نامحرم کی موجودگی میں عورت کا تیمم کرکے نماز پڑھنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نامحرم کی وجہ سے عورت تیمم کرکے نماز پڑھے تو اس کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر عورت کو وضو کرنا ہے، لیکن پاس نامحرم موجود ہیں، کہ ان سے اعضائے ستر بچا کر وضو نہیں کر سکتی، جس کی وجہ سے تیمم کر کے نماز پڑھتی ہے، تو کیا بعد میں اس نماز کا اعادہ کرنا ہوگا یا نہیں؟
جواب
دریافت کی گئی صورت میں اس عورت پر دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھنا لازم نہیں ہے، اس لیے کہ ا صول یہ ہے کہ:
"جس عذر کی وجہ سے تیمم کیا گیا ہے، اگر وہ عذر بندے کی طرف سے ہو، تو نماز کا اعادہ لازم ہوتا ہے، لیکن اگر عذر اللہ عزوجل کی طرف سے ہو، بندے کا اس میں کچھ دخل نہ ہو تو ایسے عذر کے سبب تیمم کرکے پڑھی جانے والی نماز کا اعادہ لازم نہیں ہوتا۔"
اور دریافت کردہ صورت میں بھی چونکہ غیر کے سامنے ستر کھولنے سے مانع حیا اور اللہ تعالی کا خوف ہے اور یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں لہذا یہ عذر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا اور اس کی وجہ سے تیمم کرکے نماز پڑھنے پر اس کا اعادہ لازم نہیں ہوگا۔
علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ بحر الرائق میں ارشاد فرماتے ہیں: "أن العذر إن كان من قبل اللہ تعالى لا تجب الإعادة وإن كان من قبل العبد وجبت الإعادة" ترجمہ: عذر اگر اللہ عزوجل کی طرف سے ہو تو نماز کا اعادہ واجب نہیں ہوگا، اور اگر عذر بندے کی طرف سے ہو تو اعادہ واجب ہوگا۔ (بحر الرائق، جلد 1، صفحہ 248، مطبوعہ: کوئٹہ)
رد المحتار میں ہے "أن المرأة بين رجال تتيمم، وقدمنا أن الرجل كذلك، وأن الظاهر أنه لا إعادة عليه ولا عليها؛ لأن المانع شرعي وهو كشف العورة عند من لا يحل له رؤيتها والمانع منه الحياء وخوف اللہ تعالى وهما من اللہ تعالى لا من قبل العباد" ترجمہ: اگر کوئی عورت مردوں کے درمیان ہو تو وہ تیمم کرے گی۔ اسی طرح ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ مرد کا بھی یہی حکم ہے (جب وہ ایسی حالت میں ہو کہ غسل کے لیے ستر کھولنا شرعاً ممکن نہ ہو)۔ اور ظاہر یہی ہے کہ نہ مرد پر بعد میں نماز لوٹانا لازم ہوگا اور نہ عورت پر، کیونکہ یہاں غسل سے مانع ایک شرعی عذر ہے، یعنی ایسے لوگوں کے سامنے ستر کھولنا جن کے لیے اس کا دیکھنا جائز نہیں۔ اور اس سے رکنے کا سبب حیا اور اللہ تعالیٰ کا خوف ہے، اور یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ اوصاف ہیں، نہ کہ بندوں کی طرف سے پیدا کردہ رکاوٹ۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 1، صفحہ 444، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے "اقول: یونہی اگر عورت کو وضو کرنا ہے اور وہاں کوئی نامحرم مرد موجود ہے جس سے چھپا کر ہاتھوں کا دھونا اور سر کا مسح نہیں کر سکتی تیمم کرے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 416، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5103
تاریخ اجراء: 25 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 12 جون 2026ء