کیا عورت گاؤن پہن سکتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کے لئے گاؤن پہننے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت کالے بٹنوں والا گاؤن پہن سکتی ہے ؟
جواب
اگر کالے بٹنوں والا گاؤن، جس کے متعلق سوال پوچھا جا رہا ہے، وہ اتنا چست ہو کہ اسے پہننے سے جسم یا اعضاے ستر میں سے کسی عضو کا نقشہ کھنچ جاتا ہو، مثلاران یاپنڈلی وغیرہ کی پوری ہیئت نظر آتی ہو، یا اتنا باریک ہو کہ جسم یا اعضاے ستر میں سے کسی عضو کی رنگت واضح ہوتی ہو، اور اس کے اوپر ستر چھپانے کے لیے کوئی قابل ستر لباس بھی نہ پہنا جاتا ہو، تو عورت کے لیے اسے پہننا شرعاً جائز نہیں، اگرچہ زنانہ ہی ہو، کیونکہ ایسا لباس ایک طرح کی بے ستری ہے۔ البتہ! اگر یہ گاؤن زنانہ، اور ڈھیلا ڈھالا، مکمل شرعی پردہ کرنے والا ہو، جسے پہننے سے جسم و اعضا کی رنگت و بناوٹ ظاہر نہ ہوتی ہو، نیز اس میں کوئی اور شرعی خرابی بھی نہ ہو، تو عورت کے لیے ایسا گاؤن پہننا شرعاً جائز ہے۔
صحیح مسلم شریف کی روایت ہے ”عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: صنفان من أهل النار لم أرهما، قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات، رءوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة، ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا“
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوزخیوں کی دو جماعتیں ایسی ہیں، جنہیں میں نے (اپنے زمانے میں) نہیں دیکھا۔ (میرے بعد والے زمانے میں ہوں گی ) ایک جماعت تو وہ لوگ، جن کے پاس بیلوں کی دُموں کی طرح کوڑے ہیں، وہ لوگوں کو اُس سے مارتے ہیں (یعنی ظالم لوگ) اور (ایک جماعت) ایسی عورتوں کی ہوگی جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی، لیکن حقیقت میں بے لباس اور برہنہ ہوں گی، بے حیائی کی طرف دوسروں کو مائل کرنے اور خود مائل ہونے والیاں ہوں گی، اُن کے سر ایسے ہوں گے، جیسے بختی اونٹوں کی ڈھلکی ہو ئی کوہانیں ہوں، یہ جنت میں داخل نہ ہوں گی، اور نہ اس کی خوشبو سونگھیں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے محسوس کی جائے گی۔ (صحیح مسلم، صفحہ 846، رقم الحدیث 2128، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اس حدیث پاک کے تحت "اکمال المعلم بفوائد المسلم" میں ہے ”فيها ثلاثة أوجه: أحدها: كاسيات من نعم اللہ تعالى عاريات من الشكر، الثانى: كاسيات يكشفن بعض جسدهن، ويسبلن الخُمر من ورائهن، فتنكشف صدورهن، فهن كاسيات بمنزلة العاريات، إذا كان لا يستر لباسهن جميع أجسادهن، والثالث: يلبسن ثياباً رقاقًا يصف ما تحتها، فهن كاسيات فى ظاهر الأمر عاريات فى الحقيقة“
ترجمہ: اس میں تین صورتیں ہیں: (1) وہ عورتیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مالا مال ہیں لیکن اللہ کا شکر ادا نہیں کرتیں۔ (2) وہ عورتیں جو لباس تو پہنتی ہیں لیکن بدن کا کچھ حصہ کھول دیتی ہیں، اور اپنے دوپٹے پیچھے کی طرف ڈال لیتی ہیں، جس سے ان کے سینے ظاہر ہو جاتے ہیں، تو وہ بھی لباس پہننے کے باوجود ایسی ہی ہیں، جیسے ننگی ہوں؛ کیونکہ ان کا لباس ان کے جسم کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپتا۔ (3) وہ عورتیں جو باریک اور چست کپڑے پہنتی ہیں، جن سے ان کے جسم کا اندرونی حصہ نمایاں ہوتا ہے، تو وہ ظاہری طور پر تو کپڑے پہنے ہوئے ہیں، لیکن درحقیقت ننگی ہیں۔ (اکمال المعلم بفوائد المسلم، جلد 08، صفحہ 386، مطبوعہ:مصر)
