حضور ﷺ تمام انبیائے کرام سے افضل ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا حضور صلی اللہ علیہ و سلم تمام انبیائے کرام سے افضل ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم نے سنا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم تمام مخلوق حتی کہ انبیائے کرام سے افضل ہیں؟ اگر ایسا ہے، تو پھر درج ذیل احادیث کا کیا معنی ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔
(1) لا تخيروني من بين الأنبياء“ یعنی مجھے انبیاء كےدرمیان فضیلت مت دو۔ بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ ”لا تفضلوا بين انبیاء اللہ“ یعنی اللہ کے نبیوں کے مابین فضیلت نہ دو۔(صحیح البخاری، حدیث 4638، حدیث 3414)
(2) ایک روایت میں آیا ہے کہ ”لا ينبغي لعبد أن يقول: أنا خير من يونس بن متى“ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یہ کہے: میں یونس بن متی سے افضل ہوں۔ (صحیح المسلم، حدیث 2376)
ایک اور روایت میں یوں ہے کہ ”من قال: أنا خير من يونس بن متى، فقد كذب“ یعنی جو کہے کہ میں حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام سے افضل ہوں، تو اُس نے جھوٹ کہا۔ (صحیح البخاری، حدیث 4604)
جواب
اہلسنت کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم تمام مخلوق حتی کہ انبیائےکرام علیہم السلام کے سردار ہیں اور سب سے افضل و برتر ہیں اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل و برتر ہونا قطعی، یقینی اور اجماعی عقیدہ ہے، جو کہ قرآنِ عظیم اور کئی احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ-مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ﴾ ترجمۂ کنزالعرفان: یہ رسول ہیں ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پرفضیلت عطا فرمائی، ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند ی عطا فرمائی۔ (القرآن، پارہ 3، سورۃ البقرہ، آیت 253)
اس آیت کے تحت تفسیر خازن، تفسیر بغوی، تفسیر بیضاوی، تفسیر سمرقندی اور دیگر کتبِ تفاسیر میں ہے: و النظم للاول: و أجمعت الأمة على أن الأنبياء بعضهم أفضل من بعض وأن نبينا محمد صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم أفضلهم لعموم رسالته۔ ۔ ۔ ﴿وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ﴾ يعني محمدا صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم رفع اللہ منصبه و مرتبته على كافة سائر الأنبياء بما فضله عليهم من الآيات البينات و المعجزات الباهرات فما أوتي نبي من الأنبياء آية أو معجزة إلا أوتي نبينا محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم مثل ذلك و فضل محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم على غيره من الأنبياء بآيات و معجزات أخر“ ترجمہ: اور اُمت کا اس بات پر اجماع ہے کہ بعض انبیائےکرام بعض سے افضل ہیں اور ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں؛ کیونکہ آپ کی رسالت عام ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ﴾ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے منصب اور مرتبے کو تمام انبیائے کرام پر بلند فرمایا، ان روشن نشانیوں اور عظیم معجزات کے سبب جو آپ کو عطا فرمائے۔ پس جس نبی کو بھی کوئی نشانی یا معجزہ عطا کیا گیا، ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ویسا ہی عطا فرمایا گیا، بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کو دیگر انبیاء پر مزید خاص معجزات و نشانیاں بھی عطا ہوئیں۔ (تفسیر خازن، جلد 1، صفحہ 187، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)
تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت میں انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی عظمت و شان کا بیان ہے اور یاد رہے کہ نبی ہونے میں تو تمام انبیائےکرام علیہم الصلاۃ و السلام برابر ہیں اور قرآن میں جہاں یہ آتا ہے کہ ہم ان میں کوئی فرق نہیں کرتے اس سے یہی مراد ہوتا ہے کہ اصلِ نبوت میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں، البتہ ان کے مَراتِب جداگانہ ہیں، خصائص و کمالات میں فرق ہے، ان کے درجات مختلف ہیں، بعض بعض سے اعلیٰ ہیں اور ہمارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سب سے اعلیٰ ہیں، یہی اس آیت کا مضمون ہے اور اسی پر تمام امت کا اجماع ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 379، 380، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
