logo logo
AI Search

وراثت سے عاق کرنے کی وصیت پوری کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اولاد کو وراثت سے محروم کرنے کی وصیت کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مرنے والے نے وصیت کی کہ: میرے مرنے کے بعد میرے ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کو وراثت سے حصہ مت دینا اور باقی چھ بیٹوں کو حصہ دینا۔ تو اس کی وصیت پوری کی جائے گی کہ نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی طرف سے وارث کے لئے وراثت سے جو حصہ مقرر ہے، وہ جبری حصہ ہے، مرنے والے کی طرف سے وراثت سے محروم کرنے کی وصیت کرنے سے بھی کسی وارث کا حصہ ساقط نہیں ہوتا، لہذا پوچھی گئی صورت میں مرنے والے کی مذکورہ وصیت کا کوئی اعتبار نہیں، تمام ورثا کو ان کا مقررہ حصہ ملے گا۔

العقود الدريہ میں ہے "الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط" یعنی وراثت جبری حق ہےجو ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔ (العقود الدریۃ، جلد 2، صفحہ 43، مطبوعہ: کراچی)

امام اہلسنت علیہ الرحمۃ ارشادفرماتےہیں: رہا باپ کا اسے اپنی میراث سے محروم کرنا، وہ اگر یوں ہو کہ زبان سے لاکھ بار کہے کہ میں نے اسے محروم الارث کیا یا میرے مال میں اس کا کچھ حق نہیں یا میرے ترکہ سے اسے حصہ نہیں دیا جائے گا یا خیالِ جہال کا وہ لفظ بے اصل کہ میں نے اسے عاق کیا یا انہیں مضامین کی لاکھ تحریریں لکھے، رجسٹریاں کرائے یا اپنا کل مال اپنےفلاں وارث یا کسی غیر کو ملنے کی وصیت کر جائے، ایسی ہزار تدبیریں ہوں، کچھ کار گر نہیں، نہ ہر گز وہ ان وجوہ سےمحجوب الارث (وراثت سے محروم) ہو سکے کہ میراث حق مقرر فرمودہ رب العزۃجل و علا (اللہ رب العزۃ جل جلالہ کی طرف سے مقرر کردہ حق) ہے، جو خود لینے والے کے اسقاط (ساقط کرنے) سے ساقط نہیں ہو سکتا، بلکہ جبراً (زبردستی) دلایا جائے گا، اگرچہ وہ لاکھ بار کہتا رہے مجھے اپنی وراثت منظور نہیں، میں حصہ کا مالک نہیں بنتا، میں نے اپنا حق ساقط کیا، پھر دوسرا کیونکر ساقط کر سکتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 18، ص 168، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5098
تاریخ اجراء: 24 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 10 جون 2026ء