عورت کا قاضی بننا شرعاً کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا عورت قاضی بن سکتی ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عورت قاضی بن سکتی ہے؟
جواب
عورت کا قاضی بننا جائز نہیں کیونکہ منصبِ قضاء کی ذمہ داریاں اس عہدے کے تقاضوں اور مکمل شرعی پردے کی رعایت کے ساتھ نبھانا اور وہ بھی بالخصوص موجودہ زمانے میں ، تقریباً ناممکن ہے۔ نیز حدود و قصاص کے معاملات میں عورت کی گواہی اور فیصلہ معتبر و مقبول نہیں۔
حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لن یفلح قوم ولو امرھم امرأۃ رواہ الائمۃ احمد والبخاری والترمذی والنسائی عن ابی بکرۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہ“ یعنی ہر گز وہ قوم فلاح نہ پائے گی جنہوں نے کسی عورت کو والی بنایا، اس کو ائمہ کرام احمد وبخاری و ترمذی اور نسائی نے ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ ( صحیح البخاری، جلد2، صفحہ1052، مطبوعہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2604
تاریخ اجرا: 13جمادی الاولٰی1447ھ / 05 نومبر 2025ء