logo logo
AI Search

قبضہ سے پہلے خریدی ہوئی چیز ہلاک ہونے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خریدا گیا جانور قبضہ سے پہلے ہلاک ہوگیا، تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے خالد سے قربانی کے لئے دو بکرے خریدے، ایک 60 ہزار کا اور دوسرا 65 ہزار کا، خریداری کے بعد زید نے قیمت ادا کر دی اور خالد سے کہا کہ اگر  بیس، پچیس دن انہیں پاس ہی رکھ لو، تو میرے لئے آسانی ہو جائے گی، اس کے بعد میں لے جاؤں گا اور چارے کے اخراجات بھی دیدوں گا، خالد نے یہ بات قبول کر لی اور کہا کہ اب ان کے نفع و نقصان کے مالک تم ہو، البتہ میں حفاظت میں کوتاہی نہیں کروں گا۔ تین دن کے بعد ایک بکرا رات کو مر گیا (معلوم نہ ہو سکا کہ کس وجہ سے مرا) صبح جیسے ہی خالد کو اس کا علم ہوا، تو اس نے زید کو فوراً اطلاع کر دی۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ نقصان کس کا ہوا؟ کیا خالد پر لازم ہے کہ وہ مرنے والے بکرے کی قیمت زید کو واپس کرے۔           

نوٹ: ابھی تک زید کا بکروں پر شرعاً قبضہ نہیں ہوا تھا، کیونکہ جس گھر میں بکرے موجود تھے اولاً زید و خالد وہاں انہیں دیکھنے گئے، پھر دوسرے گھر میں خرید و فروخت ہوئی اور زید وہیں سے واپس آگیا، الغرض یہ معاملہ پیش آنے تک کسی بھی طریقے سے قبضہ نہیں ہوا۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں وہ بکرا خالد کا ہلاک ہوا اور خالد پر اس کی قیمت واپس کرنا، شرعاً لازم ہے، البتہ اگر زید اپنی رضا و خوشی سے کُل یا بعض قیمت خالد کو معاف کرنا چاہے، تو کر سکتا ہے۔

تفصیل کچھ یوں ہے کہ بیع (خرید و فروخت) کے بعد اگر مشتری (خریدار) نے مبیع (بیچی گئی چیز) پر قبضہ نہ کیا ہو اور وہ کسی آفتِ سماوی (قدرتی آفت) کی وجہ سے ہلاک ہو جائے، تو وہ بائع (بیچنے والے) کی ہلاک ہوتی ہے، اگرچہ بائع یا مشتری نے کہہ دیا ہو کہ اب اس کے نفع و نقصان کا مالک مشتری ہو گا۔ ہاں! اگر بعدِ قبضہ ہلاک ہو، تو مشتری کی ہلاک ہوتی ہے۔ پھر قبضہ دو طرح سے ہو تا ہے: ایک حقیقی اور وہ یہ کہ مشتری مبیع کو پکڑ لے اور دوسرا حکمی اور وہ یہ کہ مشتری مبیع کے اتنا قریب ہو کہ اسی جگہ پر رہتے ہوئے اسے پکڑنا چاہے، تو بغیر کسی رکاوٹ کے پکڑ سکے اور بائع اسے مثلاً یوں کہہ دے کہ اس پر قبضہ کر لو۔ اب پوچھی گئی صورت میں کسی بھی طریقے سے قبضہ نہیں ہوا، لہذا وہ بکرا خالد کا ہلاک ہوا اور اس کی قیمت زید کو واپس کرنا لازم ہو گا ۔

اسی طرح کا معاملہ جلیل القدر صحابہ حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف اور حضرتِ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہما کے درمیان پیش آیا، تو حضرتِ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے یہی فیصلہ فرمایا کہ بائع مشتری کو ثمن واپس کرے۔

مذکورہ حکم پر حدیث پاک اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کا عمل:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’لو بعت من اخيك ثمرا، فاصابته جائحة، فلا يحل لك ان تاخذ منه شيئا، بم تاخذ مال اخيك بغير حق؟‘‘ ترجمہ: اگر تو نے اپنے بھائی کو پھل بیچ دئیے اور انہیں آفت پہنچ گئی، تو تیرے لئے اپنے بھائی سے کچھ بھی لینا حلال نہیں، تم اپنے بھائی کا مال ناحق کیسے لے سکتے ہو؟ (صحیح مسلم، ج 3، ص 1190، مطبوعہ، دار احیاء التراث، بیروت)

اس حدیثِ پاک کے تحت امام ابو جعفر طحاوی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ’’فذلک عندنا علی البیاعات التی تصاب فی ایدی بائعیھاقبل قبض المشتری لھا، فلا یحل للباعۃ اخذ اثمانھا، لانھم یاخذونھا بغیر حق‘‘ ترجمہ: ہمارے نزدیک یہ حدیث ان بیوع پر محمول ہے، جن میں مشتری کے قبضہ سے پہلے بیچنے والوں کے قبضہ میں مبیع کو آفت پہنچ جائے، تو بیچنے والوں کے لئے ثمن لینا جائز نہیں، کیونکہ وہ اسے ناحق لینے والے قرار پائیں گے۔ (شرح معانی الآثار، ج 4، ص 34، مطبوعہ، عالم الکتب)