صحیح مسلم، سنن ترمذی، مسند احمد اور سنن ابن ماجہ میں ہے: و النظم للآخر: عن أبي سعيد، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم: «أنا سيد ولد آدم، و لا فخر، و أنا أول من تنشق الأرض عنه يوم القيامة، و لا فخر، و أنا أول شافع، و أول مشفع، و لا فخر، و لواء الحمد بيدي يوم القيامة، و لا فخر“ ترجمہ: حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور کوئی فخر نہیں ۔ قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر شق ہو گی اور کوئی فخر نہیں ۔ سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی اور کوئی فخر نہیں ۔ قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا اور کوئی فخر نہیں۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 2، حدیث: 4308، مطبوعہ دار إحياء الكتب العربية)
اس حدیث پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور تمام نبیوں کے سردار سب سے افضل ہیں، کیونکہ سارے نبی اولاد آدم ہیں اور جب سب نبیوں سے افضل ہوئے تو ساری مخلوق سے افضل ہوئے فرشتے ہوں یا جنات یا کوئی اور مخلوق۔ (مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 8، صفحہ 4، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
سنن دارمی اور مشکوۃ المصابیح میں ہے: و النظم للاول: عن جابر بن عبد اللہ رضي اللہ عنهما أن النبي صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم قال: أنا قائد المرسلين و لا فخر، و أنا خاتم النبيين و لا فخر، و أنا أول شافع وأول مشفع و لا فخر“ ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمام رسولوں کا قائد ہوں، اور کوئی فخر نہیں ہے اور میں خاتم النبیین ہوں، اور کوئی فخر نہیں اور میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی، اور کوئی فخر نہیں۔ (سنن دارمی، جلد 1، حدیث: 50، صفحہ 196، مطبوعہ دار المغني)
المعتقد المنتقد میں ہے: انہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم افضل الخلائق اجمعین، فی الکنز: قد فاق علی کل الانبیاء و الملائکۃ و الانس علی الاطلاق، فی الذات و الصفات و الافعال و الاقوال و الاحوال، بلا استغراب فی ذلک لما حواہ من الکمال، و انفرد بہ من الجلال و الجمال۔ فالواجب علی کل مؤمن ان یعتقد ان نبینا محمداً صلی اللہ علیہ و سلم، سید العالمین و افضل الخلائق اجمعین، فمن اعتقد خلاف ھذا فھو عاص مبتدع ضال“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں۔ الکنز میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء، فرشتوں اور تمام انسانوں پر مطلقاً فضیلت رکھتے ہیں، خواہ ذات میں ہو، صفات میں، افعال میں، اقوال میں یا احوال میں۔ اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو ایسے کامل اوصاف عطا فرمائے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو ایسی شانِ جلال و جمال کے ساتھ ممتاز فرمایا جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوئی۔ لہٰذا ہر مؤمن پر واجب ہے کہ یہ عقیدہ رکھے کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تمام جہانوں کے سردار اور تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں۔ پس جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ گناہگار، بدعتی اور گمراہ ہے۔ (المعتقد المنتقد، صفحہ 139، مطبوعہ مرکز البحث العلمی)
فتاوی رضویہ میں ہے: حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا افضل المرسلین و سید الاولین و الآخرین ہونا قطعی ایمانی، یقینی، اذعانی، اجماعی، ایقانی مسئلہ ہے جس میں خلاف نہ کرے گا مگر گمراہ بد دین بندہ شیاطین۔ (فتاوی رضویہ، جلد 30، صفحہ 131، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سوال میں مذکور احادیث کا درست معنی و محمل:
