logo logo
AI Search

آرٹیفیشل پلکیں لگانے کا شرعی حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پلکیں گر جائیں تو آرٹیفیشل پلکیں لگانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر پلکیں گر جائیں، تو آرٹیفیشل لگا سکتے ہیں؟

جواب

پلکیں چہرے کی زین کے ساتھ آنکھوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہوا میں دھول، مٹی وغیرہ کے باریک اجزاء آنکھوں میں داخل ہو کر انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں، پلکیں ان ذرات کو روکنے میں مدد کرتی ہیں۔ یونہی بارش وغیرہ میں پانی کے قطروں اور دھوپ کی تیز شعاؤں سے آنکھوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ پلکوں کا نہ ہونا جہاں چہرہ کے مقصودی جمال (زینت) میں کمی کا باعث ہے، وہیں آنکھوں کے لئے نقصان دہ بھی ہےکہ آنکھوں میں مٹی وغیرہ ذرات لگاتار جانا شدید تکلیف اور آنکھوں کے ضرر کا سبب ہے۔ اب ایسے افراد جن کی پلکیں نہ ہوں، اپنے چہرے کی زینت بحال کرنے اور آنکھوں کو نقصان سے بچانے کے لئے مختلف طریقوں سے نئی پلکیں لگواتے ہیں۔ بعض سرجری (surgery) کے ذریعے انسانی بال لگواتے ہیں اور بعض آرٹیفیشل (synthetic) لگوا لیتے ہیں۔ (اصلی اور مصنوعی بالوں سے زینت و حفاظت کا بنیادی مقصد تو حاصل ہو جاتا ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ اصلی بال بعد میں گروتھ (growth) کرتے ہیں، جبکہ نقلی بال گروتھ نہیں کرتے) اور متعدد افراد اپنی اصلی پلکوں کے ساتھ گوند (glue) وغیرہ کے ذریعے آرٹیفیشل بال چپکا لیتے ہیں۔ اس تمام تر تفصيل كے ساتھ بہرحال بحیثیتِ مسلمان ہمارے لئے یہی حکم ہے کہ اپنے تمام کام شریعتِ محمدیہ کے مطابق کریں۔ لہذا مختلف صورتوں میں حکم شرع کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:

سرجری کے ذریعے مستقل پلکیں لگانا:

آپریشن/سرجری کے ذریعے پپوٹوں (eyelids) پر انسانی بال، کسی جانور کے یا پھر مصنوعی بال مستقل طور پر لگا دئیے جاتے ہیں۔ اس کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ انسان اور خنزیر کے بالوں کے علاوہ کسی جانور کے یا مصنوعی بال لگوا سکتے ہیں۔ تفصیل یہ ہے کہ پلکیں چونکہ جمالِ مقصود کا سبب ہیں اور آنکھوں کی حفاظت کا ذریعہ بھی، لہذا ان کے لئے سرجری کروانا تو شرعاً جائز ہے، لیکن انسانی بالوں سے انتفاع (نفع حاصل کرنے) کو انسانی اعضاء کی تکریم کی وجہ سے شریعتِ اسلامیہ نے حرام قرار دیا ہے۔ یونہی خنزیر کے نجس العین ہونے کی وجہ سے اس کے کسی بھی جزء سے نفع اٹھانا بھی حرام ہے۔ لہذا انسان اور خنزیر کے بالوں کے علاوہ کوئی بھی بال لگوا سکتے ہیں، زینت و حفاظت کا مقصد ان سے پورا ہو جائے گا۔ نیز سرجری کے ذریعے مستقل پلکیں لگوائی جائیں، تو یہ وضو و غسل ادا ہونے میں بھی رکاوٹ نہیں بنیں گی کہ یہ محلِ غسل کے کسی حصہ پر پانی پہنچنے سے مانع نہیں ہوں گی۔

بغیر سرجری عارضی طور پر پلکیں لگانا:

