والدہ کے نانا کے بھائی سے پردہ ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
والدہ کے نانا کے بھائی سے پردے کے احکام
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا امی کے نانا کے بھائی سے پردہ ہے؟
جواب
عورت کا اپنی امی کے سگے نانے کے سگے بھائی سے پردہ نہیں ہے، کہ وہ اس کے لیے محرم ہے، اس لیے کہ امی کے نانا اور اس کے بھائی، دونوں کا والد، عورت کی اصل بعید ہے، اور نانا کا بھائی اس اصل بعید کی فرع قریب ہے، اور اصل بعید کی فرع قریب عورت کے لیے محرم ہوتی ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے حرمت میں چار صورتیں ہیں: ۔ ۔ ۔ چہارم اصل بعید کی فرع قریب جیسے پھوپھی کہ دادا کی بیٹی ہے یا خالہ کے نانا کی یا دادا کی پھوپھی کہ پر دادا کے باپ کی بیٹی ہے یا اس کی خالہ کہ دادا کے نانا کی بیٹی ہے و قس علیہ (اور اسی پر قیاس کر۔) (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 500، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5108
تاریخ اجراء: 20 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 06 جون 2026ء