جانور کی دیکھ بھال کے بدلے دودھ لینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جانور کی دیکھ بھال کے بدلے اس کا دودھ اجرت میں دینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض علاقوں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ کوئی شخص اپنی گائے، بھینس یا بکری کسی دوسرے شخص کے سپرد کر دیتا ہے اور یہ طے ہوتا ہے کہ دوسرا شخص اس جانور کی خوراک، دیکھ بھال اور خدمت انجام دے گا، جبکہ اس کے بدلے میں اسی جانور کا دودھ، یا دودھ کا ایک معین حصہ بطورِاجرت حاصل کرے گا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی صورت میں جانور کو اس کے دودھ کے بدلے اجرت پر دینا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ اگر یہ جائز نہیں تو اس معاملے کی درست اور جائز صورت کیا ہوگی؟
جواب
بیان کردہ صورت جائز نہیں۔ تفصیل: جانور کے دودھ کے بدلےجانور کو دیکھ بھال کے لیے دینا عقد اجارہ ہے۔ عقد اجارہ میں اجرت کا معلوم و متعین ہونا (Specified) ہونا ضروری ہوتا ہے، ورنہ اجارہ فاسد ہوجاتا ہے۔ دودھ مقرر کرنے میں اُجرت مجہول ہے اور اس کا وُجود خطرے میں ہے، یعنی معلوم نہیں کہ دودھ نکلے گا یا نہیں؟ یونہی جتنا دودھ معین کیا ہے، اتنا بھی نکلے گا یا نہیں؟ نیز یہ قفیزِ طحان بھی ہے، کیونکہ اجرت خود اسی چیز کا حصہ ہے جو اجیر کے عمل (دیکھ بھال، چارہ دینا، دودھ دوہنا وغیرہ) کے نتیجے میں حاصل ہوگی۔ فقہی و شرعی اصطلاح میں مزدور کی اجرت اُسی کام میں سے مقرر کرنا، قفیزِطحان کہلاتا ہے، جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے واضح طور پر ممانعت ارشاد فرمائی ہے۔ بہرحال شرعی اعتبار سے یہ صورت اجارہ فاسدہ کی ہے جو کہ شرعاً، ناجائز و گناہ ہے۔ اگر کوئی ایسا معاہدہ کرلے تو اُسے ختم کرنا اور توبہ کرنا واجب ہے۔ اگر کسی نے اس فاسد اجارے والے معاہدے کے تحت کام کر لیا ہو، تو جانور پالنے والے کو چارے کی قیمت (جبکہ اس نے اپنے ذاتی پیسوں سے چارہ کھلایا ہو) اور اُجرتِ مثل (یعنی بازار میں اس طرح کے کام پر جو اجرت دی جاتی ہے) ملے گی، جبکہ دودھ سب کا سب جانور کے مالک کا ہوگا۔ مزدور نے جتنا دودھ اپنے استعمال میں لے لیا ہو، اُتنا ہی دودھ مالک کو واپس دینا لازم ہوگا۔
متبادل جائز صورت:
جانور کا مالک جانور پالنے والے کو بھی اُس جانور کا مالک بنالے مثلاً: جانور كا آدھا یا تہائی حصہ پالنے والے شخص کو ایک معین رقم پر فروخت کردے اور پھر وہ رقم اُسے معاف کردے، جیسے جانور کے مالک نے ایک لاکھ روپے کا جانور خریدا ہو توخریدنے کے بعد پالنے والے شخص کو اس کا آدھا حصہ پچاس ہزار روپے میں بیچ دے اور رقم کی ادائیگی معاف کردے۔ یوں دونوں اپنے اپنے حصے کے تناسب سے جانور کے مالک ہوں گے، لہذا جانور کے جو بھی منافع ہوں گے یعنی بچے، دودھ وغیرہا، وہ دونوں میں اُن کے حصے کے تناسب سے مشترک ہوں گے۔ اب اُسے جانور کی دیکھ بھال کا کہہ دے، تو اس طرح جانور کی دیکھ بھال بھی ہوتی رہے گی اور وہ دیکھ بھال کرنے والا جانور کے دودھ سے اپنے حصے کے بقدر نفع بھی حاصل کرسکے گا، لیکن اس صورت میں بھی اخراجات اور منافع دونوں میں دونوں افراد ہی شریک ہوں گے، کسی ایک کی طرف منتقل نہیں ہوں گے۔
جانور کے دودھ کے بدلے میں جانور کو چارہ کھلانے کے لیے دینا اجارہ فاسدہ ہے، چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے: دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها و ما يكون من اللبن و السمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة و على صاحب البقرة للرجل أجر قيامه و قيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى و يرد كل اللبن إن كان قائما، و إن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، و إن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ و يضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة و الحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن و المصل فيكون بينهما‘‘ ترجمہ: کسی شخص کو گائے دی کہ وہ اسے چارہ ڈالے، اور جو دودھ اور گھی نکلے وہ دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہو، تو یہ اجارہ فاسد ہے۔ اور گائے کے مالک پر لازم ہے کہ وہ اس شخص کو اس کی دیکھ بھال کی اجرت دے، اور اس چارے کی قیمت بھی ادا کرے اگر اس نے اسے اپنے مال سے چارہ ڈالا ہو، نہ کہ اس چارے کی جو اس نے چراگاہ میں چرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ اور تمام دودھ اگر موجود ہو تو واپس کیا جائے، اور اگر ضائع ہو جائے تو اس کی مثل مالک کو دی جائے کیونکہ دودھ مثلی چیز ہے۔ اور اگر کسی نے دودھ سے دہی بنایا ہو تو وہ اسی بنانے والے کا ہوگا اور وہ دودھ کی مثل کا ضامن ہوگا، کیونکہ مالک کا حق صنعت کے ذریعے منقطع ہو جاتا ہے۔ اور اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ وہ گائے کا آدھا حصہ اس شخص کو ایک قیمت کے بدلے بیچ دے اور اس قیمت سے اسے برئ الذمہ کر دے، پھر اسے دودھ اور دہی بنانے کا حکم دیدے، تو اس صورت میں دونوں کے درمیان مشترک ہو جائے گا۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 4، صفحہ 445، 444،دار الکتب العلمیہ، بیروت)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہار شریعت میں فرماتے ہیں: گائے، بھینس خرید کر دوسرے کو دیدتے ہیں کہ اسے کھلائے، پلائے، جو کچھ دودھ ہوگا، وہ دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا، یہ اجارہ بھی فاسد ہے۔ کُل دودھ مالک کا ہے اور دوسرے کو اس کے کام کی اجرتِ مثل ملے گی اور جو کچھ اپنے پاس سے کھلایا ہے، اس کی قیمت ملے گی اور گائے نے جو کچھ چرا ہے، اس کا کوئی معاوضہ نہیں۔ اور دوسرے نے جو کچھ دودھ صرف کرلیا ہے اُتنا ہی دودھ مالک کو دے کہ دودھ مثلی چیز ہے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 14، صفحہ 151، 150، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اُجرت مجہول ہونے سے اِجارہ فاسد ہوجاتا ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: (و) تفسد (بجهالة المسمى) كله أو بعضه‘‘ ترجمہ: اور مکمل یا بعض اجرت کے مجہول ہونے سے اجارہ فاسد ہوجاتا ہے۔ (تنویر الابصار مع در محتار، جلد 9، صفحہ 80، دار المعرفۃ، بیروت)
قفیز طحان کی ممانعت سے متعلق مجمع الانہر میں ہے: جعل الأجر بعض ما يخرج من عمله فصار في معنى «قفيز الطحان وقد نهى عنه رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم»، و المعنى فيه أن المستأجر عاجز عن تسليم الأجر؛ لأنه بعض ما يخرج من عمل الأجير، و القدرة على التسليم شرط لصحة العقد و هو لا يقدر بنفسه، و إنما يقدر بغيره فلا يعد قادرا ففسد‘‘ ترجمہ: اجرت کو اس چیز کا ایک حصہ قرار دیا جو اجیر (مزدور) کے عمل سے حاصل ہوگی، لہٰذا یہ قفیز طحان کے معنی میں ہوجائے گا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اور اس کی علت یہ ہے کہ مستأجر (اجرت پر کام لینے والا) اجرت کے سپرد کرنے پر قادر نہیں ہوتا، کیونکہ اجرت اس چیز کا ایک حصہ ہے جو اجیر کے عمل سے پیدا ہوگی۔ جبکہ عقد کے صحیح ہونے کے لیے اجرت کے سپرد کرنے پر قدرت شرط ہے۔ اور اس میں وہ کسی دوسرے کے ذریعے (یعنی اجیر کے عمل کے نتیجے میں اجرت پر) قادر ہوگا، اور ایسی قدرت معتبر نہیں سمجھی جائے گی، لہٰذا عقد فاسد ہوگا۔ (مجمع الانھر، جلد 2، صفحہ 388، دار احياء التراث العربي، بيروت)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: اجارہ جو امر جائز پر ہو وہ بھی اگر بے تعینِ اجرت ہو تو بوجہِ جہالت، اجارہ فاسدہ اور عقد حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 529، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اجارہ فاسدہ گناہ ہے اور گناہ کو زائل کرنا لازم ہوتا ہے، لہذا اجارہ فاسدہ کو ختم کرنا لازم ہے، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: اجارہ فاسدہ معصیت ہے اور معصیت کا ازالہ (ختم کرنا) فرض۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 346، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1223
تاریخ اجراء: 20 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 06 جون 2026ء