کلا مشین سے کھلونا جیتنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
Claw Machine (کھلونا پکڑنے والی مشین) سے پیسے دے کر انعام حاصل کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
بیان کردہ تفصیل کے مطابقClaw Machine کھیلنا، اور اس سے انعام حاصل کرنا، جوا ہے، جو کہ ناجائز و حرام ہے، کیونکہ اس گیم میں پیسے لگانا، اپنے مال کو خطرے پر پیش کرنا ہے، کہ اگر کھلونا نکالنے میں کامیاب ہوجائے، تو کھیلنے والے کو انعام مل جاتا ہے، ورنہ ادا کی گئی رقم ضائع ہو جاتی ہے، اوراپنے مال کو اس قسم کے خطرے پر پیش کرنا ہی قمار یعنی جوا ہے، جسے شریعتِ مطہرہ نے حرام قرار دیا ہے۔
جوئے کی مذمت بیان کرتے ہوئے اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں، تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (پارہ 7، سورۃ المائدۃ، آیت 90)
المعجم الکبیر میں ہے ”من لعب بالمیسر، ثم قام یصلی فمثلہ کمثل الذی یتوضأ بالقیح و دم الخنزیر، فتقول اللہ یقبل لہ صلاۃ“ ترجمہ: جو جوا کھیلے، پھر نماز کے لئے کھڑا ہو، تو اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جو پیپ اورخنزیر کے خون سے وضو کرتا ہے، تو تُو یہ کہے گا کہ اللہ عزجل اس بندے کی نماز قبول فرمائے گا۔ (یعنی جس طرح دوسرے بندے کی نماز قبول نہیں، اسی طرح جوا کھیلنے والے کی بھی قبول نہیں)۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، مسند من یعرف بالکنی، جلد 22، صفحہ 292، مطبوعہ: قاہرہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن اللہ حرم علیکم الخمر و المیسر و الکوبۃ و قال کل مسکر حرام“ ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول) حرام کیا ہے، اور فرمایا: ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ (السنن الکبری للبیهقی، جلد 10، صفحہ 360،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی میں ہے ”القمارمشتق من القمر الذی یزداد و ینقص سمی القمار قماراً لا ن کل واحد من المقامرین ممن یجوز ان یذهب مالہ الی صاحبہ و یستفیدمال صاحبہ فیزداد مال کل واحد منهما مرۃ و ینتقص اخری فاذا کان المال مشروطاً من الجانبین کان قماراً و القمار حرام و لان فیہ تعلیق تملیک المال بالخطر و انہ لا یجوز‘‘ ترجمہ: قمار قمر سے مشتق (نکلا) ہے، قمر وہ ہوتا ہے، جو بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے، اسے قمار اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ مقامرین (جوا کھیلنےوالوں) میں سے ہر ایک کوشش کرتا ہے کہ اپنے ساتھی کا مال لے جائے، اور دوسرے کے مال سے فائدہ حاصل کرے، پس ان میں سے ہر ایک کا کبھی مال بڑھ جاتا ہے، اور کبھی کم ہو جاتا ہے، پس جب مال جانبین (دونوں طرف) سے مشروط ہو، تو اسے قمار کہا جاتا ہے، اور قمار حرام ہے، اور اس لئے کہ اس میں مال کو حاصل کرنے میں خطرے پر معلق کرنا پایا جاتا ہے، اور یہ ناجائز ہے۔ (المحیط البرهانی، جلد 5، صفحہ 323، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5245
تاریخ اجراء: 18 صفر المظفر 1448ھ / 03 اگست 2026ء