logo logo
AI Search

کرایہ پر دی ہوئی دکان بیچنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کرایہ پر دی ہوئی دکان بیچنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی دکان کرائے پر دی ہوئی تھی، ابھی وہ دکان میں نے ایک شخص کو بیچی ہے، اور اس معاملے میں کرایہ دار سے بھی اجازت لی تھی  کہ یہ دکان فلاں شخص کو بیچ دی ہے اور آئندہ کرایہ وغیرہ کے معاملات بھی وہ شخص ہی دیکھے گا اس طرح کہ ایگریمنٹ نیا تیار کر کے اس میں آنر شپ نئے خریدار کے نام کردی ہے، تو کرایہ دار نے نئے مالک کے ساتھ ایگریمنٹ کر کے اس کی اجازت دے دی، ایسی صورت میں کیا اس دکان کی بیع درست ہوئی یا نہیں ؟

جواب

مالک اگر کرایہ پر دی ہوئی چیز کرایہ دار کے علاوہ کسی اور کو بیچنا چاہے تو شرعاً بیچ سکتا ہے مگر کرایہ دار کے حق میں یہ بیع اس وقت نافذ ہوگی کہ جب وہ اس کی اجازت دے، اگر کرایہ دار بیع کی اجازت نہیں دیتا تو اس کے حق میں بیع نافذ نہیں ہوگی یعنی اسے چیز واپس کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، اور بیع کا نفاذ اجارہ کا ایگریمنٹ ختم ہونے پر خود بخود ہو جائے گا کہ ایگریمنٹ کے اختتام سے کرایہ دار کا حق ساقط ہو جاتا ہے، نیز کرایہ دار کے اجازت دینے کی صورت میں پہلے مالک سے اس کا  کرایہ کا معاہدہ فسخ یعنی ختم ہو جائے گا پھر اگر کرایہ دار اور نیا مالک باہمی رضامندی سے نیا معاہدہ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ۔ لہذا صورت مسئولہ میں چونکہ کرایہ دار نے بیع کی اجازت دیدی بلکہ اس کے بعد نئے مالک سے اجارہ کا نیا معاہدہ بھی کر لیا، تو اس صورت میں مذکورہ بیع درست و نافذ ہو گئی ۔

کرایہ پر دی ہوئی جگہ کی بیع کے متعلق جامع الفصولین میں ہے: "البیع بلا اذن المستاجر نفذ فی حق البائع و المشتری لا فی حق المستاجر فلو سقط حق المستاجر عمل ذلک البیع و لا حاجۃ الی التجدید و ھو الصحیح و لو اجازہ المستاجر نفذ فی حق الکل ۔" کرایہ دار کی اجازت کے بغیر بیع بائع اور مشتری کے حق میں نافذ ہو جاتی ہے کرایہ دار کے حق میں نافذ نہیں ہوتی۔ اگر کرایہ دار کا حق ساقط ہو جائے تو اسی بیع پر عمل کیا جائے گا اور نئے سرے بیع کرنے کی حاجت نہیں۔ یہی صحیح ہے۔ اگر کرایہ دار اس بیع کی اجازت دے دے تو سب کے حق میں نافذ ہو جائے گی۔ (جامع الفصولین، ج 2، ص 67، مطبوعہ: کراچی)

یونہی در مختار میں ہے: "ووقف بیع المرھون والمستاجر علی اجازۃ مرتھن ومستاجر، ملتقطا" مرہون اور کرایہ پر دی ہوئی چیز کی بیع مرتہن اور کرایہ دار کی اجازت پر موقوف ہے۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے: "ولو اجازہ المستاجر نفذ فی حق الکل، ولا ینزع من یدہ لیصل الیہ مالہ، اذ رضاہ بالبیع یعتبر لفسخ الاجارۃ لا للانتزاع من یدہ " اگر کرایہ دار نے اس (بیع) کی اجازت دے دی تو سب کے حق میں وہ (بیع ) نافذ ہو جائے گی، اور کرایہ دار کے ہاتھ سے اس چیز کو نہیں لیا جاسکتا جب تک اس کا مال وصول نہ ہو جائے، کیونکہ اس کا بیع پر راضی ہونا اجارہ کے فسخ ہونے کے لئے معتبر ہے نہ کہ اس کے ہاتھ سے وہ چیز واپس لینے کے لئے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 7، ص 324 تا 325، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: "جو چیز رہن رکھی ہے یا کسی کو اجرت پر دی ہے اس کی بیع مرتہن پر یا مستاجر کی اجازت پر موقوف ہے یعنی اگر جائز کر دیں گے جائز ہو گی مگر بیع فسخ کرنے کا ان کو اختیار نہیں ۔۔۔۔۔ مستاجر نے بیع کو جائز کر دیا تو بیع صحیح ہو گئی مگر اس کے قبضے سے نہیں نکال سکتے جب تک اس کا مال وصول نہ ہولے ۔" (بہار شریعت، ج 2، حصہ 11، ص 731 تا 732، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)

