیں کیونکہ یہ ان چیزوں میں سے ہیں جن کو پہنا نہیں جاتا، ہاں معاملات میں خرچ کیا جاتا ہے۔ غور تو کیجئے، مسلمان اُن عجمی دراہم کی خریدو فروخت کرتے ہیں، جن میں بادشاہوں کی تصاویر بنی ہوتی ہیں اور ان کی خریدو فروخت سے کسی نے بھی منع نہیں کیا، اور یہ صورت صرف لباس میں مکروہ ہے کہ جاندار کی تصویر والا لباس بیچنا مکروہ ہے یا اللہ کے علاوہ جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے جیسے صلیب وغیرہ ان میں مکروہ ہے۔ (شرح السیر الکبیر، ص 1051، الشركة الشرقية للإعلانات)

مفتیِ اعظم پاکستان مفتی محمد وقار الدین قادِری رحمۃ اللہ علیہ تصویر والی کتابوں کی خرید و فروخت کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: صورتِ مسئولہ میں ان کتابوں کو بیچنا، جائز ہے کہ یہ کتابوں کی خرید و فروخت کرنا ہے، نہ کہ تصاویر کی۔ البتہ علیحدہ سے تصویر کا بیچنا حرام ہے۔ (وقار الفتاوی، ج 1، ص 218، بزمِ قار الدین، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5111
تاریخ اجراء: 27 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 13 جون 2026ء