نا اہل کا غلط طریقے سے پینشن لینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
پنشن لینے کے لئے نااہل شخص کا اپنے آپ کو اہل ظاہر کر کے پنشن لینا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں جب تندرست بالغ بیٹا، پینشن کااہل نہیں ہے، تو اب اس کا پینشن لینے کے لیے اپنے آپ کوجھوٹ موٹ، پینشن کا اہل ظاہر کرنا، حرام اور ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ اس میں جھوٹ و دھوکہ پایا جا رہا ہے، اور جھوٹ و دھوکہ دونوں ناجائز و حرام ہیں۔ لہذا اس طریقے سے پینشن کی رقم لینا، اس کے لیے جائزنہیں، اور اگر لے لی ہو، تو جو اہل ہیں، ان کو دینا لازم ہے۔
صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابو داؤد، مسند الحمیدی، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، المعجم الاوسط، المعجم الکبیر لطبرانی، السنن الکبری للبیہقی وغیر ہ کتب حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ و علیہ و سلم کا ارشاد ہے ”لیس منا من غشنا“ وہ ہم میں سے نہیں جو ہمیں دھوکہ دے۔ (صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 70، مطبوعہ: کراچی)
جامع صغیر، صحیح ابن حبان، المعجم الکبیر لطبرانی وغیرہ کتب حدیث میں حدیث مبارکہ ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فلیس منا والمکروالخداع فی النار" ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں اور مکرکرنے والا اور دھوکہ دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ (المعجم الكبير، جلد 10، صفحہ 138، مطبوعہ: قاہرہ)
فیض القدیر میں ہے ”و الغش ستر حال الشئ“ یعنی دھوکے سے مراد کسی شی کا اصل حال چھپانا ہے۔ (فیض القدیر، جلد 6، صفحہ 240، مطبوعہ: بیروت)
المبسوط للسرخسی میں ہے "الغدر حرام" ترجمہ: دھوکہ دینا حرام ہے۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 10، صفحہ 96، مطبوعہ: بیروت)
مبسوط سرخسی میں ہے "إن الكذب حرام" ترجمہ:بیشک جھوٹ حرام ہے۔ (مبسوط سرخسی، جلد 30، صفحہ 15،دار المعرفۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے "بلاضرورت شرعی جھوٹ بولنا اور بلوانا کبیرہ گناہ ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 356، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5246
تاریخ اجراء: 18 صفر المظفر 1448ھ / 03 اگست 2026ء