عمومی صورت کے مطابق لوگ سرجری کا سہارا نہیں لیتے، کیونکہ ان کی کچھ نہ کچھ پلکیں موجود ہوتی ہیں، لہذا زینت وغیرہ مقاصد کے لئے وہ انہی کے ساتھ آرٹیفیشل بال گوند وغیرہ کے ذریعے عارضی طور پر چپکا لیتے ہیں۔ اس کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ اگر آرٹیفیشل بال انسان اور خنزیر کے علاوہ کے ہوں، تو ان کا لگانا، جائز ہے۔ لیکن مکلف (عاقل بالغ) شخص کے لئے وضو و غسل کے وقت ان نقلی پلکوں کو اتارنا ضروری ہو گا، کیونکہ گوند وغیرہ لگی ہونے کی وجہ سے پانی اصلی پلکوں تک نہیں پہنچتا، جبکہ وضو و غسل میں اصلی پلکوں کا ہر بال دھونا فرض ہے۔

جزئیات بالترتیب درج ذیل ہیں:

انسانی بالوں سے نفع اٹھانا، جائز نہیں۔ سنن ابی داؤد میں ہے: ’’لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الواصلۃ و المستوصلۃ‘‘ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے اور بال جڑوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔

اس کے تحت امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’الواصلۃ تصل الشعر بشعر النساء والمستوصلۃ المعمول بھا‘‘ یعنی واصلہ وہ عورت ہے جو بالوں میں عورتوں کے بال ملائے اور مستوصلہ وہ عورت ہے جس کے سر میں بال لگائے جائیں۔ (سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 221، مطبوعہ لاہور)

جامع صغیر و تبیین الحقائق میں ہے: واللفظ للثانی: ’’لا یجوز بیع شعر الانسان والانتفاع بہ، لان الآدمی مکرم، فلا یجوز ان یکون جزؤہ مھانا وقال علیہ السلام: لعن اللہ الواصلۃ والمستوصلۃ وانما لعنا للانتفاع بہ لما فیہ من اھانۃ المکرم‘‘ ترجمہ: انسانی بالوں کی بیع اور ان سے نفع اٹھانا، جائز نہیں، کیونکہ آدمی مکرم (قابلِ تعظیم) ہے، تو اس کے کسی جزء کو استعمال کرنا، جائز نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو بال جوڑنے اور جڑوانے والی پر، (اس حدیث میں) ان دونوں پر لعنت (انسانی بالوں سے) نفع اٹھانے کی وجہ سے کی گئی ہے، کیونکہ نفع اٹھانے میں مکرم چیز(انسان) کی اہانت ہوتی ہے۔ (تبیین الحقائق، کتاب البیع، باب البیع الفاسد، جلد 4، صفحہ 51، مطبوعہ ملتان)

خنزیر نجس العین ہے، اس کے کسی بھی جز سے نفع اٹھانا، جائز نہیں۔ اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”تم فرماؤ، جو میری طرف وحی کی جاتی ہے، اُس میں کسی کھانے والے پر میں کوئی کھانا حرام نہیں پاتا مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں میں بہنے والا خون ہو یا سور کا گوشت ہو کیونکہ وہ ناپاک ہے۔“ (پارہ 8، سورۃ الانعام، آیت 145)

علامہ علاء الدین کاسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”الخنزیر فقد روی عن ابی حنیفۃ انہ نجس العین، لان اللہ تعالی وصفہ بکونہ رجسا، فیحرم استعمال شعرہ وسائر اجزائہ“ ترجمہ: خنزیر کے بارے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ یہ نجس العین ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے اس کو گندگی کی صفت سے موصوف کیا ہے، پس اس کے بالوں اور تمام اجزاء کا استعمال حرام ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الطہارۃ، جلد 1، صفحہ 200، مطبوعہ کوئٹہ)

خنزیر کے علاوہ کسی جانور کے یا پلاسٹک کے بالوں سے انتفاع جائز ہے۔ فتاوی یورپ میں بحوالہ فتاوی عالمگیری ہے: ’’ولا باس للمراۃ ان تجعل فی قرونھا وذوائبھا من الوبر‘‘ یعنی عورتوں کے لئے اس کے گیسوؤں اور چوٹیوں میں نقلی بالوں کا گچھا رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

