logo logo
AI Search

اونٹ کی ہڈی سے بنی تسبیح رکھنا اور استعمال کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

اونٹ کی ہڈی سے بنی ہوئی تسبیح کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل اوراد و وظائف پڑھنے کے لیے مارکیٹ میں اونٹ کی ہڈی سے بنی ہوئی تسبیح ملتی ہے۔ یہ دیکھنے میں بھی عام تسبیحات جیسی لگتی ہے اور قیمت میں بھی ان سے زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ عرض یہ ہے کہ اس تسبیح کی خرید وفروخت کرنا، جائز ہےیا نہیں؟ کیا اس تسبیح پر اوراد و وظائف پڑھنا جائز ہے؟

نوٹ: تسبیح تیار کرنے والے چند افراد سے اس بارے میں پوچھا گیاتو تو انھوں نے اس تسبیح کے تیار کرنے کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ اونٹ کی ہڈیوں کو خشک کر کے مشین کےذریعے پہلے چھوٹے چھوٹے دانے بنائے جاتے ہیں پھر دوسری مشین کے ذریعے ان کو رگڑ کر صاف کیا جاتا ہے اورپھر ان کو پالش کیا جاتا ہے۔ پالش میں جو رنگ لگانا چاہیں وہ لگایا جاسکتا ہے لیکن زیادہ تر سفید رنگ استعمال کیا جاتا ہے۔ کوئی حرام یا ناپاک چیز استعمال نہیں کی جاتی ہے۔

جواب

اونٹ کی ہڈی سے بنی ہوئی مذکورہ تسبیح کی خرید وفروخت کرنا اور اس پر اوراد ووظائف پڑھنا جائز ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ عند الشرع انسان اور خنزیر کی ہڈیوں کے علاوہ ہر قسم کے حلال و حرام حتی کہ مردار جانوروں کی ہڈیوں کی خریدو فروخت کرنا بھی جائز ہے جبکہ مردا رکی ہڈی خشک ہوچکی ہو اس پر کسی قسم کی چکنائی یا رطوبت باقی نہ رہی ہو کیونکہ ہڈیاں ایسی چیز ہیں جن میں موت سرایت نہیں کرتی، جس وجہ سے وہ ناپاک بھی نہیں ہوتیں اور ان کے استعمال میں تفصیل یہ ہےکہ اگر ہڈیاں ایسے جانور کی ہوں جو حلال بھی ہواور اسے شرعی طریقے سے ذبح بھی کیا گیا ہو تو ان کا کھانے، پینے، جسم پر لگانے وغیرہ ہر طرح سے اندرونی، بیرونی استعمال کرنا اور ان سے نفع اٹھانا، جائز ہے خواہ وہ خشک ہوں یا تر اور اگر مردار کی ہڈیاں ہوں یا حرام جانور کی ہڈیاں ہوں تو ان کا کھانے، پینے وغیرہ میں اندرونی استعمال جائز نہیں لیکن ان کا بیرونی استعمال جائز ہے جبکہ وہ اس قدر خشک ہوچکی ہوں کہ ان میں چکنائی یا رطوبت وغیرہ باقی نہ رہی ہو اور اونٹ بھی ایک حلال جانور ہے ا ور اس کی ہڈیوں کی خریدوفروخت کرنا بھی جائز ہے اور اس کی ہڈیوں کا بیرونی استعمال بھی ہر طرح سے جائز ہے اگرچہ مردار اونٹ کی خشک ہڈیاں ہی کیوں نہ ہوں لہذا اس کی ہڈیوں سے بنی ہوئی مذکورہ تسبیح کی خریدوفرخت کرنا، جائز ہے ا ور اس کو اوراد و وظائف پڑھنے کے لیے استعمال کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے جبکہ کوئی مانع شرعی مثلِ فسادِ نیت یعنی ریا کاری وغیرہ نہ ہوکیونکہ تسبیح سونے، چاندی کے علاوہ لکڑی، پتھر، گھٹلی وغیرہ کسی بھی چیز کی رکھنا جائز ہے جبکہ بیش قیمت نہ ہو کہ بیش قیمت تسبیح رکھنا مکروہ ہے اور سوال سے ظاہر ہے کہ یہ بیش قیمت بھی نہیں ہوتی لہذا ممانعت کی کوئی وجہ نہیں۔

