logo logo
AI Search

Hazrat Jibrail Nabi Pakﷺ Ki Bargah Mein Kitni Baar Hazir Hue?

 

حضرت جبریل علیہ السلام، نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام کی بارگاہ میں کتنی بار حاضر ہوئے ؟

مجیب:ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری

فتوی نمبر:WAT-3408

تاریخ اجراء: 28جمادی الاخریٰ 1446ھ/31دسمبر2024ء

دارالافتاء اہلسنت

(دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین  اس مسئلہ کے  بارے میں کہ حضرت جبرائیل علیہ الصلاۃ والسلام حضور نبی رحمت صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کتنی مرتبہ حاضر ہوئے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

حضرت جبریل علیہ السّلام حضور صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں چوبیس ہزار مرتبہ حاضر ہوئے۔

چنانچہ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ہے: ”ان جبريل نزل على النبي صلی اللہ علیہ وسلم اربعة وعشرين الف مرة، وعلى آدم اثنتي عشرة مرة، وعلى ادريس اربعًا، وعلى نوح خمسين، وعلى ابراهيم اثنتين و اربعين مرة، وعلى موسى اربعمائة، وعلى عيسى عشرًا“ ترجمہ: جبریل علیہ السّلام نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں چوبیس ہزار مرتبہ حاضر ہوئے اور حضرت آدم علیہ السّلام کی بارگاہ میں بارہ مرتبہ حاضر ہوئے اور حضرت ادریس علیہ السّلام کی بارگاہ میں چار مرتبہ حاضر ہوئے اور حضرت نوح علیہ السّلام کی بارگاہ میں پچاس مرتبہ حاضر ہوئے اور حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی بارگاہ میں بیالیس مرتبہ حاضر ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی بارگاہ میں چار سو مرتبہ حاضر ہوئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی بارگاہ میں دس مرتبہ حاضر ہوئے۔ (ارشاد الساري لشرح صحيح البخاري، جلد 1، صفحہ 60، مطبوعہ  المطبعة الكبرى الأميرية، مصر)

یہی بات درج ذیل کتب میں حوالہ جات میں بیان کردہ جلد اور صفحہ پر بھی موجود ہے۔ (كوثر المعاني الدراري في كشف خبايا صحيح البخاري، جلد 1، صفحہ 199، مطبوعہ مؤسسة الرسالة، بيروت) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، جلد 1، صفحہ 437، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

اور علامہ محمد امین بن عبد اللہ ارمی، علوی شافعی لکھتے ہیں: ”وفي «الفتاوى الزينية»: سئل عن الوحي الأمين جبريل كم نزل على النبي - ﷺ -؟ أجاب نزل عليه أربعة وعشرين ألف مرة، وعلى سائر الأنبياء لم ينزل أكثر من ثلاثة آلاف مرة. انتهى“ ترجمہ: فتاویٰ زینیہ میں ہے کہ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا گیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر کتنی مرتبہ نازل ہوئے؟ جواب دیا گیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر چوبیس ہزار مرتبہ نازل ہوئے، اور  تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر تین ہزار مرتبہ سے زیادہ نازل نہیں ہوئے۔ انتہی۔ (تفسير حدائق الروح والريحان في روابي علوم القرآن، جلد 20، صفحہ 327، مطبوعہ دار طوق النجاة، بيروت)

مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”حضرت جبرئیل حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں بارہ مرتبہ، حضرت ادریس علیہ السلام کی خدمت میں چار مرتبہ۔ حضرت نوح علیہ السلام کی خدمت میں پچاس مرتبہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں بیالیس مرتبہ، حضرت عیسٰی علیہ السلام کی خدمت میں دس مرتبہ، تین بار بچپنے میں، سات بار بڑے ہونے کے بعد، حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں چار بار حضرت ایوب علیہ السلام کی خدمت میں تین بار، اور سید الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں چوبیس ہزار مرتبہ باریابی سے مشرف ہوئے۔ (نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری ،جلد 1، صفحہ 246-247، مطبوعہ فرید بک سٹال)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم