مسجد قبا میں نفل پڑھنے والے کو عمرہ کا ثواب ملے گا ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسجد قبا میں نماز پڑھنے والی فضیلت نفل پڑھنے والے کو بھی ملے گی ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حدیث پاک میں ہے "مسجد قبا میں نماز پڑھنے کا ثواب عمرے کے برابر ہے"، سوال یہ ہے کہ یہ فضیلت فرض نماز کے ساتھ خاص ہے یا نفل نماز کا بھی یہی حکم ہے ؟ رہنمائی فرمادیں۔
جواب
مسجدِ قُبا کے فضائل قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں واضح طور پر بیان ہوئے ہیں، انہیں میں سے ایک فضیلت یہ بیان ہوئی کہ مسجدِ قُبا میں نماز ادا کرنے کا ثواب عمرے کے برابر ہے۔ حدیث پاک میں وارد یہ فضیلت فرض نماز کے ساتھ ساتھ نفل نماز کو بھی شامل ہے کہ حدیث پاک میں بھی اور محدثین نے ان احادیث کی تشریح میں بھی ”الصلاۃ، رکعتین اور رکعات“ وغیرہ کے الفاظ مطلق ہی فرمائے ہیں، جو کہ فرض ونفل دونوں کو شامل ہیں، بلکہ بعض نے نوافل کی باقاعدہ صراحت بھی بیان فرمائی ہے۔
کنز العمال کی حدیث پاک ہے: ”من توضأ فأحسن الوضوء ثم صلى في مسجد قباء ركعتين كانت له عمرة“ ترجمہ: جس نے وضو کیا اور اچھے طریقے سے کیا، پھر مسجد قباء آیا اور اُس میں دو رکعت نماز ادا کی، تو یہ اُس کے لیے ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے۔ (کنز العمال، جلد 12، رقم الحدیث 34969، مؤسسة الرسالة )
اسی طرح ترمذی شریف کی حدیث پاک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”الصلاة في مسجد قباء كعمرة“ ترجمہ: مسجدِ قباء میں نفل نماز کی ادائیگی کا ثواب ایک عمرہ کی مانند ہے۔ (سنن الترمذی، جلد 01، رقم الحدیث 324، دار الغرب الإسلامي، بيروت )
لباب المناسک اور اس کی شرح المسلک المتقسط میں ہے: ”(وصح عنہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان صلاۃ رکعتین فیہ ۔۔۔کعمرۃ) ای کثواب عمرۃ، وفیہ اشارۃ الی ان العمرۃ سنۃ ثم عدد الرکعات التی تقوم مقام العمرۃ رکعتان وفی روایۃ اربع رکعات، ولعلہ محمول علی ان الرکعتین للتحیۃ، وآخرین لمثوبۃ العمرۃ والروایۃ الاولی علی اندراج الاولی فی الاخری“ ترجمہ: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث مروی ہے کہ مسجد قبا میں دو رکعتیں پڑھنا عمرہ کی مثل ہیں، یعنی ان کا ثواب عمرہ کے ثواب کی مثل ہے، اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بے شک عمرہ سنت ہے، پھر رکعات کی تعداد جو عمرہ کے قائم مقام ہو، وہ دو رکعتیں ہیں اور ایک روایت میں چار رکعتیں، اور شاید کہ ان چار رکعات میں سے دو رکعتیں تحیۃ المسجد کی ہوں اور بعد والی دو رکعتیں عمرہ کے ثواب کے لیے اور پہلی روایت (جس میں دورکعت پر فضیلت بیان ہوئی ) کے مطابق تحیۃ المسجد اسی عمرہ کے ثواب والی رکعتوں میں شامل ہے۔ (ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری، صفحہ 572، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اسی طرح التیسیر بشرح الجامع الصغیر میں اس حدیث کی تشریح بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”أي الصلاة الواحدة يعدل ثوابها ثواب عمرة“ ترجمہ: یعنی کوئی سی بھی ایک نماز کا ثواب، عمرے کے ثواب کے برابر ہے۔ (التیسیر بشرح الجامع الصغیر، جلد 02، صفحہ 106، مطبوعہ: الرياض)
نفل نماز کی تصریح کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”بعض روایا ت میں ہے کہ جو مدینہ پاک سے وضو کر کے مسجد قبا جائے وہاں دو نفل پڑھے تو عمرے کا ثواب پائے۔“ (مراۃ المناجیح، جلد 01، صفحہ 408، حسن پبلیشر، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0297
تاریخ اجراء: 08 محرم الحرام 1448 ھ/24 جون 2026ء