ٹیوشن میں دینی تعلیم دینے پر اجرت کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
ٹیوشن کے دوران دینی تعلیم دینا بھی اجرت پر دین سکھانا کہلائے گا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جب فریقین (ٹیچر اور بچے کے سرپرست) کے درمیان اسکول کی تعلیم دینے پر ہی اجارہ ہوا ہے، اور فیس بھی سکول کی کتابوں کی ہی لی جاتی ہے، تو اب اگرچہ ساتھ میں ضمنی طور پر کچھ دینی چیزیں بھی سکھائی جاتی ہیں، مگر یہ فیس دنیاوی مضامین پڑھانے کی ہی کہی جائے گی کہ اس کے امورِ مفوضہ یعنی جو کام اس کے ذمہ لگایا گیا ہے وہ دنیاوی تعلیم ہے، دینی تعلیم تو وہ اپنے طور پر دے رہی ہے لہٰذا یہ اجرت دینی تعلیم پر لینا نہیں ہوا۔
یاد رہے! متأخرین علمائے کرام نے دینی ضرورت کے پیش نظر تعلیمِ قرآن، امامت وغیرہ امورِ دینیہ کی خدمت سر انجام دینے پر اُجرت لینے کو جائز قرار دیا ہے۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: قرآنِ عظیم کی تعلیم، دیگر دینی علوم، اذان اور امامت پر اُجرت لینا جائز ہے جیسا کہ متأخرین ائمہ نے موجودہ زمانہ میں شعائرِ دین اور ایمان کی حفاظت کے پیشِ نظر فتویٰ دیا ہے، اور باقی طاعات مثلاً زیارتِ قبور، اموات کے لئے ختمِ قرآن، قراءت، میلادِ پاک سید الکائنات علیہ وعلیٰ آلہ افضل الصلوات و التحیات پر اصل ضابطہ کی بنا پر منع باقی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 19، صفحہ 495، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2525
تاریخ اجراء: 19 ربیع الآخر 1447ھ / 13 اکتوبر 2025ء