علامہ بدر الدین عینی علیہ رحمۃ اللہ الباری ’’نخب الافکار‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’باع عبد الرحمن بن عوف من سعد بن ابی وقاص عنبًا له، فاصابه الجراد، فاذهبه او اكثره، فاختصما الى عثمان بن عفان، فقضى على عبد الرحمن برد الثمن الى سعد‘‘ ترجمہ: حضرتِ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے انگور بیچے، تو ٹڈیاں تمام یا اکثر انگور کھا گئیں، پس انہوں نے یہ معاملہ حضرتِ عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کی بارگاہ میں پیش کیا، تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ حضرتِ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کو رقم واپس کریں۔ (نخب الافکار، ج 11، ص 528، مطبوعہ، قطر)

فقہی جزئیات:

قبضہ سے پہلے مبیع ہلاک ہو، تو وہ بائع کی اور بعدِ قبضہ ہو، تو مشتری کی ہلاک ہو گی۔ چنانچہ الحجۃ علی اہل المدینہ میں ہے: ’’اذا قبض المشتری ما اشترى وخلى البائع بينه وبينه فصار فی ضمانه، فما هلك منه من قليل او كثير، فهو من مال المشتری واذا لم يقبض المشتری ما اشترى، فما ذهب منه من قليل او كثير، فهو من مال البائع، لانه هلك فی ضمان البائع قبل ان يسلمه الى المشتری‘‘ ترجمہ: جب مشتری نے خریدی گئی چیز پر قبضہ کر لیا اور بائع نے مبیع اور مشتری کے درمیان تخلیہ کر دیا، پس وہ چیز مشتری کے ضمان میں چلی گئی، اب اس میں سے قلیل یا کثیر کچھ بھی ہلاک ہوا، تو وہ مشتری کے مال سے ہو گا۔ اور جب مشتری نے خریدی گئی چیز پر قبضہ نہ کیا ہو، تو اس میں سے قلیل یا کثیر کچھ بھی ضائع ہوا، وہ بائع کے مال سے ہو گا، کیونکہ مشتری کو سپرد کرنے سے قبل وہ بائع ہی کے ضمان میں ضائع ہوا ہے۔ (الحجۃ علی اھل المدینہ، ج 2، ص 557، مطبوعہ، عالم الکتب، بیروت)

بائع کے قبضہ میں مبیع ہلاک ہو جانے کی صورت میں مشتری کو قیمت واپس کرنا واجب ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: ’’جب شے مبیع قبلِ قبضہ مشتری، دستِ بائع میں ہلاک ہوگئی، بیع جاتی رہی اور جو قیمت لی تھی وہ واپس دینی واجب ’’فی رد المحتار عن الفتح والدر المنتقی: لوھلک المبیع بفعل البائع او بفعل المبیع او بامر سماوی بطل البیع ویرجع بالثمن لو مقبوضا‘‘ ترجمہ: رد المحتار میں فتح القدیر اور در منتقیٰ کے حوالہ سے ہے کہ اگر مبیع بائع یا مبیع کے اپنے فعل یا کسی امرِ سماوی کی وجہ سے ہلاک ہو گئی، تو بیع باطل ہو جائے گی اور مشتری ثمن واپس لے لے گا، اگر بائع اس پر قبضہ کر چکا ہو۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 116، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بائع یا مشتری نے اگرچہ کہہ دیا ہو کہ اب اس کے نقصان کا ذمہ دار مشتری ہوگا، تب بھی حکمِ مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’کوئی چیز خرید کر بائع کے یہاں چھوڑدی اور کہد یا کہ کل لے جاؤں گا، اگر نقصان ہو، تو میرا ہوگا اور فرض کرو، وہ جانور تھا، جو رات میں مرگیا، تو بائع کا نقصان ہوا، مشتری کا وہ کہنا بیکار ہے، اس لیے کہ جب تک مشتری کا قبضہ نہ ہو، مشتری کو نقصان سے تعلق نہیں۔‘‘ (بھارِ شریعت، ج 2، ص 644، مطبوعہ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حقیقی قبضہ کا معاملہ واضح ہے اور حکمی قبضہ کیسے ہو گا؟ اس بارے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: ’’تخلیہ کے لئے جو تمکن قبض شرط ہے، اس کے یہ معنی ہیں کہ شئی موہوب، موہوب لہ سے اس قدر قریب ہوکہ یہ ہاتھ بڑھائے، تو اس تک پہنچ جائے، اٹھ کر اس کے پاس جانے کی حاجت نہ ہو، فقط الماری اور صندوق کا کُھلا ہونا ہرگز کافی نہیں۔۔۔ صرف تمکن قبضہ فی الحال ہر گز کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ مخلی، مخلی لہ کو قبضہ کاحکم کرے، مثلا "خذہ" یا "اقبضہ" کہے یا "خلیت لک عنہ" یا اس کے مثل جو اس معنی کو ادا کرے۔۔۔ مطلقا امر بالقبض بھی کافی نہیں، بلکہ خاص وہ امر بالقبض درکار ہے جو اس شئی کی طرف مضاف ہو، مثلا ہبہ یا بیع کرکے کہا:لے لے یا قبضہ کرلے، تخلیہ نہ ہوا، جب تک یوں نہ کہے کہ یہ چیز لے لے یا اس پر قبضہ کرلے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 311 تا 313 ملتقطاً، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اشکال: پوچھی گئی صورت میں بیع کے بعد مشتری نے بائع سے کہہ دیا تھا کہ تم بیس، پچیس دن بکرے پاس ہی رکھو، ان کی دیکھ بھال کرو، انہیں چارہ وغیرہ ڈالو، پھر بائع مشتری کے حکم کے مطابق ایسا کرتا بھی رہا، تو کیا اس کی وجہ سے مشتری کا قبضہ شمار نہیں ہو گا ؟

