logo logo
AI Search

دعوت کے بغیر محفل میں جانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

محلے میں ہونے والی محفل میں دعوت کے بغیر جانا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

بعض محافل میں دعوتِ عام ہوتی ہے کہ جو چاہے شرکت کرے، وہاں جانے میں تو حرج نہیں۔ البتہ بعض محافل مخصوص ہوتی ہیں کہ ان کی دعوت عام نہیں ہوتی بلکہ اہلِ خانہ نے مخصوص لوگوں کو بلایا ہوتا ہے اور کھانے وغیرہ کا انتظام بھی مخصوص افراد کے لئے ہوتا ہے، ایسی محافل میں اگر دعوت نہیں دی گئی تو صاحبِ خانہ کی اجازت کے بغیر جانا شرعاً جائز نہیں۔

چنانچہ حدیث مبارک میں ہے: عن عبد اللہ بن عمر: قال رسول اللہ - صلى اللہ عليه وسلم : من دعي فلم يجب فقد عصى اللہ و رسوله، و من دخل على غير دعوة  دخل  سارقا وخرج مغيرا‘‘ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و سلَّم نے فرمایا: جس کو دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہ کی اس نے اللہ و رسول (عزوجل و صلَّی اللہ تعالی علیہ و اٰلہٖ و سلَّم) کی نافرمانی کی اور جو بغیر بلائے گیا وہ چور ہو کر گھسا اورلٹیرا بن کر نکلا۔ (سنن أبي داود، باب ماجاء فی اجابۃ الدعوۃ، ج 5، ص 569، دار الرسالۃ العالمیہ)

دعوتوں کےبارے میں سوال جواب میں ہے: سوال: اگر کسی نے نجی (یعنی پرائیویٹ) طور پر مثلاً شادی وغیرہ میں محفلِ نعت کا اہتمام کیا اور وہاں کھانے کا بھی انتظام ہو، تو بغیر دعوت کے جائے یا نہیں؟ جواب: یہ دعوت بھی اگر مخصوص افراد کے لئے ہے، تو بِن بُلائے جا کر کھانے کی اجازت نہیں اور اگر دعوتِ عام ہے تو اجازت ہے۔ (دعوتوں کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 6 ۔ 7، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2551
تاریخ اجراء: 22 ربیع الآخر 1447ھ / 16 اکتوبر 2025ء