گندے پانی سے سیراب کی گئی فصل کو استعمال کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گندی نالیوں کے پانی سے سیراب کی گئی فصل کو استعمال کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس فصل میں گندی نالیوں کا پانی استعمال ہو اس کو استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ آج کل عموماً ہر فصل میں کھاد استعمال ہوتی ہے اور زیادہ تر کھادوں میں گوبر وغیرہ ہوتا ہے تو ان فصلوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب
فقہائے کرام نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ نجس پانی سے سیراب کردہ درختوں اور فصلوں کی پیداوار کا استعمال کرنا جائز ہے، کیونکہ نجس چیز جب اپنے عین یعنی صفت اور حقیقت کو چھوڑ کر دوسری چیز میں بدل جائے تو وہ پاک ہوجاتی ہے، نیز زمین کی تقویت کے لیے اس میں گوبر کی کھاد ڈالنے کا شروع سے مسلمانوں میں عرف چلا آرہا ہے؛ اور گوبر کے اسی استعمال اور نفع اٹھانے کے پیش نظر فقہائے کرام نے گوبر کی بیع کو جائز قرار دیا ہے، لہٰذا فصلوں میں گوبر کی کھاد ڈالنا جائز ہے، اور اس سے تیار شدہ فصلوں کے استعمال میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔
معراج الدرایہ و فتاوی شامی میں ہے ’’والزروع والثمار المسقية بالنجاسات لا تكره ولا تحرم عند أكثر الفقهاء‘‘ ترجمہ: اکثر فقہاء کے نزدیک وہ پھل اور فصلیں جو نجس چیزوں سے سیراب کی گئیں؛ ان کا استعمال کرنا حرام نہیں اور نہ ہی مکروہ ہے۔ (معراج الدراية في شرح الهداية، جلد 7، صفحہ 868، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
زمین میں گوبر کے استعمال کے متعلق البحر الرائق میں ہے ’’کرہ بیع العذرۃ لا السرقین؛ لأن المسلمین یتمولون السرقین وانتفعوا بہ في سائر البلاد والأمصار من غیر نکیر؛ فإنھم یلقونہ في الأراضي لاستکثار الریع‘‘ ترجمہ: عذرہ (انسانی پاخانہ) کی بیع مکروہ ہے، لیکن سرقین (جانوروں کے گوبر) کی بیع مکروہ نہیں؛ کیونکہ مسلمان گوبر کو مال شمار کرتے ہیں اور تمام شہروں اور علاقوں میں بلا کسی نکیر کے اس سے فائدہ اٹھاتے آئے ہیں۔ وہ اسے زمینوں میں ڈالتے ہیں تاکہ پیداوار اور فصل زیادہ ہو۔ (البحر الرائق، جلد 8، صفحہ 365، مطبوعہ: کوئٹہ)
مجمع الانھر میں ہے ”وجاز بیع السرقین مطلقًا في الصحیح عندنا لکونہ مالاً منتفعًا بہ لتقویۃ الأرض في الإنبات‘‘ ترجمہ: ہمارے نزدیک صحیح قول کے مطابق سرقین (جانوروں کے گوبر) کی خرید و فروخت مطلقاً جائز ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا مال ہے جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے، اور زمین کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ (مجمع الانھر، ج 7، صفحہ 211، مطبوعہ: کوئٹہ)
الموسوعۃ الفھیۃ الکویتیۃ میں ہے ’’ذهب الحنفية إلى أنه يجوز التسميد بالنجاسات، والزروع المسقية بالنجاسات لا تحرم ولا تكره‘‘ ترجمہ: فقہائے احناف کے نزدیک نجس اشیاء کو کھاد کے طور پر استعمال کرنا جائز ہے، اور ایسی کھیتیاں یا فصلیں جنہیں نجاست سے سیراب کیا گیا ہو، ان کی پیداوار حرام نہیں ہوتی اور نہ ہی مکروہ ہوتی ہے۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 25، صفحہ 237، مطبوعہ: کویت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5115
تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1448ھ/18 جون 2026ء