logo logo
AI Search

سینما یا فلم اکیڈمی بنانے کا شرعی حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سینما بنانا یا فلموں کی تربیت کے لیے سینٹر بنانا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص فلمیں دکھانے کے لیے سینما بناتا ہے یا فلمیں بنانے کی تربیت کا کوئی سینٹر بناتا ہے، تو اس کا یہ فعل شریعت کی نظر میں کیسا ہے؟

جواب

اسلام جہاں گناہ اور برائی کا کام کرنے سے منع کرتا ہے، وہیں گناہ کا سبب بننے اور اس کی ترویج و اشاعت کرنے سے بھی سختی سے روکتا ہے اور مروجہ فلمیں عموماً بے حیائی، گانے باجے، لہو و لعب، حیا سوز اور غیر اخلاقی مواد کے باعث گناہوں کا مجموعہ ہوتی ہیں، لہذا ایسی فلمیں دکھانے کے لیے سینما بنانا یا فلم سازی کی تربیت کا مرکز قائم کرنا یا خاص اس کے لیے جگہ مہیا کرنا یا کسی بھی طرح سے اس میں معاونت کرنا سخت حرام، ناجائز و گناہ ہے؛ کہ یہ اشاعت فاحشہ (یعنی بے حیائی کی بات پھیلانے) اور گناہ پر تعاون کے زمرے میں آتا ہے، اور اشاعت فاحشہ چاہنے والوں کے لیے قرآن کریم نے درد ناک عذاب کی وعید سنائی ہے، جبکہ گناہ پر باہمی تعاون سے مطلقاً منع فرمایا ہے۔

نیز سینما گھر بنانے یا فلم سازی کے تربیتی مرکز قائم کرنے والوں کے لیے صرف یہ بنانے کا ایک گناہ نہیں، بلکہ تا قیامت جب تک ان میں گناہ کے کام ہوتے رہیں گے، حدیث پاک کی رو سے انہیں بھی ان سب کے برابر گناہ پہنچتا رہے گا، لہذا کسی بھی ایسے کام کا آغاز کرنا جس سے لوگ محض گناہ میں مبتلا ہوں، در حقیقت اپنے لیے گناہِ جاریہ کا دروازہ کھولنا اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنا ہے، جس سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”(اے حبیب!) تم فرماؤ: بیشک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔“ (پارہ 8، سورۃ الاعراف، آیت 28)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”اور ظاہری و باطنی بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ۔“ (پارہ 8، سورۃ الانعام، آیت 151)

علامہ سلیمان بن عمر جمل شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1204ھ/1790ء) تفسیر جمل میں اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں: ”وتعليق النهي بقربانها إما للمبالغة في الزجر عنها لقوة الدواعي إليها وإما لأن قربانها داع إلى مباشرتها“ ترجمہ: بے حیائیوں کے قریب جانے سے ممانعت کو معلق کرنا، یا تو بے حیائیوں کے اسباب کے قوی ہونے کی وجہ سے ان کے حوالے سے زجر میں مبالغہ کرنے کے لیے ہے، یا پھر اس لیے کہ ان کے قریب جانا ان کے ارتکاب کی طرف لے جانے والا ہے (بہر حال بے حیائیوں کے قریب جانے سے بھی منع فرما دیا گیا ہے)۔ (الفتوحات الإلهية بتوضيح تفسير الجلالين، جلد 2، صفحہ 466، دار الكتب العلمية، بيروت)

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ “ (پارہ 18، سورۃ النور 24، آیت 19)

امام ابوبکر احمد بن علی قاضی جصاص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 370ھ/980ء) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: ”أبان اللہ بهذه الآية وجوب حسن الاعتقاد في المؤمنين ومحبة الخير والصلاح لهم فأخبر فيها بوعيد من أحب إظهار الفاحشة والقذف والقول القبيح للمؤمنين وجعل ذلك من الكبائر التي يستحق عليها العقاب“ ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے مسلمانوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنے اور ان کے لیے خیر اور بھلائی پسند کرنے کے واجب ہونے کو واضح فرما دیا۔ پس اس آیت میں اس شخص کے لیے وعید کی خبر دی گئی ہے جو مسلمانوں میں بے حیائی، تہمت اور بری بات کے پھیلانے کو پسند کرتا ہے اور اس (اشاعت فاحشہ) کو ان کبیرہ گناہوں میں سے شمار کیا گیا جن پر سزا کا استحقاق ہوتا ہے۔ (أحكام القرآن للجصاص، جلد 3، صفحہ 399، دار الكتب العلمية، بيروت)

تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”اشاعت سے مراد تشہیر کرنا اور ظاہر کرنا ہے جبکہ فاحشہ سے وہ تمام اقوال اور افعال مراد ہیں جن کی قباحت بہت زیادہ ہے اور یہاں آیت میں اصل مراد زنا ہے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ اشاعت فاحشہ کے اصل معنی میں بہت وسعت ہے، چنانچہ اشاعت فاحشہ میں جو چیزیں داخل ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں: حرام کاموں کی ترغیب دینا، ایسی کتابیں، اخبارات، ناول، رسائل اور ڈائجسٹ وغیرہ لکھنا اور شائع کرنا جن سے شہوانی جذبات متحرک ہوں، فحش تصاویر اور ویڈیوز بنانا، بیچنا اور انہیں دیکھنے کے ذرائع مہیا کرنا، ایسے اشتہارات اور سائن بورڈ وغیرہ بنانا اور بنوا کر لگانا، لگوانا جن میں جاذبیت اور کشش پیدا کرنے کے لیے جنسی عریانیت کا سہارا لیا گیا ہو۔ حیا سوز مناظر پر مشتمل فلمیں اور ڈرامے بنانا، ان کی تشہیر کرنا اور انہیں دیکھنے کی ترغیب دینا۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد 6، صفحہ 601-602 ملخصاً، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔“ (پارہ 6، سورۃ المائدہ 5، آیت 2)

امام ابوبکر احمد بن علی قاضی جصاص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 370ھ/980ء) لکھتے ہیں: ”نهي عن ‌معاونة غيرنا على معاصي اللہ تعالى“ ترجمہ: (مذکورہ آیت مبارکہ میں) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں پر دوسروں کی مدد کرنے سے ممانعت کی گئی ہے۔ (أحكام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 381، دار الكتب العلمية، بيروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمدرضا خانرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”معصیت پر اعانت خود ممنوع و معصیت (ہے)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 149، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسنداحمد، مشکوٰۃ المصابیح وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: واللفظ للبخاری”فزنا العين النظر“ ترجمہ: پس آنکھ کا زنا دیکھنا ہے۔ (صحيح البخاري، جلد 5، صفحہ 2304، حدیث5889، دار ابن كثير، دمشق)

مسند بزار وغیرہ میں ہے: ”عن أبي هريرة رضي اللہ عنه عن النبي صلى اللہ عليه وسلم، أنه قال: العينان تزنيان واليدان تزنيان او قال زنا العين النظر وزنا اليد البطش والفرج يصدق ذلك او يكذبه“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ہاتھ زنا کرتے ہیں، یا فرمایا: آنکھ کا زنا دیکھنا (بد نگاہی کرنا) ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔ (مسند البزار، مسند أبي حمزة أنس بن مالك، جلد 16، صفحہ 204، حدیث 9341، مكتبة العلوم والحكم، المدينة المنورة)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”بد نگاہی ہمیشہ حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 750، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صحیح بخاری، صحیح ابن حبان، معجم کبیر، سنن الکبری للبیہقی وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: واللفظ للبخاری ”ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف“ ترجمہ: میری امت میں کچھ ایسے لوگ ضرور ہونے والے ہیں جو فرج (یعنی زنا)، ریشم، شراب اور باجوں (موسیقی کے آلات) کو حلال ٹھہرائیں گے۔ (صحيح البخاري، جلد 5، صفحہ 2123، حدیث 5268، دار ابن كثير، دمشق)

