logo logo
AI Search

کچھ دن اسکول پڑھ کر چھوڑ دیا تو کتنی فیس دینی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مہینے کے درمیان اسکول چھوڑنے پر پورے مہینے کی فیس دینی ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اسکول میں بچوں کی ماہانہ فیس مقرر ہوتی ہے۔ اگر کوئی طالب علم صرف پانچ دن اسکول میں پڑھنے کے بعد اسکول چھوڑ دے، اور اسکول انتظامیہ پورے مہینے کی فیس کا مطالبہ کر رہی ہو، جبکہ بچے کے والدین کا کہنا ہو کہ وہ صرف انہی دنوں کی فیس ادا کریں گے جتنے دن بچے نے پڑھا ہے۔ اب شرعی اعتبار سے کیا پورے مہینے کی فیس ادا کرنا لازم ہے اگرچہ بچے نے پانچ دن پڑھا ہو،یا جتنے دن بچہ اسکول گیا ہے صرف انہی دنوں کی فیس دینا لازم ہوگی؟

جواب

اسکول، ٹیوشن میں جب بچے کا داخلہ کروادیا جاتا ہے، تو مہینے بھر کیلئے باہمی رضا مندی سے جگہ اور وقت کے تعین کے ساتھ عقد اجارہ ہوجاتا ہے۔ اب بچے کے چند دن بعد اسکول یا ٹیوشن چھوڑنے پر کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ متعین جواب کےلئے اپنی متعین صورت بتاکر مسئلہ معلوم کرلیں ورنہ عمومی اصول یہ ہے کہ اسکول چھوڑ جانے پر پورے مہینے کی فیس دینا پہلے سے طے شدہ ہو تو اکثر اسی کا اعتبار ہے اور اگر پہلے سے طے نہ ہو، تو اب عرف کا اعتبار ہوگا، اگر عرف ہوتو پوری فیس دینی ہوگی، ورنہ اگر نہ طے ہو، نہ عرف تو پوری فیس جائز نہیں،چنانچہ فتاوی بحر العلوم میں ہے: اجارات وغیرہ معاملات میں ان شرائط کے موافق حکم شرعی ہوگا جو متعاقدین میں باہم طے ہوں، اور طے نہ ہونے کی صورت میں اس کے موافق جو اس علاقہ اور اس زمانہ کا عرف ہو۔ فقہ کا یہ عام قاعدہ کلیہ ہے ’’المعروف كالمشروط‘‘ فتاوی رضویہ ششم، ص 144 میں ہے: اجارات وغیرہ معاملات میں عمل تعارف پر ہے تو طالب علم اور پرنسپل میں داخلہ کے وقت ہی طے ہو گیا ہو کہ مہینہ کے پورے دنوں کی فیس لی جائے گی۔ یا ادھر کا یہی عرف ہوتو پرنسپل کا تعطیل کے دنوں کی فیس وصول کرنا، جائز اور نہ معاملہ ہوا ہو، نہ ایسا عرف ہو، تو ناجائز۔ (فتاوی بحر العلوم، جلد 4، صفحہ 533، مطبوعہ ضیاء اکیڈمی، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر:FAM-1185
تاریخ اجراء: 17 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 05 مئی 2026ء