رد المحتارمیں ہے "وفی الذخیرۃ وغیرھا: ان کان علی المراۃ ثیاب فلا باس بان یتامل جسدھا، وھذا اذا لم تکن ثیابھا ملتزقۃ بھا بحیث تصف ماتحتھا ولم یکن رقیقا بحیث یصف ماتحتہ۔۔۔۔اھ۔ وفی التبیین قالوا ولا باس بالتأمل فی جسدھا وعلیھا ثیاب مالم یکن ثوب یبین حجمھا فلا ینظر الیہ حنیئذ لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام من تامل خلف امرأۃ ورأی ثیابھا حتی تبین لہ حجم عظامھا لم یرح رائحۃ الجنۃ ولانہ۔۔۔۔ متی کان یصف یکون ناظرا الی اعضائھا"
ترجمہ: اور ذخیرہ وغیرہ میں ہے کہ اگر عورت نے لباس پہن رکھا ہو، تو اس کے جسم کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، اور یہ اس صورت میں ہے جبکہ لباس اس کے ساتھ اس طرح چمٹا ہوا نہ ہو کہ نیچے والے حصے کو ظاہر کرے، اور نہ اس قدر باریک ہو کہ اس کے نیچے والا حصہ ظاہر ہو۔ اور تبیین میں ہے کہ ائمہ کرام نے فرمایا: جب عورت لباس پہنے ہو، تو اس کے جسم کی طرف دیکھنے میں کچھ حرج نہیں، بشرطیکہ لباس ایسا تنگ اور چست نہ ہو جو اس کے حجم کو ظاہر کرنے لگے، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کی وجہ سے کہ: جس کسی نے عورت کو پیچھے سے دیکھا اور اس کے لباس پر نظر پڑی یہاں تک کہ اس کی ہڈیوں کا حجم واضح اور ظاہر ہو گیا، تو ایسا شخص جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا ۔" اور اس لئے بھی کہ جب لباس سے جسم ظاہر ہو، تو اس لباس کو دیکھنے والا، اعضا کو دیکھنے والا ہوگا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج 09، ص 603، 604، مطبوعہ:کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے ’’یونہی تنگ پائچے بھی نہ چوڑی دار ہوں نہ ٹخنوں سے نیچے، نہ خوب چست بدن سے سلے کہ یہ سب وضع فساق ہے اور ساتر عورت کا ایسا چست ہونا کہ عضو کا پورا انداز بتائے یہ بھی ایک طرح کی بے ستری ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی فرمائی کہ نساء کاسیات عاریات ہوں گی کپڑے پہنے ننگیاں، اس کی وجوہ تفسیر سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کپڑے ایسے تنگ چست ہوں گے کہ بدن کی گولائی فربہی انداز اوپر سے بتائیں گے جیسے بعض لکھنؤ والیوں کی تنگ شلواریں چست کرتیاں ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 162، 163، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”اجنبیہ عورت نے خوب موٹے کپڑے پہن رکھے ہیں کہ بدن کی رنگت وغیرہ نظر نہیں آتی، تو اس صورت میں اس کی طرف نظر کرنا جائز ہے، کہ یہاں عورت کو دیکھنا نہیں ہوا بلکہ ان کپڑوں کو دیکھنا ہوا، یہ اس وقت ہے کہ اس کے کپڑے چست نہ ہوں اور اگر چست کپڑے پہنے ہو کہ جسم کا نقشہ کھنچ جاتا ہو مثلاً چست پائجامہ میں پنڈلی اور ران کی پوری ہیئت نظر آتی ہے تو اس صورت میں نظر کرنا ناجائز ہے۔ اسی طرح بعض عورتیں بہت باریک کپڑے پہنتی ہیں مثلاً آب رواں یا جالی یا باریک ململ ہی کا ڈوپٹا جس سے سر کے بال یا بالوں کی سیاہی یا گردن یا کان نظر آتے ہیں اور بعض باریک تنزیب یا جالی کے کرتے پہنتی ہیں کہ پیٹ اور پیٹھ بالکل نظر آتی ہے اس حالت میں نظر کرنا حرام ہے اور ایسے موقع پر ان کو اس قسم کے کپڑے پہننا بھی ناجائز۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 448، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5199
تاریخ اجراء: 07 صفر المظفر 1448ھ/22 جولائی 2026ء