logo logo
AI Search

عورت کا گردن میں دوپٹہ باندھ کر نماز پڑھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عورت نے دوپٹہ گردن میں ڈال کر گانٹھ لگا کر نماز پڑھی، تو کیا حکم ہوگا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی عورت نے شرعی پردے کے علاوہ الگ سےدوپٹہ گردن میں ڈال کر دونوں طرف سے لٹکایا ہو اور بیچ میں گانٹھ باندھی ہو، تو ایسی صورت میں نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر عورت نے دو پٹہ کو اس طرح لٹکایا کہ نماز میں جو ستر ضروری ہے وہ ہو گیا اور آگے سے گانٹھ باندھ لی تو نماز ہو جائے گی کہ یہ سدل نہیں کیونکہ چادر، شال، دوپٹہ وغیرہ کو کندھوں پر ڈال کر سامنے سے ملائے بغیر چھوڑ دینا سدل ہے ، اگر سامنے ملا دیا مثلاً گانٹھ باندھ لی تو اب یہ سدل نہیں۔

البنایہ شرح ہدایہ میں ہے: ”وفی المغرب: سدل الثوب سدلاً ۔۔۔ إذا أرسله من غير أن يضم جانبيه“ یعنی کپڑے کو لٹکانا اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی کپڑے کے کناروں کو ملائے بغیر لٹکتا چھوڑ دے۔ (بنایہ شرح ھدایہ، جلد4، صفحہ 272، مطبوعہ :بیروت)

بنایہ میں ہی دوسرے مقام پر ہے: ”في صلاة الجلاتی: إذا ضم طرفه أمامه فليس بسدل“ یعنی جب کپڑے کے کناروں کو سامنے سے ملا دیا تو یہ سدل نہیں ہے۔ (بنایہ شرح ھدایہ، جلد 4، صفحہ 446، مطبوعہ:بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2396

تاریخ اجرا: 18صفرالمظفر1447ھ/13اگست2025ء