سونے کی ذخیرہ اندوزی کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سونے کی ذخیرہ اندوزی کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نقد روپوں کے بدلے سونا خرید کر اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ نیت یہ ہوتی ہے کہ ہفتہ دس دن تک جب ریٹ زیادہ ہوگا تو یہ سونا بیچ دے گا۔ اس کا یہ کرنا کیسا؟ کیا یوں سونا مہنگا ہونے تک روکے رکھنا جائز ہے؟ اس طرح کرنے سے مقصود محض نفع کمانا ہے۔
جواب
سونا خرید کر اس نیت سے رکھنا کہ جب ریٹ زیادہ ہوگا تو بیچ دوں گا جائز ہے یہ تجارت کی ایک جائز صورت ہے، جو کہ ممنوع احتکار (مہنگائی کے انتظار میں کسی چیز کا ذخیرہ کر لینے) میں داخل نہیں ہے۔ کیونکہ احتکار تب منع ہوتا ہے جب وہ چیز انسانوں یا جانوروں کی بنیادی خوراک ہو، عمومی طور پر مل نہ رہی ہو، اسے مہنگا ہونے کی نیت سے روکا ہو، ابھی نہ بیچنے سے لوگوں کو ضرر ہو اور وہ چیز شہر یا شہر کے قریب سے خریدی ہو۔ جبکہ مذکورہ صورت میں سونے کی بیع میں یہ صورتیں نہیں پائی جا رہیں۔ بلکہ یہ بیع کی ایک عام سی صورت ہے۔ جو کہ جائز ہے۔ جبکہ بیچنے میں نیت مسلمانوں کو تنگی میں ڈالنے اور ضرر پہنچانے کی نہ ہوکہ حدیث کی رو سے ایسا کرنا ضرور منع ہے۔
چنانچہ تجارت میں باہمی رضا سے نفع حاصل کرنے کے جائز ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ﴾ ترجمہ کنز الایمان: ’’اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ، مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو ۔‘‘ (پ 5، سورۃ النساء، آیت 29)
مذکورہ بالا آیت کے تحت شیخ القرآن مفتی محمد قاسم عطاری سلمہ الباری لکھتے ہیں: ”یعنی باہمی رضامندی سے جو تجارت کرو، وہ تمہارے لیے حلال ہے، باہمی رضا مندی کی قید سے معلوم ہوا کہ خرید و فروخت کی وہ تمام صورتیں جن میں فریقین کی رضا مندی نہ ہو، درست نہیں۔ جیسے اکثر ضبط شدہ چیزوں کی نیلامی خریدنا کہ اس میں مالک راضی نہیں ہوتا۔“ (تفسیر صراط الجنان، ج 2، ص 183، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
تجارت اور ذخیرہ اندوزی کرنے کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: "قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: «الجالب مرزوق، والمحتكر ملعون»" ترجمہ: تاجر رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔ (سنن ابن ماجہ، باب الحکرۃ والجلب، ج 2، ص 728، حدیث 2153، دار احیاء الکتب العربیہ)
ہدایہ میں ذخیرہ اندوزی کے متعلق ہے ”وتخصیص الاحتکار بالأقوات کالحنطۃ والشعیر والتبن والقت قول أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ“ ترجمہ: (ممنوع) احتکار اقوات (یعنی غذائی اشیا) کے ساتھ خاص ہے، جیسے گندم، جو، گھاس اور جانوروں کا چارہ۔ یہ امام اعظم ابو حنیفہ کا قول ہے۔ (الہدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی، کتاب الکراہیۃ، فصل فی البیع، ج 4، ص 377، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
بہار شریعت میں مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں: ”احتکار یعنی غلہ روکنا منع ہے اور سخت گناہ ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ گرانی کے زمانہ میں غلہ خرید لے اور اُسے بیع نہ کرے بلکہ روک رکھے کہ لوگ جب خوب پریشان ہوں گے تو خوب گراں کر کے بیع کروں گا اور اگر یہ صورت نہ ہو بلکہ فصل میں غلہ خریدتا ہے اور رکھ چھوڑتا ہے کچھ دنوں کے بعد جب گراں ہو جاتا ہے بیچتا ہے یہ نہ احتکار ہے نہ اس کی ممانعت۔ غلہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں احتکار نہیں۔“ (بہار شریعت، ج 2، حصہ 11، ص 725، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
جنس بدل جائے بیع کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم‘‘ ترجمہ: جب دو چیزیں مختلف قسم کی ہوں تو جیسے چاہو بیچو۔ (نصب الرایۃ لاحادیث الھدایۃ، ج 4، ص 4، مطبوعہ المکتبۃ المکیہ)
فتاوی ہندیہ میں پیسوں کے بدلے سونا چاندی خریدنے کے متعلق ہے: "وإن اشترى خاتم فضة أو خاتم ذهب فيه فص أو ليس فيه فص بكذا فلسا وليست الفلوس عنده فهو جائز تقابضا قبل التفرق أو لم يتقابضا لأن هذا بيع وليس بصرف كذا في المبسوط." ترجمہ: چاندی یا سونے کی انگوٹھی (بھلے اس میں نگ ہو یا نہ ہو) مخصوص پیسوں کے بدلے میں خریدی، حالانکہ پیسے اس کے پاس موجود نہیں ہیں تو یہ جائز ہے، خواہ جدا ہونے سے پہلے عوضین پر قبضہ کر لیا ہو یا نہ کیا ہو۔ کیونکہ یہ (عمومی) بیع ہے۔ بیع صرف نہیں ہے۔ اسی طرح مبسوط میں ہے۔ (الفتاوی الھندیة، ج 3، ص 224، دار الفکر، بیروت)
دُکانداروں کی بدنیتی، ذخیرہ اندوزی اور نفع خوری سے لوگوں کو ضرر (نقصان) ہو تو، لوگوں کو نقصان سے بچانے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’لا ضرر ولا ضرار، من ضار ضرہ اللہ، ومن شاق شق اللہ علیہ‘‘ ترجمہ: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’نہ ضرر لو نہ ضرر دو، جو ضرر دے اللہ عزوجل اس کو ضرر دے اور جو مشقت کرے اللہ عزوجل اس پر مشقت ڈالے۔ (سنن الدار قطنی، ج 4، ص 51، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)
نقصان کو ختم کرنے کے بارے میں الاشباہ والنظائر میں ہے: ’’الضرر یزال اصلھا قولہ علیہ الصلاۃ والسلام لا ضرر ولا ضرار‘‘ ترجمہ: ضرر (نقصان) کو ختم کیا جائے گا، اس قاعدے کی اصل حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: نہ ضرر لو اور نہ ضرر دو۔ (الاشباہ والنظائر، ج 1، ص 121، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو شاھد محمد ماجد علی مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-11661
تاریخ اجراء: 11 ربیع النور 1444ھ/08 اکتوبر2022ء