logo logo
AI Search

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سلام عرض کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج و عمرہ پر جانے والے کو اللہ کی بارگاہ میں سلام عرض کرنے کا کہنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا حج و عمرہ پر جانے والے کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب مکہ پاک پہنچے، تو اللہ تعالی کی بارگاہ میں میرا سلام عرض کرنا؟ کیا ایسا کہنا شرعاً درست ہے؟ سائل: ذو القرنین (جی 10، اسلام آباد)

جواب

اللہ تعالی کی بارگاہ میں سلام عرض کرنا شرعاً درست نہیں، کیونکہ سلام کے الفاظ مخلوق کے لیے بولے جاتے ہیں، جن  کا مطلب سلامتی کی دعا دینا ہوتا ہے، جبکہ رب تعالی خود اپنی مخلوق کو مصیبتوں اور آفتوں سے سلامتی و عافیت عطا فرمانے والا ہے، اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اسے کوئی مصیبت و پریشانی پہنچے اور وہ سلامتی کا محتاج ہو، یہی وجہ ہے کہ حدیث پاک میں اللہ تعالی پر سلام بھیجنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اس لئے حج و عمرہ پر جانے والے سے اللہ کی بارگاہ میں سلام کا نہیں بلکہ دعا کرنے کا کہیں۔

حدیث پاک میں ہے: ”لا تقولوا السلام على اللہ، فإن اللہ هو السلام“ ترجمہ: اس طرح نہ کہو کہ اللہ پر سلام ہو، کیونکہ اللہ تعالی تو خود سلام (سلامتی و عافیت عطا فرمانے والا) ہے۔ (صحیح البخاری، ج 1، ص 167، حدیث 835، دار طوق النجاۃ، بیروت)

ذات باری تعالی پر سلام بھیجنا منع کیوں ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے مذکورہ بالا حدیث پاک کے تحت علامہ شہاب الدین التُوربِشتی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 661ھ) فرماتے ہیں: ”وجه النهي بين ظاهر، وذلك لأن اللہ عز وجل هو المرجوع إليه بالمسائل، المتوسل إليه بالدعاء، المتعالي عن المعاني التي ذكرناها في التسليم، فأنى يدعى له وهوالمدعو على الحالات“ ترجمہ: ممانعت کی وجہ بالکل واضح ہے، کیونکہ اللہ تعالی ہی کی طرف تمام مسائل میں رجوع کیا جاتا ہے، وہی ہے جس سے دعا کی جاتی ہے، وہ ان تمام معانی سے بہت بلند و برتر ہے جو ہم نے سلام بھیجنے کے بارے میں بیان کیے۔ پھر بھلا اس کے لیے دعا کیسے کی جا سکتی ہے، جبکہ ہر حال میں اسی سے دعا کی جاتی ہے؟ (المیسر فی شرح مصابیح السنۃ، ج 1، ص 253، مکتبہ نزار مصطفی الباز)

علامہ مظہر الدین زیدانی الحنفی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 727ھ) مذکورہ بالا حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”قول الرجل للرجل: السلامُ عليك، معناه: أنت آمِن من شرِّي، وهذا اللفظ لا يجوز أن يقال لله، لأنه منزه عن أن يلحقه ضرر“ ترجمہ: کسی شخص کا دوسرے کو السلام علیک کہنے کا معنی یہ ہے کہ تم میرے شر سے سلامت رہو، یہ لفظ اللہ تعالی کے لیے بولنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی اس سے پاک ہے کہ اسے کوئی تکلیف پہنچے۔ (المفاتیح شرح المصابیح، ج 2، ص 156، دار النوادر، دمشق)

جب اللہ تعالی ہی اپنے بندوں کو سلامتی عطا فرمانے والا ہے، تو اس پر سلام بھیجنے کا کیا معنی؟ چنانچہ شارحِ مشکاۃ حضرت شیخ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”أن معنى السلام عليك هو الدعاء بالسلامة من الآفات، أي: سلمت من المكاره أو من العذاب، وهذا لا يجوز لله تعالى، فإن اللہ هو السلام، أي: هو الذي يعطي السلام لعباده“ ترجمہ: تم پر سلام ہو کہنے کا مطلب آفتوں سے سلامت رہنے کی دعا دینا ہے، یعنی تم تکلیفوں یا عذاب سے سلامت رہو اور یہ کہنا اللہ تعالی کے لیے جائز نہیں ہے، کیونکہ اللہ پاک ہی سلام ہے، یعنی وہ ہی اپنے بندوں کو سلامتی عطا فرمانے والا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج 2، ص 731، دار الفکر، بیروت)

اللہ تعالی پر سلام بھیجنا جائز نہیں، کیونکہ وہ سلامتی کا محتاج نہیں، چنانچہ شیخِ محقق علامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”السلام اسم من أسمائه تعالى، وهو في الأصل مصدر وصف به، فإما أن يراد به السالم من جميع النقائص، أو المسلم من شاء من خلقه من الآفات، فالسلامة منه وله، كما ورد في المأثور من الدعاء: اللهم أنت السلام، ومنك السلام، وإليك يعود السلام، فلا يجوز الدعاء له بالسلام، وهو موهم باحتياجه وخوفه“ ترجمہ: "سلام" اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اصل میں یہ مصدر ہے جسے بطورِ صفت استعمال کیا گیا ہے، اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے نقص سے پاک ہے، یا پھر یہ مراد ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے آفات سے سلامتی عطا فرماتا ہے۔ پس سلامتی اسی کی طرف سے ہے اور اسی کے لیے ہے، جیسا کہ دعائے ماثورہ میں وارد ہے: "اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، وَإِلَيْكَ يَعُودُ السَّلَامُ"۔ تو اللہ تعالیٰ کے لیے سلامتی کی دعا کرنا جائز نہیں، کہ اس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ (سلامتی کا) محتاج ہے یا اسے (مصیبت پہنچنے کا) خوف ہے۔ (لمعات التنقیح، ج 3، ص 43، حدیث 909، دار النوادر، دمشق)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”سلام ایک قسم کی دعا ہے، یہ رب کے لائق نہیں، رب ہر عیب سے پاک، ہر آفت سے دور ہے اور سب کو سلامت رکھنے والا ہے، اسی لیے ایک دعا میں فرمایا گیا "اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ" الہی تو سلامت رکھنے والا ہے۔“ (مرآۃ المناجیح، ج 2، ص 99 حدیث 909، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”الله عز وجل کو مخاطب کر کے السلام علیکم یا وعلیکم السلام کہنا ممنوع ہے۔ حدیث میں ہے: "لا تقولوا السلام على اللہ فإن اللہ هو السلام۔‘‘ یہ نہ کہو سلام ہو اللہ پر اس لیے کہ اللہ سلام ہے۔ (فتاوی شارح بخاری، ج 1، ص127، دائرۃ البرکات، گھوسی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7781
تاریخ اجراء: 06 محرم الحرام 1448 ھ/22 جون 2026ء