logo logo
AI Search

کرائے کی مشین خراب ہو جائے تو مرمت کا خرچ کس پر؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کرایہ پر دی ہوئی مشین خراب ہو جائے، تو مرمت کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے كہ اگر کسی نے مٹی کھودنے کے لیے اپنی مشین کسی شخص کو کرائے پر دی ہو، پھر کرائے کی مدت کے دوران مشین خراب ہو جائے، تو شرعاً اس کی مرمت کا خرچ کس کے ذمہ ہوگا: مشین کے مالک پر؟ یا کرایہ دار پر؟

جواب

اگر مشین عام استعمال کے دوران، کرائے دار کی کوتاہی یا زیادتی کے بغیر ہی خراب ہوئی ہے، تو کرائے دار پر تاوان نہیں ہے، لہذا مرمت کی ذمہ داری، مالک کے ذمے ہوگی؛ البتہ! اگر کرائے دار نے تعدی و زیادتی کی، مشین کو غلط طریقے سے استعمال کیا، جس وجہ سے مشین خراب ہوئی، یا اس کی غفلت کی وجہ سے مشین خراب ہوئی، تو اس صورت میں اس کا تاوان کرائے دار پر لازم ہوگا۔

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے: "اعمال ‌الأشياء التي تخل بالمنفعة المقصودة عائدة على الآجر، مثلا۔۔۔ تعمير الدار وطرق الماء وإصلاح منافذه وإنشاء الأشياء التي تخل بالسكنى وسائر الأمور التي تتعلق بالبناء كلها لازمة على صاحب الدار" ترجمہ: ایسی چیزیں جو منفعتِ مقصودہ میں مخل بنیں، اُن کی درستی کی ذمہ داری مالک پر عائد ہوتی ہے، مثلاً گھر کی مرمت، پانی کا راستہ، گزرگاہ و راستے کی درستی اور ان چیزوں کو ٹھیک کروانا، جو رہائش اختیار کرنے میں مخل ہیں، اور تمام وہ کام جو گھر کی عمارت کے متعلق ہیں، ان کا کروانا، مالک ِمکان پر لازم ہے۔ (مجلة الاحكام العدلية، ‌‌الكتاب الثاني في الاجارات، ‌‌الباب السادس، صفحہ 99، مطبوعہ: كراچی )

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے”حركة المستأجر على خلاف المعتاد تعد ويضمن الضرر والخسارة التي تتولد معها مثلا لو استعمل الثياب التي استكراها على خلاف عادة الناس وبليت يضمن“ ترجمہ: مستأجر کا معمول کے خلاف تصرف تعدی شمار ہوگا، اور اس سے پیدا ہونے والے نقصان اور خسارے کا وہ ضامن ہوگا۔ مثلاً اگر اس نے کرائے پر لیے ہوئے کپڑوں کو لوگوں کے معمول کے خلاف استعمال کیا اور وہ بوسیدہ ہو گئے تو وہ ان کا ضامن ہوگا۔ (مجلۃ الاحکام العدلیۃ، ص 112، نور محمد کارخانہ، کراچی)

اسی میں ہے ”يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه “ترجمہ: جب کرائے پر دی گئی چیز کرایہ دار کے پاس ہلاک ہو جائے، تو تاوان لازم نہیں ہوگا، جب تک کہ اس (نقصان) میں کرایہ دار کی کوتاہی یا زیادتی یا دی گئی اجازت کی خلاف ورزی شامل نہ ہو۔ البتہ اگر کرایہ دار کی زیادتی کی وجہ سے کرائے کی چیز ضائع ہو جائے یا اس کی قیمت میں کوئی کمی واقع ہو جائے، تو اس پر تاوان دینا لازم ہوگا۔ (مجلة الاحكام العدلية، ‌‌الباب الثامن، ‌‌الفصل الثاني: في ضمان المستأجر، صفحہ 112، مطبوعہ:كراچی)

بغیر تعدی تاوان لازم نہ ہونے کی علت کے متعلق تبیین الحقائق کی عبارت ’’العين أمانة في يد المستأجر“ کے تحت حاشیہ شلبی میں ہے ”لأنه قبضها بإذن المالك ولم يوجد منه الخلاف بعد ذلك فلا يضمن“ ترجمہ: کیونکہ کرایہ دار نے وہ چیز مالک کی اجازت سے حاصل کی تھی اور اس کے بعد کرایہ دار کی طرف سے کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی، لہٰذا وہ تاوان نہیں دے گا۔ (حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق، جلد 5، صفحہ 133، مطبوعہ: بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5187
تاریخ اجراء: 24 محرم الحرام 1448ھ/10 جولائی 2026ء