جن احادیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے انبیاء پر فضیلت دینے سے منع فرمایا ہے، ان احادیث کا درست معنی و محمل درج ذیل ہے:
(1) آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد اس وقت کا ہے، جب آپ کو یہ بتایا نہیں گیا تھا کہ آپ تمام انبیاء سے افضل ہیں اور جب آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتا دیا گیا، تو آپ نے خود ارشاد فرمادیا: میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا۔
(2) آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے دیگر انبیاء پر اس طرح کی فضیلت دینے سے منع فرمایا ہے کہ جو دوسرے نبی کی تنقیص و توہین کو مستلزم ہو، کیونکہ کسی بھی نبی کی تنقیص و توہین کفر ہے۔
(3) آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ایسی فضیلت سے منع فرمایا ہے، جو لڑائی اور جھگڑے کا باعث ہو، جیسا کہ اسی ممانعت والی روایت میں یہ مضمون موجود ہےکہ ایک مسلمان اور یہودی کے درمیان فضیلت پر جھگڑا ہوا، تو اس وقت آپ نے ایسی فضیلت سے منع فرمایا۔
(4) آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد تواضع اور انکساری کے طور پر تھا۔
(5) آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا یہ فرمان نفس نبوت میں دوسرے انبیاء پر فضیلت دینے سے ممانعت کے متعلق تھا کہ نفسِ نبوت کے اعتبار سے کسی نبی کو کسی نبی کے مقابلہ پر فضیلت نہ دو، کیوں کہ اصل مرتبہ نبوت کے اعتبار سے تمام انبیاء برابر ہیں، جبکہ خصائص و کمالات میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سب سے افضل ہیں۔
(6) حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق سوال میں مذکور دونوں روایتوں (لا ينبغي لعبد أن يقول: أنا خير من يونس بن متى) (من قال: أنا خير من يونس بن متى، فقد كذب) میں انا سے مراد عام شخص ہے کہ کسی عام شخص کااپنے آپ کو حضر ت یونس علیہ السلام سے افضل کہنا درست نہیں اور اگر وہ کہے، تو جھوٹا ہے، کیونکہ کوئی بھی امتی خواہ کسی درجے کا ہو، کسی نبی کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔ اگر حدیث پاک میں انا سےحضور صلی الله تعالی علیہ وآلہ و سلم ہی مراد لیے جائیں، تو بھی کوئی اشکال نہیں کہ اس کے بھی وہی معنی ہوں گے، جو اوپر بیان ہوچکے کہ نفس نبوت میں افضل کہنا غلط ہے۔
بالترتیب جزئیات:
جن احادیث مبارکہ میں دیگر انبیاء پر فضیلت دینے سے منع کیا گیا ہے،ان کا معنی بیان کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: (فإن قلت) نبينا محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم- أفضل الأنبياء و المرسلين وقال «أنا سيد ولد آدم ولا فخر» فما وجه قوله «لا تخيروني» أي تفضلوني قلت الجواب عنه من أوجه. الأول أنه قبل أن يعلم أنه أفضلهم فلما علم قال «أنا سيد ولد آدم و لا فخر». الثاني أنه نهى عن تفضيل يؤدي إلى تنقيص بعضهم فإنه كفر. الثالث أنه نهى عن تفضيل يؤدي إلى الخصومة كما في الحديث من لطم المسلم اليهودي الرابع أنه قال تواضعا و نفيا للكبر والعجب. الخامس أنه نهى عن التفضيل في نفس النبوة لا في ذوات الأنبياء عليهم السلام و عموم رسالتهم و زيادة خصائصهم و قد قال تعالى ﴿تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ﴾ و قال ابن التين معنى لا تخيروا بين الأنبياء يعني من غير علم و إلا فقد قال تعالى ﴿تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ﴾