اس کے تحت مفتی عبد الواجد صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: وَبر اونٹ یا بلی کے بالوں کو کہتے ہیں، جب جانوروں کے بال عورتیں زینت کے لئے استعمال کر سکتی ہیں، تو نیلون وغیرہ کے بنے ہوئے بالوں کو استعمال کرنے میں کوئی قباحت و ممانعت نہیں ہے۔“ (فتاوی یورپ، صفحہ 467، شبیر برادرز، لاہور)

پلکیں جمالِ مقصود اور آنکھوں کی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ جیسا کہ دیت کے باب میں اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ تبیین الحقائق کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’واما ما یکون من الاعضاء ارباعاً فھی اشفار العینین ففیھا الدیۃ اذا قلعھا ولم تنبت وفی احدھا ربع الدیۃ، لانھا یتعلق بھا الجمال علی الکمال ویتعلق بھا دفع الاذی والقذی من العین وتفویت ذلک ینقص البصر ویورث العمی۔۔۔ وقال محمد رحمہ اللہ فی اشفار العینین الدیۃ کاملۃ اذا لم تنبت فاراد بہ الشعر۔۔ ایھما ارید کان مستقیماً، لان فی کل واحد من الشعر ومنابتہ دیۃ کاملۃ‘‘ ترجمہ: بہرحال جو اعضاء چار چار ہیں، جیسے آنکھوں کے کنارے (مراد پلکیں)، اس کے ضائع کر دینے میں مکمل دیت ہے جبکہ وہ دوبارہ نہ آئیں اور ان میں سے ایک کے ضائع کرنے پر چوتھائی دیت ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ جمال کی تکمیل ان سے متعلق ہے، یونہی آنکھ سے تکلیف اور گرد و غبار دور کرنے کا ذریعہ بھی ہیں اور ان کا زائل ہونا نظر میں کمی کا سبب اور اندھے پن کا موجب ہے،۔۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آنکھوں کے پپوٹوں میں کامل دیت ہے، جبکہ وہ نہ اگیں، اس سے مراد پلکوں کے بال ہیں،۔۔ بہر حال جو بھی مراد ہو، درست ہے، کیونکہ بال اور بال اگنے کی جگہ دونوں میں سے ہر ایک کی وجہ سے کامل دیت لازم ہو گی۔ (تبیین الحقائق، کتاب الدیات، جلد 6، صفحہ 131، مطبوعہ قاہرہ)

مبسوط سرخسی میں ہے: ’’ان الاھداب والجفون تقی الاذی عن العینین وتفویت ذلک بنقص البصر ویکون آخرہ العمی‘‘ ترجمہ: بے شک پپوٹے اور پلکیں آنکھوں سے تکلیف دہ چیز دور کرتی ہیں اور ان کا زائل ہونا نظر کی کمزوری اور بالآخر اندھے پن کا سبب ہے۔ (مبسوط للسرخسی، کتاب الدیات، جلد 26، صفحہ 70، مطبوعہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ’’چاروں پپوٹوں سے پلک اس طرح اکھیڑے دئیے جائیں کہ آئندہ بال نہ جمیں، تو پوری دیت واجب ہے۔“ (بہار شریعت، حصہ 18، صفحہ 832، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

 وضو و غسل میں پلک کا ہر بال دھونا فرض ہے۔ جیسا کہ فتاوی رضویہ، جلد 1، صفحہ 444 اور بہار شریعت میں ہے: ’’پلک کا ہر بال پورا دھونا فرض ہے۔ اگر اس میں کیچڑ وغیرہ کوئی سخت چیز جم گئی ہو، تو چھڑانا فرض ہے۔“ (بہار شریعت، حصہ 2، صفحہ 290، مطبوعہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7135
تاریخ اجراء: 19 جمادی الثانیہ 1444ھ/12 جنوری 2023ء