logo logo
AI Search

والدین کی نافرمانی اور انہیں تکلیف دینے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

والدین کی نافرمانی کرنے والے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص والدین کی نافرمانی کرے، انہیں ایذاء پہنچائے اور انہیں گالیاں دے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں اپنی عبادت کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کو بڑی تاکید کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور قرآن و حدیث میں والدین کے نافرمان کے لیے سخت وعیدیں ذکر کی گئی ہیں، اولاد پر لازم ہے کہ وہ دل و جان سے والدین کی خدمت کرے اور اس خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے، اولاد اپنے ماں باپ کو راضی کرے تو وہ ان کے لیے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی ان کے لیے دوزخ ہیں، نافرمان اولاد جب تک ناراض ماں اور باپ کو راضی نہ کرے، اس کا کوئی فرض، کوئی نفل، کوئی عمل نیک اصلاً قبول نہ ہوگا، عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلا نازل ہو گی، مرتے وقت معاذ اللہ کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے۔

لہذا جو بیٹا اپنے والدین کے ساتھ بد تمیزی کرتا ہے، ان کو ایذاء پہنچاتا اور برا بھلا کہتا ہے، اس پر فرض ہے کہ اپنے اس برے فعل سے فوراً توبہ کرے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے اس کبیرہ گناہ سے سچے دل سے معافی مانگے اور جس طرح بھی ہو سکے، اپنے والدین کو راضی کرے، اس صورت میں بیٹا جب تک اپنے والدین سے معافی مانگ کر ان کو راضی نہ کر لے، وہ والدین کا نافرمان، گناہگار اور ان کے حق میں گرفتار رہے گا، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے ارشاد پاک کے مطابق اس کا کوئی فرض، کوئی نفل، کوئی عمل نیک اصلاً قبول نہ ہوگا، عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلا نازل ہو گی، مرتے وقت معاذ اللہ کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف الگ ہے۔

والدین کے حقوق کے بارے میں قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے: ”وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا (23) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا “۔ ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ”ہوں“ نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن (بچپن) میں پالا۔ (پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل17، آیت 23، 24)

اس آیت کے تحت مفسر قرآن مولانا مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الرحمان فرماتے ہیں: ”اولاد منہ سے ایسی بات نہ نکالے جس سے معلوم ہو کہ ان کی طرف سے طبیعت پر گرانی ہے، ماں باپ کو ان کا نام لے کر نہ پکارے، ماں باپ سے نوکروں کا سا برتاؤ نہ کرے، بیٹا ماں باپ کو اپنا حقیر نوکر نہ رکھے۔ (نور العرفان)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ألا أنبئکم بأکبر الکبائر ثلاثا الإشراک باللہ و عقوق الوالدین“ یعنی میں تمہیں نہ بتاؤں کہ سب کبیرہ گناہوں سے سخت تر گناہ کیا ہے؟ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا: اللہ تعالی کا شریک ٹھہرانا اور ماں باپ کو ستانا۔ (صحیح البخاری، جلد 1، ص 362، مطبوعہ کراچی)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضی الرب فی رضی الوالد و سخط الرب فی سخط الوالد“۔ رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔ (مشکٰوۃ المصابیح جلد 2، ص 433، مطبوعہ لاھور)

ایک اور مقام پر نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے: ”کل الذنوب یغفر اللہ منھا ما شاء إلا عقوق الوالدین فإنہ یعجل لصاحبہ فی الحیٰوۃ قبل الممات“۔ یعنی اللہ تعالیٰ والدین کی نافرمانی کے علاوہ باقی سب گناہوں میں سے جس کو چاہے معاف فرما دے گا، (یعنی والدین کے نافرمان کو معاف نہیں فرمائے گا) اس کو مرنے سے پہلے زندگی میں ہی سزا عطا فرمائے گا۔ (مشکٰوۃ المصابیح جلد 2، ص 435 مطبوعہ لاھور)

اس حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”یہ فرمان عالی سخت ناراضی کے اظہار کے لیے ہے، لازمی قانون کے لیے نہیں، لہٰذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ: ”اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ “۔ یا اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ جس گناہ پر دنیا میں بھی عذاب آ جاتا ہے، وہ ماں باپ کو ستانا ہے، شرک و کفر پر دنیا میں عذاب آنا لازم نہیں، ماں باپ کو ستانے والا دنیا میں چین نہیں پاتا۔

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن باپ کے نافرمان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”پسر مذکور فاسق فاجر مرتکب کبائر عاق ہے اور اسے سخت عذاب و غضب الٰہی کا استحقاق، باپ کی نافرمانی اللہ جبار و قہار کی نافرمانی ہے اور باپ کی ناراضی اللہ جبار و قہار کی ناراضی ہے، آدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں، جب تک باپ کو راضی نہ کرے گا اس کا کوئی فرض، کوئی نفل، کوئی عمل نیک اصلاً قبول نہ ہوگا عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلا نازل ہو گی، مرتے وقت معاذ اللہ کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے“۔ (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 384، 383، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اسی طرح کے ایک اور سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”ایسا شخص افسق الفاسقین واخبث مہین و مستحق غضب شدید رب العالمین و عذاب عظیم و نار جحیم ہے۔۔۔۔

حدیث: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ اللہ عز وجل فرماتا ہے: ”ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ، رواہ الطبرانی و الحاکم عن أبی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ“۔ یعنی ملعون ہے جو اپنے والدین کو ستائے، ملعون ہے جو اپنے والدین کو ستائے، ملعون ہے جو اپنے والدین کو ستائے۔ (اسے طبرانی اور حاکم نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا)“۔ (ملخصاً من الفتاوی الرضویہ جلد 24 ص 402 تا 404 رضا فاؤنڈیشن لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7416
تاریخ اجراء: 22 شعبان المعظم 1445ھ / 04 مارچ 2024ء