logo logo
AI Search

مزدور اپنی اجرت لیے بغیر چلا گیا تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مزدور نے اپنی اجرت نہ لی ہو تو مالک ان پیسوں کا کیا کرے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری فیکٹری میں یہ اصول ہے کہ کوئی مزدور ایک یا دو دن کا کام کرکے چھوڑ دیتا ہے تو ہم اس کو اتنے دنوں کی مزدوری دیتے ہیں مگرایک دفعہ ایسا ہوا کہ آٹھ دس مزدوروں نے 2 یا 3 دن کام کیا مگر وہ مزدوری لینے نہیں آئے اور نہ ہی ان سے رابطے کی کوئی صورت ہے۔ ایک سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے اب اس صورت میں کیا کیا جائے ؟ آیا ان کا انتظار کریں یا صدقہ کردیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں حکم شرعی یہ ہے کہ ان مزدوروں تک رسائی کی ہر ممکن کوشش کی جائے اور اگر ان کےملنے کی کوئی امید نہ رہے تو اب ان مزدوروں کی جتنی اجرت بنتی ہے وہ ان مزدوروں کی طرف سے کسی فقیر شرعی پر صدقہ کردیں یوں بری الذمہ ہونے کی گنجائش ہے اور اگر وہ مزدور مل جاتے ہیں اور وہ اپنی اجرت کے صدقے میں دئیے جانے پر راضی نہ ہوں تو اب ان کو اجرت اپنے پاس سے دینی ہوگی اور صدقہ آپ کی طرف سے کہلائے گا جس کا ثواب آپ کو ملے گا۔

چنانچہ اسی نوعیت کے ایک سوال (جس میں اسٹیشن تک زید نے کسی گاڑی میں سفر کیا لیکن گاڑی کا کرایہ واجرت اس وقت نہ دیا جاسکا اور آئندہ کل کرایہ دینا طے ہوا لیکن ڈرائیور آئندہ کل لینے نہ آیا اور مسافر اپنی منزل پہنچ گیا تو اس کرائے سے متعلق کئے گئے سوال) کے جواب میں امام اہلسنت اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں اسٹیشن پر جانے والی گاڑیاں اگر کوئی مانع قوی نہ ہو تو ہر گاڑی کہ آمد و رفت پر ضرور آتی جاتی ہیں۔ اگر زید اسٹیشن پر تلاش کرتا، ملنا آسان تھا۔ اب بھی خود یا بذریعہ کسی متدیّن (دیندار) معتمد کے تلاش کرائے، اگر ملے دے دئے جائیں، ورنہ جب یاس و نا اُمیدی ہوجائے اس کی طرف سے تصدّق کردے اگر پھر بھی وہ ملے اور اس تصدّق پرراضی نہ ہو تو اسے اپنے پاس سے دے۔ کما ھو شان اللقطۃ و سائر الضوائع۔ (یعنی جیسا کہ لقطہ اور دیگر گری پڑی اشیاء کا حال ہوتا ہے۔ مترجم)۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 25، صفحہ 55، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: FMD-0001
تاریخ اجراء: 12 ذی القعدہ 1437ھ / 16 اگست 2016ء