اگر کرایہ دار نے اجازت نہ دی تو اجارہ کا معاہدہ ختم ہوتے ہی وہ بیع خود بخود نافذ ہو جائے گی ۔ چنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: "ثم اذا لم یجز المستاجر حتی انفسخت الاجارۃ بینھما نفذ البیع السابق" پھر اگر کرایہ دار (بیع کی) اجازت نہ دے تو ان دونوں کے درمیان اجارہ ختم ہوتے ہی پہلی بیع نافذ ہوجائے گی ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج 3، ص 110، مطبوعہ کوئٹہ)

یونہی بہار شریعت میں ہے: "مرتہن و مستاجر نے اجازت نہیں دی اور اب اجارہ ختم ہو گیا یا فسخ کر دیا گیا اور مرتہن کا دین ادا ہو گیا یا اس نے معاف کر دیا اور چیز چھوڑا لی گئی تو وہی پہلی بیع خود بخود نافذ ہو گئی۔" (بہار شریعت، ج 2، حصہ 11، ص 732، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)

یاد رہے ! کہ جب کرایہ دار بیع کی اجازت نہ دے تو اس صورت میں اگرچہ بیع ایگریمنٹ  ختم ہونے پر خود بخود نافذ ہو جائے گی لیکن اس نفاذ کا تعلق ایگریمنٹ ختم ہونے کے وقت سے نہیں بلکہ خریداری کے وقت سے ہوگا اور اس وقت سے ہی دکان خریدنے والے کی ملکیت شمار ہو گی لہذا وقتِ خریداری سے لے کر ایگریمنٹ کے اختتام تک کا کرایہ بھی خریدار کو ملے گا۔ چنانچہ در مختار میں ہے: "کل ما یحدث من المبیع کالکسب و الولد و العقر و لو قبل الاجازۃ یکون للمشتری، لان الملک تم لہ من وقت الشراء۔" ہر وہ چیز جو مبیع سے پیدا ہو جیسے کمائی، بچہ اور باندی کا مہر اگرچہ مجیز کی اجازت سے قبل ہو مشتری کے لئے ہے اس لئے کہ اس کی ملکیت وقتِ خریداری سے مکمل ہوتی ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 7، ص 335، مطبوعہ: کوئٹہ)

یونہی بحر الرائق میں ہے: "قولہ: (و لو قطعت یدہ عند المشتری فاجیز فارشہ لمشتریہ) لان الملک ثبت لہ من وقت الشراء لما قدمناہ فتبین ان القطع ورد علی ملکہ، وعلی ھذا کل ما یحدث فی المبیع من کسب او ولد او عقر قبل الاجازۃ فھو للمشتری ۔" ماتن کا قول: (اگر مشتری کے پاس غلام کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر مجیز نے اس بیع کی اجازت دی تو اس کا تاوان مشتری کے لئے ہے) اس لئے کہ مشتری کی ملکیت خریداری کے وقت سے ثابت ہو گی اس وجہ سے جو ہم نے پیچھے بیان کی، واضح ہو گیا کہ ہاتھ کاٹنا مشتری کی ملک میں وارد ہوا ہے۔ اس پر یہ اصول متفرع ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو مجیز کی اجازت سے پہلے مبیع سے حاصل ہو جیسے غلام کی کمائی یا بچہ یا باندی کا مہر وہ مشتری کا ہے۔ (بحر الرائق، ج 6، ص 254، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: har-7300
تاریخ اجراء: 25 شعبان المعظم 1447 ھ/14 فروری 2026ء