logo logo
AI Search

گھر میں ضرورت کے مطابق راشن رکھنا توکل کے خلاف ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گھر میں ضرورت کے مطابق راشن جمع کرکے رکھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا گھر میں ضرورت کے مطابق راشن جمع کرکے رکھنا جائز ہے؟ کیا ایسا کرنا اللہ تعالیٰ پر توکل میں کمی شمار ہوگا؟ اور کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا؟

جواب

گھر میں ضرورت کے مطابق راشن جمع کرکے رکھنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں، اور نہ یہ اللہ تعالیٰ پر توکل میں کمی کی نشانی ہے، کہ شریعت نے اسباب اختیار کرنے کی اجازت دی ہے، اور توکل، اسباب ترک کردینے کا نام نہیں، بلکہ اسباب اختیار کرتے ہوئے، مُسَبِّب الاسباب پر اعتماد کرنے کا نام ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے بھی معلوم ہوتا ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم بھی بعض اوقات اپنے اہلِ خانہ کے لیے ایک مدت کا غلہ محفوظ فرما لیتے تھے، لہٰذا بقدرِ ضرورت راشن رکھنا توکل کے خلاف نہیں، البتہ! اصل بھروسہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہونا چاہیے۔

توکُّل کی وضاحت کرتے ہوئے امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 671ھ / 1273ء) لکھتے ہیں: "أن اللہ تعالى قد خلق للآدمي آلة يدفع عنه بها الضرر وآلة يجتلب بها النفع، فإذا عطلها مدعيا للتوكل كان ذلك جهلا بالتوكل۔۔۔لأن التوكل إنما هو اعتماد القلب على اللہ تعالى وليس من ضرورته قطع الأسباب" ترجمہ: اللہ تعالی نے آدمی کے لیے ایسے اسباب پیدا فرمائے ہیں، جن کے ذریعے وہ ضَرر کو دور کرتا، اور نفع حاصل کرتا ہے، تو جب بندہ توکُّل کا دعوی کرتے ہوئے، اِن اسباب کو چھوڑ دے، تو یہ در اصل توکُّل سے ناواقفیت ہے، کیونکہ توکل اللہ تعالی کی ذات پر، دل کے اعتماد کرنے کا نام ہے، اور توکل کے لیے ترکِ اسباب ضروری نہیں۔ (تفسیر القرطبی، جلد 9، صفحہ 309، دارالکتب المصریۃ، قاہرۃ)

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی ازواج کے لیے ایک سال کا غلہ محفوظ فرما لیتے تھے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے "عن عمر قال: كانت أموال بني النضير مما أفاء اللہ على رسوله صلی اللہ علیہ والہ وسلم ممالم يوجف المسلمون عليه بخيل ولا ركاب، فكانت لرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خاصة، ينفق على أهله منها نفقة سنته ثم يجعل ما بقي في السلاح والكراع، عدة في سبيل اللہ" ترجمہ: روایت ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے فرماتے ہیں: بنی نضیر کے مال ان میں سے تھے، جو اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر فئ فرمائے، جن پر مسلمانوں نے گھوڑے دوڑائے، نہ اونٹ، چنانچہ یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے لیے خاص طور پر رہے، آپ علیہ الصلوۃ والسلام اپنے گھر والوں کو ایک سال کا خرچ دے دیتے تھے، پھر جو باقی بچتا اسے جہاد کی تیاری کے لیے ہتھیاروں اور جانوروں میں خرچ فرماتے تھے۔ (صحیح البخاری، جلد 2، صفحہ 725، مطبوعہ: کراچی)

اس کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے "اس کا مطلب وہ ہی ہے کہ بنی نضیر کے جلاوطن ہوجانے کے بعد ان کے متروکہ مالوں کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس طرح خرچ کرتے تھے کہ اولًا اپنے گھر کا سال بھر کا خرچ نکالا پھر باقی مال مجاہدین پر خرچ فرمایا۔ خیال رہے کہ وہ جو احادیث پاک میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ہمارے گھر میں دو دو ماہ تک آگ نہ جلتی تھی یا یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دو دن متواتر شکم سیر کھانا نہ ملاحظہ فرمایا یہ واقعات بنی نضیر کے مال حاصل کرنے سے پہلے کے ہیں بعد میں رب تعالٰی نے وسعت دے دی، پھر اس زمانہ کے بعد جو فقر و فاقہ کی نوبت آتی تھی اس کی وجہ ازواج پاک کا زیادہ خیرات و صدقات تھے کہ یہ حضرات فقراء پر بہت خرچ فرمادیتی تھیں سال بھر کا خرچہ جلد ختم ہو جاتا تھا اور نوبت فاقہ کو پہنچتی تھی، نیز اس سال کے خرچہ میں کچھ جو کچھ کھجوریں ہوتی تھیں سال ان ہی سے نکالا جاتا تھا۔" (مراۃ المناجیح، باب الفی، جلد 05، صفحہ 631، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

امامِ اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”نظر مسبب جل و علا پر رکھ کر جائز اسبابِ رزق کا اختیار کرنا ہرگز منافیِ توکل نہیں، توکل ترکِ اسباب کا نام نہیں بلکہ اعتماد علی الاسباب کا ترک (توکل) ہے۔ حدیث میں ہے: نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اعقلھا وتوکل علی اللہ۔ بر توکل پائے اشتر را ببند، (اونٹ کو باندھ کر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 379، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5070
تاریخ اجراء: 18 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 04 جون 2026ء