ترجمہ: اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء و مرسلین سے افضل ہیں اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور یہ فخر کے طور پر نہیں کہتا، تو پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان مجھے انبیاء پر فضیلت نہ دو کا کیا مطلب ہے؟ اس کا جواب کئی طرح سے دیا گیا ہے: پہلا یہ کہ یہ فرمان اس وقت کا ہے جب ابھی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو یہ معلوم نہیں کرایا گیا تھا کہ آپ سب سے افضل ہیں، پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اس پر مطلع فرمایا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور یہ فخر کے طور پر نہیں۔ دوسرا یہ کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ایسی فضیلت سے منع فرمایا جو بعض انبیاء کی تنقیص کا سبب بنے کیونکہ یہ کفر ہے۔ تیسرا یہ کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے اس فضیلت سے منع فرمایا جو جھگڑے اور اختلاف کا باعث بنے، جیسا کہ اس حدیث میں ہوا جس میں ایک مسلمان نے ایک یہودی کو تھپڑ مارا تھا۔ چوتھا یہ کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات بطورِ تواضع، عاجزی، اور تکبر و خود پسندی کی نفی کے طور پر فرمائی۔ پانچواں یہ کہ ممانعت اصلِ نبوت میں فضیلت دینے سے متعلق ہے، نہ کہ انبیاء علیہم السلام کی ذوات، ان کی عمومی رسالت، اور ان کی زائد خصوصیات و فضائل میں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ﴾ یعنی یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ اور علامہ ابنِ التین نے فرمایا کہ انبیاء کے درمیان فضیلت نہ دو کا مطلب یہ ہے کہ بغیر علم کے کسی نبی کو کسی پر فضیلت نہ دو، ورنہ انبیاء کرام علیہم السلام کی ایک دوسرے پر فضیلت کو اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمایا ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 12، 250، 251، مطبوعہ دار الفکر بیروت)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح اور النبراس میں ہے: و النظم للاول: لا تفضلوني بين الأنبياء» فجوابه من خمسة أوجه: أحدها: أنه صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم قاله قبل أن يعلم أنه سيد ولد آدم، و الثاني: قاله أدبا و تواضعا. و الثالث: أن المنهي إنما هو عن تفضيل يؤدي إلى تنقيص المفضول. و الرابع: إنما نهى عن تفضيل يؤدي إلى الخصومة و الفتنة. و الخامس: أن النهي مختص بالتفضيل في نفس النبوة و لا تفاضل فيها، و إنما التفاضل في الخصائص و فضائل أخرى، و لا بد من اعتقاد التفضيل“ ترجمہ: مجھے انبیاء کے درمیان فضیلت نہ دو اس حدیث کے پانچ جواب ہیں: پہلا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے یہ ارشاد اس وقت فرمایا تھا جب ابھی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو یہ معلوم نہیں کرایا گیا تھا کہ آپ تمام اولادِ آدم کے سردار ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ادب اور تواضع کے طور پر فرمائی۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ جس فضیلت دینے سے منع فرمایا گیا، اس سے مراد وہ فضیلت ہے جو کسی دوسرے نبی کی تنقیص اور کمی کا سبب بنے۔ چوتھا جواب یہ ہے کہ ممانعت اس فضیلت سے ہے جو جھگڑے اور فتنہ کا باعث بنے۔ پانچواں جواب یہ ہے کہ یہ ممانعت نفسِ نبوت میں فضیلت دینے کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ نبوت کے اصل مرتبہ میں کوئی تفاضل نہیں، بلکہ تفاضل خصوصیات اور دیگر فضائل میں ہوتا ہے، اور ان فضائل میں ایک کو دوسرے پر افضل ماننا ضروری ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 9، صفحہ 3672، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)
مراۃ المناجیح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: یعنی مجھے دوسرے نبیوں پر ایسی بزرگی نہ دو جس سے دوسرے نبی کی توہین ہوجاوے یا جس سے لڑائی جھگڑے کی نوبت آئے یا نفس نبوت میں ترجیح نہ دو۔ (مراۃ المناجیح، جلد 7، صفحہ 423، نعیمی کتب خانہ گجرات)
نوٹ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے افضل الانبیاء ہونے کے متعلق مزید معلومات کے لیے فتاوی رضویہ کی 30 ویں جلد میں موجود رسالہ تَجَلِّی الْیَقِین بِاَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِین (یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم تمام رسولوں کے سردار ہیں) کا مطالعہ فرمائیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0274
تاریخ اجراء: 27 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 15 مئی 2026ء