logo logo
AI Search

زیادہ منافع کیلئے سونا ذخیرہ کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منافع کی غرض سے سونے کا ذخیرہ کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مستقبل کے نفع کی غرض سے سونے کا ذخیرہ کرنا حلال ہے یا نہیں؟

جواب

سونے کو مستقبل میں نفع حاصل کرنے کے لیے روکنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ ممنوعہ ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں، البتہ سونے یا دیگر مالِ زکوٰۃ کی وجہ سے بندہ صاحب نصاب بن جائے تو اس پر شرائطِ زکوٰۃ پائے جانے کی صورت میں زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

اصل میں اِحْتِکار کا لغوی معنیٰ ہے گِرانی کے انتظار میں کسی بھی چیز کا ذخیرہ کرلینا۔ جبکہ شریعت کی اصطلاح میں وہ چیز جو انسانوں یا جانوروں کی بنیادی خوراک ہے اسے اس نیت سے روک کر رکھنا کہ جب اس کی قیمت زیادہ ہوگی تب بیچیں گے بشرطیکہ نہ بیچنے سے لوگوں کو ضرر ہو اور وہ چیز شہر یا شہر کے قریب سے خریدی ہو، یہ اِحتکار کہلاتا ہے۔ لہٰذا اگر اس کے نہ بیچنے سے لوگوں کو ضرر نہیں ہوتا، یا وہ چیز اس کی اپنی زمین کی ہے یا وہ دور سے خرید کر لایا ہے تو ان صورتوں میں روک کر رکھنا احتکار میں داخل نہیں۔

اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: غلّہ کو اس نظر سے روکنا کہ گِرانی کے وقت بیچیں گے بشرطیکہ اسی جگہ یا اس کے قریب سے خریدا اور اس کا نہ بیچنا لوگوں کو مُضِر ہو مکروہ و ممنوع ہے، اور اگر غلّہ دُور سے خرید کر لائے اور بانتظارِ گرانی نہ بیچے یا نہ بیچنا اس کا خلق کو مُضِر نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ،جلد17، صفحہ189، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2492
تاریخ اجراء: 02 ربیع الآخر 1447ھ / 26 ستمبر 2025ء