کھانے کے پیسے بغیر کھائے خود رکھ لینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کھانے کے پیسے لے کر کھانا کھانے کے بجائے پیسے خود رکھ لینا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس کے بارے میں کہ میں جاب کرتا ہوں، وہا ں دوپہر کا کھانا شاپ والوں کی طرف سے ہوتا ہے، لیکن میں کھانے کی جگہ پیسے لے لوں، اور کھانا نہ کھاؤں، بلکہ خود رکھ لوں، جبکہ شاپ والوں کو بتادوں کہ میں نے ان پیسوں سے کھانا کھا لیا ہے، تو ایسا کرنا کیسا ہے؟
جواب
کھانے کے لیے ملنے والے پیسوں سے کھانا نہ کھا کر، شاپ والوں کویہ بتانا، کہ میں نے ان پیسوں سے کھانا کھا لیا ہے، یہ جھوٹ ہے ہے، جوکہ سخت ناجائز و گناہ کا کام ہے، اور جو پیسے دئیے گئے تھے، اگر ان کا مالک بنانا مقصود نہیں تھا، بلکہ محض اباحت تھی، کہ کھانا خریدنا چاہو، تو خرید لو، ورنہ واپس کردو، تو اس صورت میں جب اس رقم سے کھانا نہیں لیا، تووہ رقم واپس کرنا لازم ہوگی، جھوٹ بول کر وہ رقم رکھ لینا،دھوکہ دے کر، باطل طریقے سے مال لینا ہے، جوکہ سخت ناجائز و حرام کام ہے۔
اور اگر اس رقم کا مالک بنانا مقصود ہو، کہ کھائیں یا نہ کھائیں، بہر صورت یہ رقم آپ کو ملے گی، اور رقم آپ کی ہی ہوگی، تو اس صورت میں وہ رقم آپ کی ملک ہے، اس رقم سے کھانا نہ بھی لیا ہو، تب بھی اسے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں، اور اپنے دوسرےکام میں استعمال کرسکتے ہیں، لیکن اس صورت میں بھی جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں، لہذا اس صورت میں بھی جب آپ نے ان پیسوں سے کھانا نہیں کھایا، تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے ان پیسوں سے کھانا کھا لیا ہے۔
قرآن مجید میں جھوٹ بولنے والوں کے متعلق اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور ان کےلیے ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے۔ (پارہ 01، سورۃ البقرۃ، آیت 10)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے اس آیت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنا حرام ہے اور اس پر درد ناک عذاب کی وعید ہے لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس سے بچنے کی خوب کوشش کرے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 01، صفحہ 82، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
سنن ابی داؤد میں ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إياكم و الكذب، فإن الكذب يهدي إلى الفجور، و إن الفجور يهدي إلى النار" ترجمہ: جھوٹ سے بچو! کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد، ص 780، رقم الحدیث 4989، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
دھوکے کے متعلق صحیح مسلم میں ہے ”من غشنا فليس منا“ ترجمہ: جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، صفحہ 57، رقم الحدیث 101، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فیض القدیر میں ہے ”و الغش ستر حال الشئ“ یعنی دھوکے سے مراد کسی شی کا اصل حال چھپاناہے۔ (فیض القدیر، جلد 6، صفحہ 185، مطبوعہ: مصر)
باطل طریقے سے مال کھانے کی ممانعت کرتے ہوئے اللہ ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ترجمہ: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔ (القرآن، سورۃ النساء، آیت 29)
اس آیت کے تحت تفسیر خازن میں ہے "يعني بالحرام الذي لا يحل في الشرع كالربا و القمار و الغصب و السرقة و الخيانة و شهادة الزور و أخذ المال باليمين الكاذبة و نحو ذلك. و إنما خص الأكل بالذكر ونهى عنه تنبيها على غيره من جميع التصرفات الواقعة على وجه الباطل لأن معظم المقصود من المال الأكل" ترجمہ: حرام سے مراد وہ مال ہےجو شریعت میں حلال نہیں؛ جیسے سود، جوا، غصب، چوری، خیانت، جھوٹی گواہی، جھوٹی قسم کے ذریعے مال ہڑپ کرنا وغیرہ۔ (آیت میں) خاص طور پر کھانے کا ذکر اور اس سے منع کیا گیا تاکہ باطل طریقوں سے حاصل ہونے والے دیگر تمام تصرفات کی طرف بھی تنبیہ کی جائے، کیونکہ مال کے حصول کا بنیادی مقصد عموماً کھانا ہی ہوتا ہے۔ (تفسیر خازن، جلد 1، صفحہ 366، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5124
تاریخ اجراء: 01 محرم الحرام 1448ھ / 17 جون 2026ء