logo logo
AI Search

حرام مال سے حاصل شدہ ڈگری اور نوکری کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حرام مال کے ذریعے پڑھائی کر کے ڈگری حاصل کی تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی نے حرام مال کے ذریعے کالج کی فیس بھری اور پوری محنت کر کے امتحان میں پاس ہوا اور ڈگری حاصل کی تو کیا حاصل شدہ ڈگری حرام ہوگی یا نہیں؟ اگر حرام ہوگی تو اُس کے حلال کرنے کا کیا ذریعہ ہے اور اگر اس ڈگری کی بُنیاد پر ملازمت کرنا کیسا ہے اور تنخواہ حرام ہوگی یا حلال؟

جواب

حرام مال کو اپنے استعمال میں لانا، ناجائز و حرام ہوتا ہے۔ حرام مال کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں اور پھر اس کے اعتبار سے اُسے مالک، یا اس کے وارثوں تک پہنچانے، یا شرعی فقیر پر صدقہ کرنے کے احکامات ہوتے ہیں، ان احکام پر عمل کیے بغیر آدمی اس مال کے وبال سے برئ الذمہ نہیں ہوتا۔ بہرحال اگر کسی شخص نے حرام مال سے کالج، یونیورسٹی کی فیس ادا کردی، تو ایسا کرنا، ناجائز و گناہ ہوگا، لیکن اگر ڈگری جائز طریقے سے حاصل کی ہو اور اس میں دھوکہ، جعل سازی اور جھوٹ شامل نہیں، تو محض حرام مال سے فیس ادا کرنے کی وجہ سے وہ ڈگری حرام قرار نہیں دی جائے گی۔ یونہی اگر اس ڈگری کی بنیاد پر ایسی ملازمت حاصل ہو جو شرعاً جائز ہو اور ملازمت کے فرائض بھی دیانت داری سے انجام دیے جائیں، تو وہ ملازمت جائز ہوگی اور اُس سے حاصل ہونے والی تنخواہ بھی حلال ہوگی۔

مالِ حرام سے متعلق رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے: و الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام لا يحل له و يتصدق به بنية صاحبه‘‘ ترجمہ: خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر مال کے مالک معلوم ہوں تو وہ مال انہیں واپس کرنا واجب ہے اور اگر مالک معلوم نہ ہوں، لیکن حرام مال بعینہٖ معلوم ہو تو وہ اس کے لیے حلال نہیں، بلکہ مالک کی طرف سے نیت کر کے اسے صدقہ کردے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 7، صفحہ 307، دار المعرفۃ، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: جو مال رشوت یا تغنی یا چوری سے حاصل کیا اس پر فرض ہے کہ جس جس سے لیا اُن پر واپس کردے، وہ نہ رہے ہوں اُن کے ورثہ کو دے، پتا نہ چلے تو (شرعی) فقیروں پر تصدق کرے، خرید و فروخت کسی کام میں اُس مال کا لگانا حرام قطعی ہے، بغیر صورت مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کا نہیں۔ یہی حکم سُود وغیرہ عقودِ فاسدہ کا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بالخصوص انہیں واپس کرنا فرض نہیں، بلکہ اسے اختیار ہے کہ اسے واپس دے خواہ ابتداءً (پہلے ہی) تصدق کردے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 551 تا 552، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مالِ حرام کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: زرِ حرام والے کو یہ حکم ہوتا ہے کہ جس سے لیا اسے واپس دے وہ نہ رہا اس کے وارثوں کو دے، پتہ نہ چلے تو فقراء پر تصدق کرے۔ یہ تصدق بطور تبرع و احسان و خیرات نہیں بلکہ اس لئے کہ مال خبیث میں اسے تصرف حرام ہے اور اس کا پتہ نہیں جسے واپس دیا جاتا لہٰذا دفع خبث وتکمیل توبہ کے لئے فقراء کودینا ضرور ہوا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 352، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں مالِ حرام سے قرض ادا کرنے کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: مالِ حرام کو اپنے کسی مصرف میں صَرف (خرچ) کرنا اُسے جائز نہیں ۔ ۔ ۔ اپنی نجات چاہے تو مال حرام اس کے مالک کو یا وارثوں کو پہنچائے اور نہ ملیں تو تصدق کرے اور وجہ حلال سے مال پیدا کر کے قرض ادا کرے ۔ ۔ ۔ اور اگر پیرویِ نفس کی اور مالِ حلال کی طرف توجہ نہ کی اُسی حرام سے قرض ادا کیا اور اپنے مصارف میں صرف کرتا رہا، تو یہ ایک گناہ ہے۔ ملتقطاً (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 710، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

جائز کام کی نوکری کرنا بھی شرعاً جائز ہے، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: اگر اِن کاموں کو دیانت وامانت سے انجام دے ۔ ۔ ۔ اور کوئی ناجائز کام اُسے کرنا نہ ہو، تو یہ نوکری جائز ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 497، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اُجرت جب حرام کام کے عوض میں نہ ہوتو حرام نہیں ہوگی، چناچہ ایک دوسرے مقام پر سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: نفسِ اجرت کہ کسی فعلِ حرام کے مُقابل (عوض میں) نہ ہو، حرام نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 501، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر:FAM-1197
تاریخ اجراء: 26 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 14 مئی 2026ء