logo logo
AI Search

غیر مسلم اور بدمذہبوں کے اشتہارات چھاپنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غیر مسلم اور بد مذہبوں کے اشتہارات چھاپ کر دینا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا پرنٹنگ پریس کا کام ہے، کئی غیر مسلم جیسے عیسائی وغیرہ اپنے مذہبی جلسوں کے اشتہار بنوانے آتے ہیں، اسی طرح کئی گمراہ لوگ اپنے جلسوں کے اشتہارت بنوانے آتے ہیں، ان اشتہارات میں ان کے جلسوں میں آنے کی دعوت وغیرہ کے الفاظ ہوتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ تقریبا آج کل ہر اشتہار میں جانداروں کی تصاویر بھی بنانا ہوتی ہیں۔ کیا شرعا ہمارا اس طرح کے اشتہار بنا کر اس کو پرنٹ کر کے دینا جائز ہے؟

جواب

صورت مذکورہ میں آپ کا غیر مسلموں اور بد مذہبوں کے لیے مذکورہ بالا اشتہار بنانا اور چھاپنا، شرعا ناجائز و حرام ہے، کہ اولاً: تو یہ ان کے ناجائز و حرام و گمراہی پر مشتمل افعال و معاملات میں ان کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائز کام میں تعاون کرنا بھی قرآن عظیم کی روشنی میں گناہ ہے، ثانیاً: کفار وغیرہ کے جلسوں میں آنے کی دعوت کے الفاظ لکھنا، یہ امر ضلالت کی طرف بلانا ہے اور حدیث پاک میں فرمایا کہ جو کسی کو امر ضلالت کی طرف بلائے، جتنے اس کے بلانے پر چلیں ان سب کے برابر اس پر گناہ ہوگا اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ ہو گی، (حدیث) بالفرض کسی مجمع میں اشتہار پڑھ کر ایک ہزار لوگ شامل ہوئے تو ان سب کا گناہ اشتہار بنانے، چھاپنے والے کو بھی ہوگا۔ ثالثا: ان اشتہارات کو چھاپنا، عام کرنا اشاعت فاحشہ ہے، جس پر قرآن عظیم میں سخت شدید وعید وارد ہے۔ رابعاً: جانداروں کی تصاویر بناکر ان کا پرنٹ نکالنا، ان کو چھاپنا یہ شرعا حرام و گناہ ہے جس کی شریعت مطہرہ میں سختی سے ممانعت ہے۔ لہذا پرنٹنگ کا کام کرنے والے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان افعال سے دور رہیں اور چند ٹکوں کی خاطر اپنی آخرت کاسودانہ کریں۔

مذکورہ بالا حکم کے جزئیات مندرجہ ذیل ہیں:

گناہ پر معاونت کی ممانعت کرتے ہوئے اللہ عزوجل فرماتاہے ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ- اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾ ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ (پارہ 6، سورۃ المائدہ، آیت 2)

فتاوی رضویہ میں ہے: معصیت پر اعانت خود ممنوع و معصیت۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 149، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امر ضلالت کی طرف بلانے کے حوالے سے صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی، مسند احمد، مسند ابی یعلی، صحیح ابن حبان اور المعجم الأوسط میں ہے: (و اللفظ للاول) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: و من دعا إلى ضلالة، كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه، لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا“ ترجمہ: جو کسی کو امر ضلالت کی طرف بلائے جتنے اس کے بلانے پرچلیں ان سب کے برابر اس پر گناہ ہو اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ ہو۔ (صحیح مسلم، کتاب العلم، جلد 08، صفحہ 62، دار الطباعة العامرة تركيا)

امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: میں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ایسی محافل میں جتنے لوگ کثرت سے جمع کئے جائیں گے اسی قدر گناہ و وبال صاحب محفل و داعی پر بڑھے گا۔ حضار سب گنہگار اور اُن سب کا گناہ گانے بجانے والوں پر اور اُن کا ان کا سب کا بلانے والوں پر۔ بغیر اس کے کہ اُن میں کسی کے اپنے گناہ میں کچھ کمی ہومثلاً دس ہزار حضار کا مجمع ہے تو ان میں ہر ایک پر ایک ایک گناہ، اور فرض کیجئے تین قوال تو اُن میں ہر ایک پر اپنا گناہ اور دس دس ہزار گناہ حاضرین کے، یہ مجموعہ چالیس ہزار چار اور ایک اپنا، کل چالیس ہزار پانچ گناہ داعی و بانی پر۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم فرماتے ہیں: من دعا الٰی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل آثام من تبعہ لا ینقص ذٰلک من اٰثامھم شیئا۔ رواہ الائمۃ احمد و الستۃ الا البخاری عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔ ایسے محرمات کو معاذ اللہ موجب قربت جاننا جہل و ضلال اور ان پر اصرار کبیرہ شدید الوبال اور دوسروں کو ترغیب اشاعت فاحشہ و اضلال، و العیاذ باللہ من سوء الحال۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 150151، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امام اہل سنت اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے مذکورہ جزئیہ سے معلوم ہوا کہ دوسروں کو برائی کی ترغیب دلانا اشاعت فاحشہ ہے اور اشاعت فاحشہ بہت بڑا جرم ہے۔ چنانچہ بری چیز کی اشاعت کرنے کے حوالے سے قرآن عظیم میں ہے: ﴿اِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ اَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ اٰمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ اللَّهُ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (پارہ 18، سورۃ النور، آیت 19)

کفریات سے مملوکتاب کی اشاعت کے متعلق فتاوی رضویہ میں سوال ہوا: کہ ایک شخص نے کتاب لکھی جس میں کئی خلاف شرع باتیں اور کفریات لکھے، ایسی کتاب لکھنا اور چھپوانا کیسا، ان کو روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ (ملخصا)

سیدی اعلی حضرت، امام اہل سنت، شیخ الاسلام و المسلمین، الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: اس کی اشاعت اشاعت فاحشہ، اس کا لکھنا پڑھنا پڑھوانا سب اشد قطعی حرام، اس میں تمام اہلسنت بلکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین و کلمات کفریہ ہیں، اس بارے میں قانونی چارہ جوئی اگر مفید ہو، ممنوع نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 690، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)

کفریات پر مشتمل کتب کو ختم کرنا لازم ہے فتاوی رضویہ میں ایک کفریات پر مشتمل کتاب کے بارے ہے: اب اس کی اِشاعت سے باز رہے۔ اور جس قدر جلدیں باقی ہوں، جَلادے اور حتی الوسع اُس کے اِخمادِ نا رو اِماتتِ اذکار میں سعی کرے کہ منکر باطل اسی کے قابل، قال ﷲ تعالٰی: ﴿اِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ اَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ بے حیائی پھیلے مسلمانوں میں، اُن کے لیے دکھ کی مار ہے دنیا و آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ سُبحٰن ﷲ! اشاعتِ فاحشہ پر یہ ہائل وعید، پھر اشاعتِ کفر کس قدر شدید۔ (فتاوی رضویہ، جلد 27، صفحہ 186، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بلاوجہ تصاویر بنانے پر سخت شدید وعیدات احادیث طیبات میں واردہیں۔چنانچہ بخاری شریف میں ہے: ”قال:سمعت النبي صلى اللہ عليه و سلم يقول: إن أشد الناس عذابا عند اللہ يوم القيامة المصورون“ ترجمہ: حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عذاب والے وہ ہوں گے جو تصویر بنانے والے ہیں۔ (صحیح البخاری، باب عذاب المصورین یوم القیامۃ، ج 5، 2220، دار ابن کثیر دمشق)

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح میں ہے: ”قال أصحابنا و غيرهم من العلماء: تصویر صورة الحيوان حرام شديد التحريم و هو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث“ ترجمہ: ہمارے اصحاب اور دیگر علمائے کرام نے فرمایا حیوانات کی تصویربنانا شدید حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں شامل ہے کیونکہ اس پرشدید وعید آئی ہے جواحادیث میں مذکور ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، باب التصاویر، ج 7، ص 2848، دار الفکر، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-139
تاریخ اجراء: 28 صفر المظفر 1443ھ / 06 اکتوبر 2021ء