انسان اور خنزیر کی ہڈیوں کے علاوہ ہر جانور کی ہڈی کی خریدوفروخت جائز ہے چنانچہ البحرالرائق شرح کنزالدقائق، ہدایہ، عالمگیری، رد المحتار وغیرہ کتب معتبرہ میں کچھ الفاظ کے فرق کے ساتھ ہے و اللفظ للاول:وفي التجنيس: لا بأس ببيع عظام الموتى؛ لأنه لا يحل العظام الموت و ليس في العظام دم فلا تنجس فيجوز بيعها إلا بيع عظام الآدمي و الخنزير ترجمہ: اور تجنیس میں ہے کہ: مردار جانوروں کی ہڈیوں کی خریدوفروخت بھی جائز ہے کیونکہ ہڈیوں میں موت حلول نہیں کرتی اور نہ ہی ہڈیوں میں خون ہوتا ہے پس یہ ناپاک بھی نہیں ہوتیں تو ان کی خریدوفروخت کرنا بھی جائز ہے مگر انسان اور خنزیر کی ہڈیوں کی بیع جائز نہیں ہے۔  (البحرالرائق شرح کنز الدقائق، استعمال جلد الفیل بعد دبغ، جلد 1، صفحہ 113، بیروت)

جانوروں کی ہڈیوں کے قابل انتفاع ہونے اور ان کے استعمال کرنے کے تفصیلی احکام بیان کرتے ہوئے فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے وقال محمد رحمۃ اللہ علیہ ولا باس بالتداوی بالعظم اذا کان عظم شاۃ او بقرۃ او بعیرۃ او فرس او غیرہ من الدواب الا عظم الخنزیر والآدمی فانہ یکرہ التداوی بہما فقد جوز التداوی بعظم ما سوی الخنزیر والآدمی من الحیوان مطلقا من غیر فصل بینما اذا کان الحیوان ذکیا او میتا و بینما اذ کان العظم رطبا او یابسا و ما ذکر من الجواب یجری علی اطلاقہ اذا کان الحیوان ذکیا لان عظمہ طاہر رطبا کان او یابسا یجوز الانتفاع بہ جمیع انواع الانتفاعات رطبا کان او یابسا فیجوز التداوی بہ علی کل حال واما اذا کان الحیوان میتا فانما یجوز الانتفاع بعظمہ اذا کان یابسا ولا یجوز النتفاع اذا کان رطبا و اما عظم الکلب فیجوز التداوی بہ

ترجمہ: اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہڈی کو دوائی کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جب کہ وہ ہڈی بکری یا گائے یا اونٹ یا گھوڑا یا اس کے علاوہ  (دوسرے) جانوروں کی ہو، سوائے آدمی اور خنزیر کی ہڈی کے کیونکہ ان دونوں (آدمی اور خنزیر) کی ہڈی سے دوائی بنانا مکروہ ہے پس انسان اور خنزیر کی ہڈی کے علاوہ دیگر جانوروں کی ہڈیوں سے علاج کرنا مطلقا جائز ہے بغیر ان کے مابین تفصیل بیان کیے، خواہ حیوان ذبح شدہ ہو یا مردار ہو ، اور ہڈی تر ہو یا خشک، اور وہ جو جواب میں ذکر کیا گیا ہے ،وہ اپنے اطلاق پر جاری رہتا ہے جبکہ حیوان ذبیحہ ہو کیونکہ اس (ذبیحہ) کی ہڈی پاک ہوتی ہے، تر ہو یا خشک۔ اس کی ہڈی سے ہرطرح کا نفع حاصل کرنا، جائز ہے چاہے ہڈی خشک ہویا تر، لہذا اسکو دوائی کے طور پر استعمال کرنا ہر حالت میں جائز ہے، اور بہرحال جب وہ حیوان مردار ہو تو اس کی ہڈی سے نفع اٹھانا اس وقت جائز ہے جب کہ وہ (ہڈی) خشک ہو، جب وہ (ہڈی) تر ہو تو اس سے نفع اٹھانا، جائز نہیں، اور کتے کی ہڈی کو دوائی کے طور پر استعمال کرنا، جائز ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الکراہیۃ، ج 5، ص 354، مطبوعہ لاھور)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں حلال وحرام ،مذبوحہ ومردار جانوروں کی ہڈیوں کی پاکی ،ناپاکی ، حلت وحرمت پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں:ہڈیاں ہر جانور یہاں تک کہ غیر ماکول و نا مذبوح کی بھی مطلقاً پاک ہیں جب تک ان پر ناپاک دسومت (چکنائی) نہ ہو سوا خنزیر کے کہ نجس العین ہے اور اس کا ہر جزو بدن ایسا ناپاک کہ اصلاً صلاحیتِ طہارت نہیں رکھتا، اور دسومت میں قید ناپاکی اس غرض سے ہے کہ مثلاً جو جانور خون سائل نہیں رکھتے اُن کی ہڈیاں بہرحال پاک ہیں اگرچہ دسومت آمیز ہوں کہ ان کی دسومت بوجہ عدم اختلاط دم خود پاک ہے تو اس کی آمیزش سے استخواں کیونکر ناپاک ہوسکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر حلال وجائز الاکل صرف جانور ماکول اللحم مذکی یعنی مذبوح بذبح شرعی کی ہڈیاں ہیں حرام جانور اور ایسے ہی جو بے ذکاۃ شرعی مرجائے یا کاٹا جائے بجمیع اجزائہ حرام ہے اگرچہ طاہر ہوکہ طہارتِ مستلزم حلت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 475، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

