logo logo
AI Search

کیا مردوں کا کاجل لگانا عورتوں سے مشابہت نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مردوں کے لیے کاجل لگانا عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مردوں کے لئے کاجل لگانے کے مسئلہ میں عورتوں سے مشابہت کے سبب عدم جواز کیوں نہیں ہے؟

جواب

مرد کے لئے کاجل لگانے کا حکم وہی ہے جو کالا سرمہ لگانے کا ہے، یعنی زینت کے ارادے سے لگانا مکروہ )ناپسندیدہ عمل( ہے اور زینت مقصود نہ ہو، تو حرج نہیں۔ نیز کاجل لگانے میں عورتوں کے ساتھ مشابہت نہیں ہے کہ اسے تشبہ (مشابہت اختیار کرنے) کی وجہ سے ناجائز قرار دیا جائے، کیونکہ فقہاء نے تشبہ کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں: التزامی (کسی قوم کا طریقۂ خاص ان کے ساتھ مشابہت کے ارادے سے اختیار کرنا) اور لزومی (بغیر ارادہ ایسا فعل اپنانا جو کسی قوم کے ساتھ خاص وضع / فعل کے مشابہ ہو جائے) اور ان دونوں میں کیا جانے والا فعل کسی قوم کے ساتھ خاص ہوتا ہے، تبھی تشبہ کا معنی صادق آتا ہے، جبکہ کاجل لگانا محض عورتوں کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ سرمہ کی طرح اس کا استعمال بھی مرد و خواتین دونوں میں مشترک ہے، لہذا اس میں تشبہ کا معنی متحقق نہیں ہے، اسی لئے فقہائے کرام نے مرد کے لئے سرمہ اور کاجل دونوں کا ایک جیسا حکم بیان فرمایا ہے۔

مرد کے لیے کالا سرمہ لگانے کے متعلق محیط برہانی میں ہے: ”اتفق المشايخ على انه لا باس بالاثمد للرجل واتفقوا على انه يكره الكحل الاسود اذا قصد به الزينة واختلفوا فيما اذ لم يقصد به الزينة عامتهم على انه لا يكره“ ترجمہ: مشائخ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مرد کے اثمد سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں اور اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ مرد کو زینت کے قصد سے کالا سرمہ لگانا مکروہ ہے اور جب زینت کا قصد نہ ہو، تو اس بارے میں اختلاف ہے، البتہ اکثر کے نزدیک مکروہ نہیں۔ (المحیط البرھانی، الفصل الحادی والعشرون فی الزینۃ، جلد 5، صفحہ 377، مطبوعہ بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”پتھر کا سرمہ استعمال کرنے میں حرج نہیں اور سیاہ سرمہ یا کاجل بقصدِ زینت مرد کو لگانا مکروہ ہے اور زینت مقصود نہ ہو تو کراہت نہیں‘‘۔ (بھارِ شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 597، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

تشبہ کی اقسام بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اس جنس مسائل میں حقِ تحقیق و تحقیقِ حق یہ ہے کہ تشبہ دو وجہ پر ہے: التزامی و لزومی۔ التزامی یہ ہے کہ یہ شخص کسی قوم کے طرز و وضع خاص اسی قصد سے اختیار کرے کہ ان کی سی صورت بنائے، ان سے مشابہت حاصل کرے، حقیقۃً تشبہ اسی کا نام ہے، فان معنی القصد والتکلف ملحوظ فیہ کما لا یخفی اور لزومی یہ کہ اس کا قصد تو مشابہت کا نہیں، مگر وہ وضع اس قوم کا شعارِ خاص ہو رہی ہے کہ خواہی نخواہی مشابہت پیدا ہو گی‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 530، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ’’یہ کہنا کہ ہندو بھی سہرا باندھتے ہیں، تو ان سے مشابہت نکلے گی، محض غلط کہ حدیث میں لفظ تشبہ مذکور ہے اور اس کے معنی اپنے آپ کو کسی کے مشابہ بنانا، تو حقیقۃً یا حکماً قصدِ مشابہت پایا جانا ضرور ہے۔ مثلاً ایک شخص کوئی فعلِ خاص اس نیت سے کرے کہ کفار کی سی شکل پیدا ہو (یا) اگرچہ وہ یہ ارادہ نہ کرے، مگر وہ فعل شعار کفار اور ان کی علامت خاصہ ہو جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں، جیسے سر پر چوٹیاں، ماتھے پر ٹیکہ، گلے میں جینوا، الٹے پردے کا انگرکھا وعلی ھذا القیاس، تو بیشک ان صورتوں میں ذم و وعید وارد اور حدیث میں من تشبہ اس پر صادق، نہ یہ کہ مطلقاً کسی بات میں اشتراک موجبِ ممانعت ہو، یوں تو انگرکھا ہم بھی پہنتے ہیں، ہندو بھی پہنتے ہیں، پھر کیا اس وجہ سے انگرکھا پہننا ہم پر حرام ہو جائے گا؟‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 321، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7151
تاریخ اجراء: 24 جمادی الثانیہ 1444ھ / 17 جنوری 2023ء