پنشن لینے کے لئے جھوٹ بولنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پنشن حاصل کرنے کے لئے جھوٹ بولنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک خاتون کی عمر تقریباً 45 سال ہے، اس کی پہلی شادی ہوئی تھی، جس کی طلاق 2007 میں ہو گئی، اس کے بعد اس نے 2021 میں دوسری شادی کی، لیکن 2022 میں اس کی بھی طلاق ہو گئی، بعد ازاں اس نے اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ شرعی طور پر نکاح کر لیا، البتہ! ابھی تک قانونی (سرکاری) طور پر نکاح رجسٹر نہیں کروایا، اب اس خاتون کی والدہ، جو ریلوے سے اپنے مرحوم شوہر کی پنشن وصول کر رہی تھیں، ان کا بھی انتقال ہو چکا ہے، یہ خاتون اپنی والدہ کی زندگی میں ان کی خدمت کرتی رہی، اس کا کوئی بیٹا نہیں ہے، ایک بھائی فوت ہو چکا ہے، اور دوسرا بھائی اپنی الگ فیملی میں مصروف ہے۔، اس خاتون کے اپنے شوہر کے ساتھ بھی تعلقات اچھے نہیں ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی شریعت کی رو سے یہ خاتون ریلوے کے متعلقہ ادارے میں یہ کہہ سکتی ہے کہ: ”میں طلاق یافتہ ہوں“ تاکہ والدہ کی پنشن اس کے نام منتقل ہو جائے، جبکہ حقیقت میں اس نے اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ شرعی نکاح کر رکھا ہے؟ مزید یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اسلامی اعتبار سے یہ خاتون اس پینشن کی حق دار ہے یا نہیں؟ اگر متعلقہ ادارے کے قواعد کے مطابق وہ اہل نہیں ہے، تو کیا ایسی صورت میں غلط معلومات دے کر پینشن حاصل کرنا جائز ہوگا؟
جواب
متعلقہ ادارے کے قوانین کے مطابق جب شادہ شدہ عورت، پینشن کی حق دارنہیں ہوتی، تو اب سوال میں مذکور شادی شدہ خاتون بھی پینشن کی حق دار نہیں ہے، اگرچہ وہ مجبور ہی ہو، لہذا پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شادی شدہ خاتون کا پینشن حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو طلاق یافتہ بتانا، جھوٹ اور دھوکہ میں داخل ہے، جو کہ جائز نہیں، اور اس طرح اس کا پینشن لینا بھی جائز نہیں ہے۔
قرآن مجید میں جھوٹ بولنے والوں کے متعلق اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور ان کے لیے ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے۔ (پارہ 01، سورۃ البقرہ، آیت 10)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے "اس آیت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنا حرام ہے اور اس پر درد ناک عذاب کی وعید ہے لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس سے بچنے کی خوب کوشش کرے ۔" (تفسیر صراط الجنان، جلد 01، صفحہ 82، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
المعجم الاوسط للطبرانی میں ہے "إن العبد ليكذب حتى يكتب عند اللہ كذابا، ويصدق حتى يكتب عند اللہ صديقا" ترجمہ: بیشک بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذاب (بہت بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے اور بندہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں صدیق (بہت بڑا سچا) لکھ دیا جاتا ہے۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، جلد 2، صفحہ 327، رقم الحدیث2122، دار الحرمین، قاہرہ)
دھوکے کے بارے میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے ﴿یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ ﴾ ترجمہ کنز الایمان: فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔ (پارہ 01، سورۃ البقرۃ، آیت 09)
صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابو داؤد، مسند الحمیدی، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، المعجم الاوسط، المعجم الکبیر لطبرانی، السنن الکبری للبیہقی وغیرہ کتب حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ وعلیہ وسلم کا ارشاد ہے، (واللفظ للمسلم) :”لیس منا من غشنا“ وہ ہم میں سے نہیں جو ہمیں دھوکہ دے۔ (صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 70، مطبوعہ: کراچی)
فیض القدیر میں ہے ”والغش ستر حال الشئ“ ترجمہ: دھوکے سے مراد کسی شی کا اصل حال چھپانا ہے۔ (فیض القدیر، جلد 6، صفحہ 240، مطبوعہ: بیروت)
المبسوط للسرخسی میں ہے "الغدر حرام" ترجمہ: دھوکہ دینا حرام ہے۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 10، صفحہ 96، مطبوعہ: بیروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "غَدَر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔" (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5269
تاریخ اجراء: 26 صفر المظفر 1448ھ/10 اگست 2026ء