ہڈی سے بنی ہوئی چیز استعمال کرنا، جائز ہے اگرچہ حرام جانور کی ہو چنانچہ اعلی حضرت امام احمدرضا خان رحمۃاللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ایسی مسواک کے متعلق سوال جس کےنیچے ہاتھی دانت کی ہڈی لگی ہوئی تھی، اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ہڈی ہر جانور کی پاک ہے حلال ہو یا حرام، مذبوح ہو یا مردار جبکہ اس پر بدن میتہ کی کوئی رطوبت نہ ہو سوا سوئر کے کہ اس کی ہر چیز ناپاک ہے مسواک میں ہاتھی دانت کی ہڈی ہو تو کچھ حرج نہیں، ہاں اس کا ترک بہتر ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 470، رضافاؤنڈیشن لاہور)

مردار کی ہڈی کی خرید و فروخت کے حوالے سے اعلی حضرت علیہ الرحمۃ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ہڈی پر اگر دسومت نہ ہو خشک ہو تو اس کی بیع بھی جائز ہے لما تقدم لان الحیاۃ لاتحلہ (اس وجہ سے جو پہلے گزر چکی ہے کیونکہ حیات اس میں سرایت نہیں کرتی۔ ت) اور ان احکام سے خنزیر مستثنٰی ہے اس کی کھال یا ہڈی کسی حال میں اصلا خرید و فروخت یا کسی قسم کے انتفاع کے قابل نہیں لنجاسۃ عینہا (اس کے نجس عینِ ہونے کی وجہ سے۔ ت)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 162، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

تسبیح رکھنے کا جواز فقہاء نے اس حدیث سے ثابت کیا ہےچنانچہ امام ابو داؤد ، امام ترمذی، حاکم اور طبرانی نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا آپ فرماتی ہیں کہ قالت: دخل علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و بین یدی أربعۃ آلاف نواۃ أسبح بہن فقال: ما ہذا یا بنت حیی؟ قلت: أسبح بہن، قال: قد سبحت منذ قمت علی رأسک أکثر من ہذا، قلت: علمنی یا رسول اللہ قال: قولی سبحان اللہ عدد ما خلق من شیء ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میرے سامنے چار ہزار گھٹلیاں رکھی تھیں جن پر میں تسبیح پڑھا کرتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ: اے بنتِ حُیی! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں ان پر تسبیح پڑھتی ہوں۔ ارشاد فرمایا: میں جب سے تمہارے پاس کھڑا ہوں میں نے اتنی سی دیر میں ان گھٹلیوں سے زیادہ بار تسبیح پڑھ لی ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و سلم مجھے بھی وہ طریقہ تعلیم فرما دیں۔ فرمایا: یوں پڑھو سبحان اللہ عدد ما خلق من شیء (اللہ تعالی کے لیے پاکی ہے اتنی تعداد میں جتنی اس نے چیزیں پیدا کی ہیں)۔ (سنن ترمذی، ابواب الدعوات، جلد 5، صفحہ 555، مطبوعہ مصطفی البابی، مصر)

