logo logo
AI Search

جانور لڑوانا اور ان کا تماشا دیکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جانور لڑوانے کا شرعی حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جانوروں ( جیسے کتے، بیل، ریچھ، بھینسے وغیرہ) کو لڑوانا کیسا ہے؟ اور ان کا تماشا دیکھنا کیسا ہے؟

سائل: محمد عمران مدنی (جوہرٹاون، لاہور)

جواب

جانوروں کو لڑوانا حرام ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑوانے سے منع فرمایا، اور یہ جانوروں پر شدید ظلم ہے کہ وہ لڑتے ہوئے ایک دوسرے کی ٹانگیں، منہ کے جبڑے، کان اور دیگر اعضاء زخمی کردیتے ہیں، علمائے اسلام نے یہاں تک فرمایا کہ مسلمان پر ظلم کرنے سے ذمی کافر جو پناہ سلطنت اسلام میں رہتا ہو پرظلم کرنا سخت تر ہے اور ذمی کافر پر ظلم کرنے سے بھی جانور پر ظلم کرنا سخت تر ہے۔ نیز اس لڑائی والے تماشے کو دیکھنا بھی حرام ہے، کہ ناجائز کام کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے۔ دیکھنے والے گنہگار ہیں۔ انہیں چاہیے اللہ پاک کے حضوراس فعل حرام سے توبہ کریں اور آئندہ نہ کرنے کا پکا عزم کریں۔

جانوروں کو لڑوانے سے متعلق مشکوۃ المصابیح، سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں ہے: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم عن التحريش بين البهائم“ یعنی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور لڑوانے سے منع فرمایا۔ (جامع ترمذی، أبواب الجهاد عن رسول الله، باب ما جاء في كراهية التحريش بين البهائم، جلد 3 صفحہ 325، دار الغرب الإسلامي، بيروت)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی تحریرفرماتے ہیں: اللہ تعالٰی رحم فرمائے، آج مسلمانوں میں مرغ لڑانا، کتے لڑانا، اونٹ، بیل لڑانے کا بہت شوق ہے یہ حرام سخت حرام ہے کہ اس میں بلا وجہ جانوروں کو ایذاء رسانی ہے، اپنا وقت ضائع کرنا۔ بعض جگہ مال کی شرط پر جانور لڑائے جاتے ہیں یہ جوا بھی ہے حرام در حرام ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 659، ضیاء القران پبلی کیشنز، لاہور)

ناجائز تماشے کے متعلق امام اہل سنت، اعلی حضرت، الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن تحریرفرماتے ہیں: ناجائز کام کو بطور تماشہ دیکھنا بھی حرام، لان ماحرم فعلہ حرم التفرح علیہ (اس لئے کہ جس کام کا کرنا حرام ہے اس پر خوشی منانابھی حرام ہے۔ ت) اور بچوں کو دکھانے کا بھی گناہ اسی پرہے۔ ( فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 172، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

ملفوظات اعلی حضرت میں ہے: ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے۔ بندر نچانا حرام ہے، اس کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے۔ دُرِّمختار و حاشیہ علامہ طحطاوی میں ان مسائل کی تصریح ہے۔ آجکل لوگ ان سے غافل ہیں۔ متقی لوگ جن کو شریعت کی احتیاط ہے، ناواقفی سے ریچھ یا بندر کا تماشا یا مرغوں کی پالی (یعنی لڑائی) دیکھتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اس سے گنہگار ہوتے ہیں۔ (ملفوظات اعلی حضرت، صفحہ 286، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بہار شریعت میں ہے: جانوروں کو لڑانا مثلاً مرغ، بٹیر، تیتر، مینڈھے، بھینسے وغیرہ کہ ان جانوروں کو بعض لوگ لڑاتے ہیں یہ حرام ہے اور اس میں شرکت کرنا یا اس کا تماشہ دیکھنا بھی ناجائز ہے۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 512، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

امام اہل سنت، اعلی حضرت، الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن تحریر فرماتے ہیں: علماء فرماتے ہیں مسلمان پر ظلم کرنے سے ذمی کافر پر جو پناہ سلطنت اسلام میں رہتا ہو ظلم کرنا سخت تر ہے اور ذمی کافر پر ظلم کرنے سے بھی جانور پر ظلم کرنا سخت تر ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 315، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-0075
تاریخ اجراء: 29 ذو الحجۃ الحرام 1442ھ / 09 اگست 2021ء