اسکن وائٹننگ ٹریٹمنٹ کروا سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اسکن وائٹننگ ٹریٹمنٹ کروانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اسکن وائٹننگ ٹریٹمنٹ کروانا کیسا؟
جواب
شریعتِ مطہرہ کی رو سے مرد و عورت کے لیے زیب و زینت کے ممنوع طریقوں کا استعمال ناجائز، اور جائز طریقوں کا استعمال جائز ہے۔ اسکن وائٹننگ ٹریٹمنٹ میں چہرے کے داغ دھبے ختم کیے جاتے، اور جلد کو نرم و ملائم، اور چمکدار و صاف بنایا جاتا ہے؛ جو اپنی ذات میں کوئی وجہِ ممانعت نہیں رکھتا، لہذا اس کام کے لیے جو چیزیں استعمال ہوتی ہیں، اگر ان میں کسی ناپاک چیز کی ملاوٹ نہ ہو، اور نہ ان سے کوئی واضح ضرر پہنچتا ہو، تو اس طریقے کو اختیار کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں۔ زینت جائز ہونے کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ﴾ ترجمہ: اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! آپ فرمائیے: کس نے حرام کی اللہ کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی ہے۔ (سورۃ الاعراف، پارہ 8، آیت 32)
اس آیت کی تفسیر میں امام رازی علیہ الرحمۃ تفسیر الکبیر میں لکھتے ہیں: ”إنه يتناول جميع أنواع الزينة، فيدخل تحت الزينة جميع أنواع التزيين، ويدخل تحتها تنظيف البدن من جميع الوجوه“ ترجمہ: یہ آیت زینت کی تمام اقسام کو شامل ہے لہذا زینت کے تحت تزین کی تمام انواع داخل ہیں اور من کل الوجوہ بدن کی تمام آراستگی اس کے تحت داخل ہے۔ (التفسير الكبير، جلد 05، صفحہ 230، مطبوعہ: لاہور)
ناپاک اجزا شامل ہونے کی صورت میں ان کا استعمال کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ بلاوجہ شرعی جسم ناپاک کرنا ہے، جو کہ جائز نہیں۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے ”اما تنجیس الطاھر فحرام“ ترجمہ: پاک چیز (بلاوجہ شرعی) ناپاک کرنا حرام ہے۔ (البحر الرائق، جلد 1، صفحہ 170، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی یورپ میں ہے ”لیپ سٹیک اور ناخن پالش (LIP STICK + NAGELLAK) جن میں حرام اور ناپاک اشیاء کی آمیزش ہو ان کا استعمال مسلمہ عورتوں کے لئے حرام ہے، اور ان کے لگے رہنے کی صورت میں نہ وضو صحیح ہو نہ غسل اور نہ ہی نماز۔“ (فتاوی یورپ، صفحہ 107، شبیر برادرز، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5118
تاریخ اجراء: 03 محرم الحرام 1448ھ/19 جون 2026ء