جواب: مشتری نے اگرچہ بائع کو ان چیزوں کا حکم دیا اور اس نے حکم کی تعمیل بھی کی، تب بھی مشتری کا قبضہ شمار نہیں ہوگا، کیونکہ مشتری کے قبضہ سے پہلے مبیع کی حفاظت اور مبیع کے جانور ہونے کی صورت میں اسے چارہ وغیرہ کھلانا ویسے ہی بائع پر لازم ہوتا ہے، مشتری پر ان اخراجات کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ اگر مشتری قبضہ سے قبل ان کاموں کے لئے بائع کو اجیر رکھ لے، تو اجارہ درست نہیں، کیونکہ پہلے سے واجب شدہ کام پر اجارہ درست نہیں ہوتا، لہذا مشتری کا یہ قول اور بائع کا اس پر عمل قبضہ کے لئے کافی نہیں ہو گا۔

مشتری کے قبضہ سے قبل مبیع کا نفقہ بائع پر لازم ہے۔ چنانچہ فتح القدیر میں ہے: ’’ونفقة المبيع قبل ان يقبض قيل: على المشتری فتكون تابعة للملك كالمرهون والصحيح انه على البائع ما دام في يده‘‘ ترجمہ: اور قبضہ سے پہلے مبیع کا خرچ ایک قول کے مطابق مشتری پر ہے، پس یہ خرچ ملک کے تابع ہو گا، جیسے مرہونہ چیز کا خرچ مالک پر ہوتا ہے اور صحیح یہ ہے کہ بائع پر ہو گا، جب تک مبیع بائع کے قبضہ میں ہو۔ (فتح القدیر، ج 4، ص 428، مطبوعہ، دار الفکر)

قبضہ سے قبل جانور کے چارے کے اخراجات بائع پر لازم ہیں۔ چنانچہ فتاوی قاضیخان میں ہے: ’’علف الدابة الرهن لا يكون على المرتهن، اما علف دابة المبيع قبل القبض يكون على البائع‘‘ ترجمہ: مرہونہ جانور کا چارہ مرتہن پر نہیں ہوگا، بہر حال بیچے ہوئے جانور کا چارہ مشتری کے قبضہ سے قبل بائع پر ہو گا۔ (فتاویٰ قاضیخان، ج 2، ص 142، مطبوعہ، دارالکتب العلمیہ)

بائع مبیع پر اخراجات کر رہا ہو اور وہ ہلاک ہو جائے، تو بائع کی ہلاک ہو گی۔ چنانچہ محیطِ برہانی میں ہے: ’’نفقة المبيع على البائع الى ان يحضر المشتری فيقبض واذا هلكت كانت عليه‘‘ ترجمہ: مبیع کا نفقہ مشتری کے حاضر ہو کر قبضہ کرنے تک بائع پر لازم ہے اور جب مبیع ہلاک ہو گئی، تو بائع کی ہلاک ہو گی۔ (محیطِ برھانی، ج 9، ص 58، مطبوعہ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

جو چیزیں پہلے ہی بائع پر لازم ہیں، جیسے قبضہ سے قبل مبیع کی حفاظت وغیرہ، تو اس پر بائع کو اجیر رکھنا درست نہیں۔ چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے: ’’ولو استاجر البائع ليحفظه لم يصح، لانه واجب عليه كذا فی التتارخانية‘‘ ترجمہ: اگر مشتری نے (مبیع پر قبضہ کرنے سے قبل) بائع کو اجیر رکھا، تاکہ وہ مبیع کی حفاظت کرے، تو یہ درست نہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی بائع پر واجب ہے، ایسے ہی تاتارخانیہ میں ہے۔ (فتاوی ھندیہ، ج 3، ص 21، مطبوعہ دار الفکر)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7043
تاریخ اجراء: 06 شعبان المعظم 1445ھ/17 فروری 2024ء