مسند احمد، معجم کبیر اور مشکوٰۃ المصابیح وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: ”عن أبي أمامة قال قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إن اللہ بعثني رحمة للعالمين وهدى للعالمين وأمرني ربي بمحق المعازف والمزامير“ ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت بنا کر بھیجا ہے، اور میرے رب نے مجھے باجوں اور بانسریوں کو مٹانے کا حکم دیا ہے۔ (مسند احمد، حديث أبي أمامة الباهلي، جلد 36، صفحہ 646، حدیث 22307، مؤسسة الرسالة)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”مزامیر (آلات موسیقی) حرام ہیں، صحیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایک قوم کا ذکر فرمایا: "یستحلون الحر والحریر والمعازف" زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال سمجھیں گے، اور فرمایا: وہ بندر اور سور ہو جائیں گے۔ ہدایہ وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ مزامیر حرام ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 138، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: ”مزامیر حرام ہیں اور حرام ہر حال میں حرام رہے گا، لوگ گناہوں میں مبتلا ہیں اس کے سبب گناہ جائز ہو جائے تو شریعت کا منسوخ کر دینا فاسقوں کے ہاتھ میں رہ جائے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صحیح مسلم، سنن نسائی، صحیح ابن حبان، مسند احمد وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: واللفظ لمسلم ”فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: من سن في الإسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء ومن سن في الإسلام سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أوزارهم شيء“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور ان لوگوں کا اجر (بھی اسے ملے گا) جو اس کے بعد اس پر عمل کریں، بغیر اس کے کہ ان کے اجروں میں کچھ کمی ہو، اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا تو اس پر اس کا گناہ ہے اور ان لوگوں کا گناہ (بھی اسے ملے گا) جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی ہو۔ (صحيح المسلم، جلد 3، صفحہ 87، حدیث 1017، دار الطباعة العامرة، تركيا)

صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند احمد، صحیح ابن حبان وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے: ”من دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا“ ترجمہ: جو شخص کسی گمراہی کی طرف بلائے، اس پر ان سب لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا جو اس کی پیروی کریں گے اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں ہوگی۔ (صحيح المسلم، جلد 8، صفحہ 62، حدیث 2674، دار الطباعة العامرة، تركيا)

علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1014ھ/1606ء) اس حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں: ”من دعا إلى ضلالة أي: من أرشد غيره إلى فعل إثم وإن قل أو أمره به أو أعانه عليه“ ترجمہ: جو شخص کسی گمراہی کی طرف بلائے یعنی جس نے کسی دوسرے کی کسی گناہ کے کام کی طرف رہنمائی کی اگرچہ تھوڑی سی، یا اسے اس کا حکم دیا، یا کسی گناہ کے کام پر اس کی مدد کی (یہ حدیث ان سب صورتوں کو شامل ہے)۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 1، صفحہ 242، دار الفكر، بيروت)

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی گناہ کے کام کی محفل منعقد کرتا یا لوگوں کو ایسے کام کی طرف بلاتا یا کسی گناہ کے کام پر معاونت کرتا ہے، اس پر نہ صرف اپنا گناہ ہوتا ہے بلکہ جتنے لوگ اس کی وجہ سے اس گناہ کے کام میں شریک ہوں، ان سب کے گناہوں کا وبال بھی اس پر آتا ہے، جبکہ ان لوگوں کے اپنے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص سینما بنا کر لوگوں کو فلم دیکھنے کی ترغیب دے اور فرض کیجئے کہ ایک ہزار لوگ وہاں جمع ہو کر فلم دیکھیں تو ان میں ہر ایک پر ایک ایک گناہ اور سینما بنانے والے پر اپنا ایک اور ان کے مجموعے کے برابر گناہ یعنی کل ایک ہزار ایک گناہ ہوں گے، والعیاذ باللہ تعالیٰ۔ یوں ہی جب جب لوگ وہاں فلمیں دیکھیں گے ان کے اس گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے سینما بنانے والے کو ان سب کے برابر گناہ ملتا رہے گا۔ نیز اس کا یہ بے حیائی کی ترویج کرنا اشاعت فاحشہ ہوگا جو خود شدید وبال اور سخت گناہ کا باعث ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1208
تاریخ اجراء: 6 ذو الحجة الحرام 1447ھ/23 مئی 2026ء