مسلمان عورت کا غیر مسلم لیڈی ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسلمان عورت کا غیر مسلم عورت سے چیک اَپ کروانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ یوکے (U.k) میں خاتون جب چائلڈ لیبر(Child Labor) میں ہوتی ہے، تو عمومی طور پر ڈلیوری کے لئے خاتون ڈاکٹر غیر مسلم ہوتی ہے، تو کیا ان حالات میں ایک مسلمان عورت غیر مسلم خاتون ڈاکٹر کے سامنے اپنا جسم ظاہر کرسکتی ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں کسی مسلمان خاتون کا غیر مسلم خاتون سے ڈلیوری کروانا یا اس کے سامنے اپنے اَعْضائے ستر کھولنا جائز نہیں ہے، کیونکہ مسلمان خاتون کا کافرہ عورت سے بھی اُسی طرح کا پردہ ہے جس طرح غیرمردسے، یعنی جن اَعْضاء کو اجنبی مرد کے سامنے کھولنا جائز نہیں وہ اَعْضاء غیرمسلم خاتون کے سامنےکھولنا بھی جائز نہیں۔ ہاں اگرواقعتاً ایمرجنسی(Emergency) ہوجائے اور مسلمان دائی (Mid Wife) کی فراہمی ممکن نہ ہو، تو سخت مجبوری کی حالت میں کافِرہ سے یہ خدمت لی جا سکتی ہے۔
جو مسلمان ایسے ممالک میں رہتے ہیں اُن کو پہلے سے ایسے ہسپتال(Hospitals) ذِہن میں رکھنے چاہئیں جہاں مسلمان لیڈی ڈاکٹرز، نرسیں اور دائیاں دستیاب ہو جاتی ہوں، تاکہ بوقتِ ضرورت فوری طور پر اس ہسپتال میں جایا جائے اور کسی غیر مسلم کے سامنے اَعْضائے عورت ظاہر کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ساجد عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Book-188