logo logo
AI Search

کیا کلماتُ اللّٰہ سے حضور ﷺ کی شانیں مراد ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

آیت وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ۔ ۔ الخ میں كَلِمٰتُ اللّٰهِ کی ایک تفسیر

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں كہ قرآن کریم کی آیت ہے: وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِؕ- اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ کیا اس میں كَلِمٰتُ اللّٰهِؕ- سے مراد حضورعلیہ الصلوۃ و السلام کی شانیں لی جاسکتی ہیں؟

جواب

مفسر شہیر، حکیم الامت، مفتی احمد یا خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ آیت میں رب کے کلمات سے مراد حضور علیہ السلام کے فضائل و کمالات اور حضور کے علوم ہیں۔ لہذا سوال میں ذکر کردہ آیت سے حضور علیہ السلام کی شانیں مراد لی جاسکتی ہیں۔

مفسر شہیر، حکیم الامت، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب شان حبیب الرحمن میں مدارج النبوۃ کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ آیت کریمہ بھی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت پاک ہے۔ حضرت شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی نے مدارج النبوت جلد اول باب سوم میں فرمایا کہ اہل تحقیق کے نزدیک رب کے کلمات سے مراد حضور علیہ السلام کے فضائل اور کمالات اور حضور کے علوم ہیں تو آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ اگر دنیا بھر کے نعت خواں اور نعت گو اور واعظین اور کاتبین دو سمندروں کے پانی کی روشنائی لے کر صفات و کمالات مصطفی علیہ الصلوة و السلام لکھیں تو یہ روشنائی ختم ہو جاوے گی مگر حضور کے اوصاف ختم نہ ہوں گے۔ اس آیت میں دو سمندروں کا ذکر ہے مگر دوسری میں اس سے بھی زیادہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہوا وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِؕ- یعنی اگر تمام زمین کے درخت قلم ہو جاویں اور سمندر کے ساتھ سات سمندر اور مل جاویں، پھر بھی رب کے کلمات یعنی صفات حضور علیہ السلام تمام نہ ہوں۔ قربان اس کمالات دینے والے کے اور لینے والے کے صلی اللہ تعالی علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک وسلم شیخ کی اس تفسیر کی دوسری آیات بھی تائید فرماتی ہیں۔ غرضیکہ حضور علیہ السلام کی ہر صفت و ہر کمال عظیم، تو اب کسی انسان اور کسی فرشتے یا جن میں طاقت ہے کہ حضور علیہ السلام کی نعت کا احاطہ کر سکے۔ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔ملخصا" (شان حبیب الرحمن من آیات القرآن، ص 127 - 129، مکتبہ اسلامیہ (طبع جدید)، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5221
تاریخ اجراء: 15 صفر المظفر 1448ھ / 30 جولائی 2026ء