اس حدیث کو مروجہ تسبیح کی اصل قرار دیتے ہوئے علامہ علی بن سلطان القاری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: و ھذا أصل صحیح لتجویز السبحۃ بتقریرہ صلی اللہ علیہ و سلم فإنہ فی معناھا، إذ لا فرق بین المنظومۃ و المنثورۃ فیما یعد بہ، و لا یعتد بقول من عدھا بدعۃ ترجمہ: تسبیح کے جائز ہونے کے لئے یہ حدیث ایک صحیح اصل و بنیاد ہے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے اس عمل کو برقرار رکھا (یعنی دیکھنے کے باوجود اس سے منع نہیں فرمایا) اور گٹھلیوں وغیرہ پرذکر اللہ کرنا تسبیح پر پڑھنے کے ہم معنی ہے کیونکہ بکھری ہوئی اور ایک لڑی میں پروئی ہوئی چیزوں میں کوئی معتد بہا فرق نہیں ہے۔ اور جو اس کو بدعت کہتا ہے اس کی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب اسماء اللہ تعالیٰ، جلد 4، صفحہ 1601، دار الفکر، بیروت)

رد المحتار اور البحر الرائق وغیرہ میں ہے و اللفظ للبحر فلم ینھھا عن ذلک و إنما أرشدھا إلی ما ھو أیسر و أفضل و لو کان مکروھا لبین لھا ذلک ثم ھذا الحدیث و نحوہ مما یشھد بأنہ لا بأس باتخاذ السبحۃ المعروفۃ لإحصاء عدد الأذکار إذ لا تزید السبحۃ علی مضمون ھذا الحدیث إلا بضم النوی ونحوہ فی خیط ومثل ھذا لا یظھر تأثیرہ فی المنع فلا جرم إن نقل اتخاذھا والعمل بھا عن جماعۃ من الصوفیۃ الأخیار وغیرھم ترجمہ: حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس خاتون کو مذکورہ طریق سے تسبیح کرتا دیکھ کر اسے منع نہیں فرمایا بلکہ زیادہ آسان اور افضل طریقہ کی رہنمائی فرمائی، اگر یہ طریقہ مکروہ و ناپسند ہوتا تو حضور علیہ السلام اس کو بیان فرمادیتے۔پھر اس طرح کی احادیث اذکار کی تعداد شمار کرنے کے لئے بنائی جانے والی مروجہ تسبیح کے جواز پر دلالت کرتی اور شہادت دیتی ہیں کیونکہ مروجہ تسبیح میں مضمونِ حدیث سے صرف یہی چیز زائد ہے کہ گٹھلیاں وغیرہ کسی دھاگے میں پرو دی جاتی ہیں اور اس نوعیت کے اضافہ کرنے میں کوئی تاثیر منع ظاہر نہیں ہوتی۔ بلا شبہہ تسبیح بنانا اور اس کے ذریعے ذکر واذکار کاشغل رکھنا (ایک اچھا عمل ہے) اور عمدہ اکابرین و صوفیا وغیرہ سے منقول ہے۔ (البحر الرائق، جلد 2، صفحہ 31، دار الکتاب الاسلامی)

سونے یاچاندی کی بنی ہوئی تسبیح پرمردو عورت دونوں کے لیےاوراد و وظائف پڑھنا شرعا  ناجائز و حرام ہے، لکڑی، پتھر کی جائز ہے۔ چنانچہ امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا: تسبیح کس چیز کی ہونی چاہئے؟ آیا لکڑی کی یا پتھر وغیرہ کی؟

آپ علیہ الرحمۃ اس کے جواب میں تحریرفرماتے ہیں: تسبیح لکڑی کی ہو یا پتھر کی مگر بیش قیمت ہونامکروہ ہے اور سونے چاندی کی حرام۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 597، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری 
فتویٰ نمبر: JTL-0660
تاریخ اجراء: 04 جمادی الثانی 1444ھ / 28دسمبر 2022ء